أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

‌قُل لَّاۤ اَجِدُ فِىۡ مَاۤ اُوۡحِىَ اِلَىَّ مُحَرَّمًا عَلٰى طَاعِمٍ يَّطۡعَمُهٗۤ اِلَّاۤ اَنۡ يَّكُوۡنَ مَيۡتَةً اَوۡ دَمًا مَّسۡفُوۡحًا اَوۡ لَحۡمَ خِنۡزِيۡرٍ فَاِنَّهٗ رِجۡسٌ اَوۡ فِسۡقًا اُهِلَّ لِغَيۡرِ اللّٰهِ بِهٖ‌‌ۚ فَمَنِ اضۡطُرَّ غَيۡرَ بَاغٍ وَّلَا عَادٍ فَاِنَّ رَبَّكَ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ ۞

ترجمہ:

آپ کہیے کہ میری طرف جو وحی کی گئی ہے میں اس میں کسی کھانے والے پر ان چیزوں کے سوا اور کوئی چیز حرام نہیں پاتا : وہ مردار ہو یا بہا ہوا خون ہو ‘ یاخنزیر کا گوشت ہو کیوں کہ وہ نجس ہے تو یا بہ طور نافرمانی کے اس پر (ذبح کے وقت) غیر اللہ کا نام پکارا گیا ہو ‘ سو جو شخص مجبور ہو اور نہ وہ سرکشی کرنے والا ہو نہ حد سے بڑھنے والا ہو تو بیشک آپ کا رب بہت بخشنے والا بےحد رحم فرمانے والا ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آپ کہیے کہ میری طرف جو وحی کی گئی ہے میں اس میں کسی کھانے والے پر ان چیزوں کے سوا اور کوئی چیز حرام نہیں پاتا : وہ مردار ہو یا بہا ہوا خون ہو ‘ یاخنزیر کا گوشت ہو کیوں کہ وہ نجس ہے تو یا بہ طور نافرمانی کے اس پر (ذبح کے وقت) غیر اللہ کا نام پکارا گیا ہو ‘ سو جو شخص مجبور ہو اور نہ وہ سرکشی کرنے والا ہو نہ حد سے بڑھنے والا ہو تو بیشک آپ کا رب بہت بخشنے والا بےحد رحم فرمانے والا ہے۔ (الانعام : ١٤٥) 

قرآن اور حدیث میں حرام کیے ہوئے طعام کی تفصیل : 

زمانہ جاہلیت میں کفار اور مشرکین بعض اشیاء کو از خود حلال کہتے ہیں اور بعض اشیاء کو از خود حرام کہتے ‘ اللہ تعالیٰ نے ان کا رد فرمایا کہ کسی چیز کا حلال کرنا اور کسی چیز کا حرام کرنا صرف وحی سے معلوم ہوتا ہے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرمایا کہ آپ کہئے کہ مجھ پر جو وحی کی گئی ہے اس میں صرف چار چیزیں حرام کی گئی ہیں ‘ وہ چار چیزیں یہ ہیں۔ مردار ‘ بہا ہوا خون ‘ خنزیر کا گوشت اور جس جانور پر ذبح کے وقت غیر اللہ کا نام پکارا گیا ہو۔ انکی تفسیر ہم البقرہ : ١٧٣ اور المائدہ : ٣ میں تفصیل سے کرچکے ہیں ‘ ان کا وہاں مطالعہ فرمائیں۔ یہ سورت مکی ہے ‘ اس لیے اس میں صرف ان چار چیزوں کا ذکر فرمایا ہے بعد میں نازل ہونے والی سورتوں میں اور بھی کئی چیزوں کو اللہ تعالیٰ نے حرام فرمایا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی کئی جانوروں کو حرام فرمایا ہے ‘ بعض دیگر جانوروں اور شراب کی حرمت کا بیان المائدہ میں ہے : 

(آیت) ” حرمت علیکم المیتۃ والدم ولحم الخنزیر وما اھل لغیر اللہ بہ والمنخنقۃ والموقوذۃ والمتردیۃ والنطیحۃ وما اکل السبح الا ما ذکیتم وما ذبح علی النصب وان تستقسموا بالازلام ذلکم فسق “۔ (المائدہ : ٣) 

