یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُحَرِّمُوْا طَیِّبٰتِ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكُمْ وَ لَا تَعْتَدُوْاؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ(۸۷)

اے ایمان والو (ف۲۱۱) حرام نہ ٹھہراؤ وہ ستھری چیزیں کہ اللہ نے تمہارے لیے حلال کیں (ف۲۱۲) اور حد سے نہ بڑھو بے شک حد سے بڑھنے والے اللہ کوناپسند ہیں

(ف211)

شانِ نُزول : صحابہ کرام کی ایک جماعت رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وعظ سن کر ایک روز حضرت عثمان بن مظعون کے یہاں جمع ہوئی اور انہوں نے باہم ترکِ دنیا کا عہد کیا اور اس پر اتفاق کیا کہ وہ ٹاٹ پہنیں گے ، ہمیشہ دن میں روزے رکھیں گے ، شب عبادتِ الٰہی میں بیدار رہ کر گزارا کریں گے ، بستر پر نہ لیٹیں گے ،گوشت اور چکنائی نہ کھائیں گے ، عورتوں سے جُدا رہیں گے ، خوشبو نہ لگائیں گے ۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی اور انہیں اس ارادہ سے روک دیا گیا ۔

(ف212)

یعنی جس طرح حرام کو ترک کیا جاتا ہے اس طرح حلال چیزوں کو ترک نہ کرو اور نہ مبالغۃً کسی حلال چیز کو یہ کہو کہ ہم نے اس کو اپنےاوپر حرام کر لیا ۔

وَ كُلُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ حَلٰلًا طَیِّبًا۪-وَّ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْۤ اَنْتُمْ بِهٖ مُؤْمِنُوْنَ(۸۸)

اور کھاؤ جو کچھ تمہیں اللہ نے روزی دی حلال پاکیزہ اور ڈرو اللہ سے جس پر تمہیں ایمان ہے

لَا یُؤَاخِذُكُمُ اللّٰهُ بِاللَّغْوِ فِیْۤ اَیْمَانِكُمْ وَ لٰكِنْ یُّؤَاخِذُكُمْ بِمَا عَقَّدْتُّمُ الْاَیْمَانَۚ-فَكَفَّارَتُهٗۤ اِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسٰكِیْنَ مِنْ اَوْسَطِ مَا تُطْعِمُوْنَ اَهْلِیْكُمْ اَوْ كِسْوَتُهُمْ اَوْ تَحْرِیْرُ رَقَبَةٍؕ-فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ ثَلٰثَةِ اَیَّامٍؕ-ذٰلِكَ كَفَّارَةُ اَیْمَانِكُمْ اِذَا حَلَفْتُمْؕ-وَ احْفَظُوْۤا اَیْمَانَكُمْؕ-كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اٰیٰتِهٖ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ(۸۹)

اللہ تمہیں نہیں پکڑتا تمہاری غلط فہمی کی قسموں پر (ف۲۱۳) ہاں ان قسموں پر گرفت فرماتا ہے جنہیں تم نے مضبوط کیا (ف۲۱۴) تو ایسی قسم کا بدلہ دس مسکینوں کو کھانا دینا (ف۲۱۵) اپنے گھر والوں کو جو کھلاتے ہو اس کے اوسط میں سے (ف۲۱۶)یااِنہیں کپڑے دینا (ف۲۱۷)یاایک بردہ(غلام) آزاد کرنا تو جو ان میں سے کچھ نہ پائے تو تین دن کے روزے (ف۲۱۸) یہ بدلہ ہے تمہاری قسموں کا جب قسم کھاؤ (ف۲۱۹)اوراپنی قسموںکی حفاظت کرو (ف۲۲۰) اسی طرح اللہ تم سے اپنی آیتیں بیان فرماتا ہے کہ کہیں تم احسان مانو

(ف213)

غلط فہمی کی قَسم یعنی یمینِ لَغویہ ہے کہ آدمی کسی واقعہ کو اپنے خیال میں صحیح جان کر قَسم کھا لے اور حقیقت میں وہ ایسا نہ ہو ایسی قَسم پر کَفّارہ نہیں ۔

(ف214)

یعنی یمینِ منعقدہ پر جو کسی آئندہ امر پر قصد کر کے کھائی جائے ایسی قَسم توڑنا گناہ بھی ہے اور اس پر کَفّارہ بھی لازم ہے ۔

(ف215)

دونوں وقت کا خواہ انہیں کِھلاوے یا پونے دو سیر گیہوں یا ساڑھے تین سیر جَو صدقۂ فطر کی طرح دے

دے ۔(۱)

مسئلہ : یہ بھی جائز ہے کہ ایک مسکین کو دس روز دے دے یا کِھلا دیا کرے ۔

(۱) اسّی روپے بھر کے سیر کے حساب سے فی مسکین کھانے کا وزن پونے دو سیر چار بھر ، یہ اصل وزن ہے مگر احتیاطی حکم یہ ہے کہ اتنے وزن کا جَو جس پیمانے میں سمائے اس پیمانے سے گندم دیا جائے جس کا وزن دو سیر تین چھٹانک اٹھنی بھر ہوتا ہے اور نئے حساب سے دو کلو پینتالیس گرام یہ نصف صاع کا احتیاطی وزن ہے ، تفصیل فتاوٰی رضویہ و بہارِ شریعت میں دیکھیں ، ۱۲ محمد عبد المبین نعمانی قادری ۔

(ف216)

یعنی نہ بہت اعلٰی درجہ کا نہ بالکل ادنٰی بلکہ متوسط ۔

(ف217)

