أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قُلۡ هَلُمَّ شُهَدَآءَكُمُ الَّذِيۡنَ يَشۡهَدُوۡنَ اَنَّ اللّٰهَ حَرَّمَ هٰذَا ‌ۚ فَاِنۡ شَهِدُوۡا فَلَا تَشۡهَدۡ مَعَهُمۡ‌‌ ۚ وَلَا تَتَّبِعۡ اَهۡوَآءَ الَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَالَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَةِ وَهُمۡ بِرَبِّهِمۡ يَعۡدِلُوۡنَ ۞

ترجمہ:

آپ کہیے کہ تم اپنے ان گواہوں کو پیش کرو جو یہ گواہی دیں کہ اللہ نے اس کو حرام کیا ہے، پس اگر وہ یہ (جھوٹی) گواہی دیں تو (اے مخاطب) تم ان کے ساتھ گواہی نہ دینا اور نہ ان لوگوں کی نفسانی خواہشوں کی پیروی کرنا جنہوں نے ہماری آیات کی تکذیب کی ہے اور جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اور جو (دوسروں کو) اپنے رب کے برابر قرار دیتے ہیں۔ ؏

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آپ کہیے کہ تم اپنے ان گواہوں کو پیش کرو جو یہ گواہی دیں کہ اللہ نے اس کو حرام کیا ہے، پس اگر وہ یہ (جھوٹی) گواہی دیں تو (اے مخاطب) تم ان کے ساتھ گواہی نہ دینا اور نہ ان لوگوں کی نفسانی خواہشوں کی پیروی کرنا جنہوں نے ہماری آیات کی تکذیب کی ہے اور جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اور جو (دوسروں کو) اپنے رب کے برابر قرار دیتے ہیں۔ (الانعام : ١٥٠) 

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ حکم دیا ہے کہ وہم مشرکین سے یہ مطالبہ کریں کہ وہ جو یہ دعوی کرتے ہیں کہ بحیرہ ‘ سائبہ وغیرہ کو اللہ تعالیٰ نے حرام کیا ہے ‘ وہ اس پر کوئی گواہ لائیں اور کوئی شہادت پیش کریں ‘ کہ اللہ تعالیٰ نے فلاں نبی پر اس حکم کو نازل کیا تھا یا فلاں کتاب میں یہ حکم نازل ہوا ہے اور اگر بالفرض وہ کوئی جھوٹی شہادت پیش کردیں تو اے مسلمانو ! تم ان کو تصدیق نہ کرنا اور جو لوگ فوائد اور منافع کے حصول اور مصائب اور نقصانات سے بچنے کے معاملہ میں اپنے بتوں اور جھوٹے معبودوں کو اپنے رب کے برابر قرار دیتے ہیں ‘ ان کی موافقت نہ کرنا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 6 الأنعام آیت نمبر 150