ترجمہ : تم پر یہ حرام کیے گئے ہیں۔ مردار ‘ خون ‘ خنزیر کا گوشت ‘ جو غیر اللہ کے نام پر ذبح کیا گیا ہو ‘ جس کا گلا گھونٹا گیا ہو ‘ جو کسی ضرب سے دب کر مرا ہوا ‘ اوپر سے گرا ہو ‘ سینگ مارا ہوا ہو اور جس کو درندہ نے کھایا ہو ‘ البتہ ! ان میں سے جس کو تم نے ذبح کرلیا اور جو بتوں کے تھان پر ذبح کیا گیا ہو اور جوئے کے تیروں سے اپنی قسمت معلوم کرنا بھی تم پر حرام کیا گیا ہے۔ یہ سب کام گناہ ہیں۔ 

(آیت) ” یایھا الذین امنوا انما الخمر والمیسر والانصاب والازلام رجس من عمل الشیطن فاجتنوہ لعلکم تفلحون۔ (المائدہ : ٩٠) 

ترجمہ : اے ایمان والو ! خمر (شراب) جوا ‘ بتوں کے چڑھا ووں کی جگہ اور بتوں کے پاس فال نکالنے کے تیر محض ناپاک ہیں ‘ ان سے اجتناب کرو تاکہ کامیاب ہوجاؤ۔ 

اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی کئی جانوروں کو حرام فرمایا ہے۔ 

حضرت ابو ثعلبہ خشنی (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہر کچلیوں والے درندے کو کھانے سے منع فرمایا ہے۔ (صحیح البخاری ‘ ج ٧‘ رقم الحدیث : ٥٧٨٠‘ ٥٧٨١‘ صحیح مسلم ‘ الصید والذبائح ‘ ١٢‘ (١٩٣٢) ‘ ٤٩٠٣) 

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے ہر کچلیوں والے درندے اور ہر ناخن والے پرندے سے منع فرمایا۔ 

(صحیح مسلم ‘ الصید والذبائح ‘ ١٦ (١٩٣٤) ٤٩٠٨‘ سنن ابو داؤد ‘ ج ٣‘ رقم الحدیث :‘ ٣٨٠٣‘ سنن ابن ماجہ ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ٣٢٣٣‘ موطا امام مالک ‘ رقم الحدیث : ١٠٧٥) 

حضرت ابو ثعلبہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پالتو گدھوں کے گوشت کو حرام فرما دیا۔ 

(صحیح البخاری ‘ ج ٦‘ رقم الحدیث :‘ ٥٥٢٧‘ ـصحیح مسلم ‘ الصید والذبائح ‘ ٢٣ (١٩٣٦) ٤٩٢٠‘ سنن النسائی ‘ ج ٧‘ رقم الحدیث :‘ ٤٩٣٤) 

حضرت عبدالرحمن بن شبل (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے گوہ کا گوشت کھانے سے منع فرما دیا۔ (سنن ابوداؤد ‘ ج ٣‘ رقم الحدیث :‘ ٣٧٩٦) 

حضرت عبداللہ بن عمر بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تمہارے لیے دو مردار اور دو خون حلال کیے گئے ہیں۔ دو مردار مچھلی اور ٹڈی ہیں اور دو خون کلیجی اور تلی ہیں۔ 

(سنن ابن ماجہ ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ٣٣١٤‘ مسند احمد ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ٥٧٢٧) 

حضرت جابر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جن جانوروں کو سمندر پھینک دے ‘ یا جن سے پیچھے ہٹ جائے ان کو کھالو اور جو جانور سمندر میں مرجائیں اور مر کر اوپر آجائیں ان کو نہ کھاؤ۔ 

(سنن ابوداؤد ج ٣‘ رقم الحدیث :‘ ٣٨١٥‘ سنن ابن ماجہ ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ٣٢٤٧) 

کاٹنے والے کتے ‘ سانپ ‘ بچھو ‘ چیل اور کوے کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حرم اور غیر حرم میں قتل کرنے کا حکم دیا ہے۔ (صحیح البخاری ج ٢‘ رقم الحدیث : ١٢٨٢) اس لیے ان کو کھانا بھی حرام ہے۔ 

حشرات الارض اور بول وبراز اور دیگر ہر قسم کی نجاست کے حرام ہونے پر تمام امت مسلمہ کا اجماع ہے۔ 

