أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

سَيَـقُوۡلُ الَّذِيۡنَ اَشۡرَكُوۡا لَوۡ شَآءَ اللّٰهُ مَاۤ اَشۡرَكۡنَا وَلَاۤ اٰبَآؤُنَا وَلَا حَرَّمۡنَا مِنۡ شَىۡءٍ‌ ؕ كَذٰلِكَ كَذَّبَ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ حَتّٰى ذَاقُوۡا بَاۡسَنَا‌ ؕ قُلۡ هَلۡ عِنۡدَكُمۡ مِّنۡ عِلۡمٍ فَتُخۡرِجُوۡهُ لَـنَا ؕ اِنۡ تَتَّبِعُوۡنَ اِلَّا الظَّنَّ وَاِنۡ اَنۡـتُمۡ اِلَّا تَخۡرُصُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اب مشرک یہ کہیں گے کہ اگر اللہ چاہتا تو نہ ہم شرک کرتے اور نہ ہمارے باپ دادا اور نہ ہم کسی چیز کو حرام قرار دیتے، اسی طرح ان سے پہلے لوگوں نے بھی تکذیب کی تھی حتی کہ انہوں نے ہمارا عذاب چکھا، آپ کہیے کیا تمہارے پاس کوئی علم ہے ؟ (اگر ہے تو) اس کو ہمارے سامنے پیش کرو تم صرف ظن کی پیروی کرتے ہو اور تم محض اٹکل پچو سے بات کرتے ہو۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اب مشرک یہ کہیں گے کہ اگر اللہ چاہتا تو نہ ہم شرک کرتے اور نہ ہمارے باپ دادا اور نہ ہم کسی چیز کو حرام قرار دیتے، اسی طرح ان سے پہلے لوگوں نے بھی تکذیب کی تھی حتی کہ انہوں نے ہمارا عذاب چکھا، آپ کہیے کیا تمہارے پاس کوئی علم ہے ؟ (اگر ہے تو) اس کو ہمارے سامنے پیش کرو تم صرف ظن کی پیروی کرتے ہو اور تم محض اٹکل پچو سے بات کرتے ہو۔ (الانعام : ١٤٨) 

مشرکین کے شبہات کا جواب : 

مجاہد نے کہا کہ کفار قریش نے کہا کہ اگر اللہ چاہتا تو ہم اور ہمارے دادا شرک نہ کرتے اور نہ وہ بحیرہ ‘ سائبہ اور وصیلہ وغیرہ کو حرام قرار دیتے۔ اس کا معنی یہ ہے کہ اگر اللہ چاہتا تو ہمارے آباء و اجداد کی طرف رسول بھیجتا ‘ جو انکو شرک سے منع کرتا اور ان جانوروں کو حرام قرار دینے سے منع کرتا اور وہ ان کاموں سے رک جاتے ‘ پھر ہم بھی ان کی اتباع کرتے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا رد کیا اور فرمایا تمہارے پاس کیا دلیل ہے کہ جس طرح تم کہہ رہے ہو ماضی میں ایسا ہی ہوا تھا اگر تمہارے پاس کوئی دلیل ہے تو اس کو پیش کرو۔ 

اللہ تعالیٰ نے ان کے اس شبہ کو رد فرمایا ‘ اسی طرح ان سے پہلے لوگوں نے بھی تکذیب کی تھی ‘ حتی کہ انہوں نے ہمارا عذاب چکھا۔ یعنی جس طرح کفار مکہ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اللہ تعالیٰ کی توحید پر دیئے ہوئے دلائل کی تکذیب کی ہے ‘ اسی طرح پہلے بھی مشرکین نے اپنے رسولوں کی تکذیب کی تھی اور اس کی بنیاد بھی کوئی علم اور عقل کی دلیل نہیں تھی۔ وہ بھی محض ظن اور اٹکل پچو سے اپنے رسولوں کی تکذیب کرتے تھے اور اگر ان کا یہ قول صحیح ہوتا تو اللہ تعالیٰ ان پر اپنا عذاب کیوں نازل فرماتا اور ان کو صفحہ ہستی سے کیوں مٹا دیتا ‘ یعنی جب انہوں نے رسولوں کی تکذیب کی تو ان پر عذاب آیا اور یہ اس کی دلیل ہے کہ اللہ نے انکی طرف رسول بھیجے تھے، جنہوں نے انکو شرک اور خود ساختہ تحریم سے منع فرمایا تھا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 6 الأنعام آیت نمبر 148