اوسط درجہ کے جن سے اکثر بدن ڈھک سکے ۔ حضرت ابنِ عمر رضی ا للہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک تہبند اور کُرتا یا ایک تہبند اور ایک چادر ہو ۔

مسئلہ : کَفّارہ میں ان تینوں باتوں کا اختیار ہے خواہ کھانا دے ، خواہ کپڑے ، خواہ غلام آزاد کرے ہر ایک سے کَفّارہ ادا ہو جائے گا ۔

(ف218)

مسئلہ : روزہ سے کَفّارہ جب ہی ادا ہو سکتا ہے جب کہ کھانا ، کپڑا دینے اور غلام آزاد کرنے کی قدرت نہ ہو ۔

مسئلہ : یہ بھی ضروری ہے کہ یہ روزے متواتر رکھے جائیں ۔

(ف219)

اور قَسم کھا کر توڑ دو یعنی اس کو پورا نہ کرو ۔

مسئلہ : قسم توڑنے سے پہلے کَفّارہ دینا درست نہیں ۔

(ف220)

یعنی انہیں پورا کرو اگر اس میں شرعاً کوئی ہرج نہ ہو اور یہ بھی حفاظت ہے کہ قَسم کھانے کی عادت ترک کی جائے ۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَ الْمَیْسِرُ وَ الْاَنْصَابُ وَ الْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ(۹۰)

اے ایمان والو شراب اور جُوااور بُت اور پانسے ناپاک ہی ہیں شیطانی کام تو ان سے بچتے رہنا کہ تم فلاح پاؤ

اِنَّمَا یُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ اَنْ یُّوْقِعَ بَیْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَآءَ فِی الْخَمْرِ وَ الْمَیْسِرِ وَ یَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ وَ عَنِ الصَّلٰوةِۚ-فَهَلْ اَنْتُمْ مُّنْتَهُوْنَ(۹۱)

شیطان یہی چاہتا ہے کہ تم میں بَیر اور دشمنی ڈلوا دے شراب اور جوئے میں اور تمہیں اللہ کی یاد اور نماز سے روکے (ف۲۲۱) تو کیا تم باز آئے

(ف221)

اس آیت میں شراب اور جوئے کے نتائج اور وبال بیان فرمائے گئے کہ شراب خواری اور جوئے بازی کا ایک وبال تو یہ ہے کہ اس سے آپس میں بُغض اور عداوتیں پیدا ہوتی ہیں اور جو ان بدیوں میں مبتلا ہو وہ ذکرِ الٰہی اور نماز کے اوقات کی پابندی سے محروم ہو جاتا ہے ۔

وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ احْذَرُوْاۚ-فَاِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّمَا عَلٰى رَسُوْلِنَا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ(۹۲)

اور حکم مانو اللہ کا اور حکم مانو رسول کا اور ہوشیار رہو پھر اگر تم پھر جاؤ (ف۲۲۲) تو جان لو کہ ہمارے رسول کا ذمہ صرف واضح طور پر حکم پہنچادینا ہے(ف۲۲۳)

(ف222)

اطاعتِ خدا اور رسول سے ۔

(ف223)

یہ وعید و تہدید ہے کہ جب رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حکمِ الٰہی صاف صاف پہنچا دیا تو ان کا جو فرض تھا اداہو چکا اب جو اعراض کرے وہ مستحقِ عذاب ہے ۔

لَیْسَ عَلَى الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جُنَاحٌ فِیْمَا طَعِمُوْۤا اِذَا مَا اتَّقَوْا وَّ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ثُمَّ اتَّقَوْا وَّ اٰمَنُوْا ثُمَّ اتَّقَوْا وَّ اَحْسَنُوْاؕ-وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ۠(۹۳)

جو ایمان لائے اور نیک کام کیے ان پر کچھ گناہ نہیں ہے(ف۲۲۴) جو کچھ انہوں نے چکھا جب کہ ڈریں اور ایمان رکھیں اور نیکیاں کریں پھر ڈریں اور ایمان رکھیں پھر ڈریں اور نیک رہیں اور اللہ نیکوں کو دوست رکھتا ہے (ف۲۲۵)

(ف224)

شانِ نُزول : یہ آیت ان اصحاب کے حق میں نازل ہوئی جو شراب حرام کئے جانے سے قبل وفات پا چکے تھے ۔ حرمتِ شراب کا حکم نازل ہونے کے بعد صحابۂ کرام کو ان کی فکر ہوئی کہ ان سے اس کا مؤاخذہ ہو گا یا نہ ہو گا ان کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی اور بتایا گیا کہ حرمت کا حکم نازل ہونے سے قبل جن نیک ایمانداروں نے کچھ کھایا پیا وہ گنہگار نہیں ۔

(ف225)

آیت میں لفظِ ” اِتَّقُوْا ”جس کے معنٰی ڈرنے اور پرہیز کرنے کے ہیں تین مرتبہ آیا ہے پہلے سے شرک سے ڈرنا اور پرہیز کرنا ، دوسرے سے شراب اور جوئے سے بچنا ، تیسرے سے تمام محرَّمات سے پرہیز کرنا مراد ہے ۔ بعض مفسِّرین کا قول ہے کہ پہلے سے ترکِ شرک ، دوسرے سے ترکِ معاصی و محرَّمات ، تیسرے سے ترکِ شبہات مراد ہے ۔ بعض کا قول ہے کہ پہلے سے تمام حرام چیزوں سے بچنا اور دوسرے سے اس پر قائم رہنا اور تیسرے سے زمانۂ نُزولِ وحی میں یا اس کے بعد جو چیزیں منع کی جائیں ان کو چھوڑ دینا مراد ہے ۔ (مدارک و خازن و جمل وغیرہ)