امام احمد رضا اور افراد سازی

“کون کہتا ہے ، “امام احمد رضا نے کتابیں لکھیں اور افراد سازی نہیں کی“.

تنگ نظر ہیں وہ

یا فہم کا فتور ہے جو ایسا کہتے ہیں.

اس نے تنہا وہ افراد پیدا کیے، جو سیکڑوں مل کر بھی پیدا نہیں کر سکے. اس کا ہر فرد ایک ادارہ تھا،

ایک یونیورسٹی تھی.

صدر الشریعہ جیسا مدرس کس نے دیا…؟

صدر الافاضل جیسا مدبر کس نے دیا.. .؟

ملک العلما جیسا محدث کس نے بنایا…؟

محدث اعظم جیسا مناظر کس کا کاشتہ ہے …؟

عبدالعلیم جیسا مبلغ اسلام کس کا پرداختہ ہے…؟

حجةالاسلام جیسا مفکر کس کا پروردہ ہے…؟

مفتی اعظم جیسا فقیہ کس کا تراشیدہ ہے…؟

قاضی عبد الوحید فردوسی جیسا مجاہد کس کا تربیت یافتہ ہے ..؟

حاجی لعل محمد مدراسی جیسا اسلامی تاجر کس کی دعاؤں کا پیکر جمیل ہے….؟

کیا کیا کہوں…؟

کس کس کا نام لوں …؟

یہاں تو : ایں خانہ ہمہ آفتاب است – کا معاملہ ہے.

بلا شبہ وہ ایک تھا لیکن احیائے اسلام کی مکمل تحریک تھا.شخصیت ایک تھی مگر شخصیت ساز تھی،

افراد گر تھی.”.

✏غلام جابر شمس مصباحی✏

📝سال نامہ ”یادگار رضا“ 2015📝