مچھلی کو کھانا بالاتفاق حلال ہے اور مچھلی کے علاوہ باقی دریائی جانوروں میں اختلاف ہے۔ امام ابوحنیفہ کے نزدیک وہ حرام ہیں ‘ کیونکہ وہ سب خبیث ہیں ‘ یعنی طبع سلیم ان سے متنفر ہوتی ہے اور خبیث چیزوں کو اللہ تعالیٰ نے حرام کردیا ہے۔ (ھدایہ اخیرین ‘ ص ٤٤٢) 

(آیت) ” ویحل لھم الطیبت ویحرم علیہم الخبئث “۔ (الاعراف : ١٥٧) 

ترجمہ : اور وہ ان کے لیے پاک اور مرغوب چیزوں کو حلال کرتے ہیں اور ناپاک اور نفرت انگیز چیزوں کو ان پر حرام کرتے ہیں۔ 

امام مالک کے نزدیک تمام سمندری جانور حلال ہیں ‘ ماسوا ان کے جن کی مثل خشکی میں حرام ہیں۔ مثلا خنزیر (حاشیہ الدسوقی ‘ ج ٢‘ ص ١١٥) امام احمد کے نزدیک بھی مچھلی سمیت تمام جانور حلال ہیں۔ البتہ انکے نزدیک مینڈک کو کھانا جائز نہیں ہے ‘ کیونکہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو قتل کرنے سے منع فرمایا ہے۔ (سنن النسائی) اور یہ اس کی تحریم کی دلیل ہے اور مگر چھ اور کو سج (ایک قسم کی مچھلی جس کی سونڈ پر آرا ہوتا ہے) کو کھانا بھی جائز نہیں ہے ‘ کیونکہ یہ دونوں آدمیوں کو کھا جاتا ہے۔ (مغنی ابن قدامہ ‘ ج ٩‘ ص ٣٣٨‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت) امام شافعی کے نزدیک مینڈک کے سوا تمام سمندری جانوروں کو کھانا جائز ہے اور بعض ائمہ شافعیہ نے مینڈک کے کھانے کو بھی جائز کہا ہے۔ (المہذب ‘ ج ٢‘ ص ٢٥٠) 

ائمہ ثلاثہ کی دلیل قرآن مجید کی یہ آیت ہے : 

(آیت) ” احل لکم صید البحر وطعامہ متاعالکم وللسیارۃ “۔ (المائدہ : ٩٦) 

ترجمہ : تمہارے اور مسافروں کے فائدہ کے لیے سمندر کا شکار اور اس کا طعام حلال کردیا گیا ہے۔ 

اور اس حدیث سے بھی ان کا استدلال ہے : 

حضرت ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا کہ ہم سمندر میں سفر کرتے ہیں اور ہمارے پاس پانی کم ہوتا ہے۔ اگر ہم اس پانی سے وضو کرلیں تو پیاسے رہ جائیں گے ‘ کیا ہم سمندر کے پانی سے وضو کرلیں ؟ آپ نے فرمایا سمندر کا پانی پاک کرنے والا ہے اور اس کا مردار حلال ہے۔ 

(سنن الترمذی ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ٦٩‘ سنن ابوداؤد ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ٨٣‘ سنن النسائی ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ٥٠‘ سنن ابن ماجہ ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ٣٨٦‘ موطا امام مالک ‘ رقم الحدیث :‘ ٤٣‘ المستدرک ‘ ج ١‘ ص ١٤٠‘ صحیح ابن حبان ‘ رقم الحدیث :‘ ١٢٤٣‘ المنتقی ‘ رقم الحدیث :‘ ٤٣‘ مسنداحمد ‘ ج ٣‘ رقم الحدیث :‘ ٧٢٣٧‘ طبع جدید ‘ مسند احمد ‘ ج ٢‘ ص ٢٣٧‘ طبع قدیم) 

علامہ ابن قدامہ نے کہا ہے کہ عطاء اور عمرو اور عمرو بن دینار سے روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے ابن آدم کے لیے سمندر میں ہر چیز کو ذبح کردیا ہے۔ (المغنی ‘ ج ٩‘ ص ٣٣٨‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ‘ ١٤٠٥ ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 6 الأنعام آیت نمبر 145