أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قُلۡ فَلِلّٰهِ الۡحُجَّةُ الۡبَالِغَةُ‌ ۚ فَلَوۡ شَآءَ لَهَدٰٮكُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ ۞

ترجمہ:

آپ کہیے کہ قوی دلیل تو صرف اللہ ہی کے پاس ہے پس اگر اللہ چاہتا تو وہ ضرور تم سب کو ہدایت دے دیتا۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آپ کہیے کہ قوی دلیل تو صرف اللہ ہی کے پاس ہے پس اگر اللہ چاہتا تو وہ ضرور تم سب کو ہدایت دے دیتا۔ (الانعام : ١٤٩) 

جبریہ کا رد اور ابطال : 

اس آیت کا معنی یہ ہے کہ ایسی دلیل جو تمام شکوک و شبہات کو بیخ وبن سے اکھاڑ دے ‘ صرف اللہ ہی کے پاس ہے۔ اس آیت میں یہ تنبیہ ہے کہ اللہ واحد ہے ‘ اس نے رسولوں کو دلائل اور معجزات دے کر بھیجا اور ہر مکلف پر اپنے احکام کو لازم کیا ہے اور ان کو مکلف کرنے کے لیے یہ کافی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کام کرنے یا نہ کرنے کا اختیار دیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی حکمت یہی ہے کہ بندے اپنے اختیار سے اس پر ایمان لائیں اور اس کے احکام کی تعمیل کریں ‘ ورنہ اگر وہ چاہتا تو جبرا سب انسانوں کو مومن بنا دیتا ‘ لیکن یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت میں نہیں ہے۔ اس لیے ان کا یہ کہنا بالکل لغو ہے کہ اگر چاہتا تو ہم شرک کرتے ‘ نہ مومن بنا دیتا ‘ لیکن یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت میں نہیں ہے۔ اس لیے ان کا یہ کہنا بالکل لغو کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو ہم شرک کرتے ‘ نہ ہمارے باپ دادا ‘ نہ وہ بحائر وغیرہ کو حرام قرار دیتے ‘ کیونکہ اس قسم کا ایمان اللہ تعالیٰ کا مطلوب نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ یہ چاہتا ہے کہ لوگ اپنی عقل سے کام لیں ‘ حق اور باطل کو جانچیں ‘ کھرے اور کھوٹے کو پرکھیں۔ انبیاء (علیہم السلام) کی تعلیمات اور شیطان کے وسوسوں میں فرق محسوس کریں اور اپنے اختیار سے برے کاموں اور بری باتوں کو ترک کریں اور شیطان کا انکار کرکے اللہ پر ایمان لانے کو اختیار کریں ‘ وہ جس چیز کو اختیار کریں گے ‘ اللہ اسی چیز کو پیدا کردے گا۔ ان آیتوں میں یہ دلیل بھی ہے کہ اللہ نے انسان کو مجبور محض نہیں بنایا ‘ مختار بنایا ہے اور ان میں جبریہ کے مذہب کا رد ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 6 الأنعام آیت نمبر 149