یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَیَبْلُوَنَّكُمُ اللّٰهُ بِشَیْءٍ مِّنَ الصَّیْدِ تَنَالُهٗۤ اَیْدِیْكُمْ وَ رِمَاحُكُمْ لِیَعْلَمَ اللّٰهُ مَنْ یَّخَافُهٗ بِالْغَیْبِۚ-فَمَنِ اعْتَدٰى بَعْدَ ذٰلِكَ فَلَهٗ عَذَابٌ اَلِیْمٌ(۹۴)

اے ایمان والو ضرور اللہ تمہیں آزمائے گا ایسے بعض شکار سے جس تک تمہارے ہاتھ اورنیزے پہونچیں (ف۲۲۶)کہ اللہ پہچان کرادے ان کی جو اس سے بن دیکھے ڈرتے ہیں پھر اس کے بعد جو حد سے بڑھے (ف۲۲۷) اس کے لیے دردناک سزا ہے

(ف226)

۶ ؁ ہجری جس میں حُدیبیہ کا واقعہ پیش آیا ، اس سال مسلمان مُحْرِم (احرام پوش) تھے اس حالت میں وہ اس آزمائش میں ڈالے گئے کہ وُحوش و طیور بکثرت آئے اور ان کی سواریوں پر چھا گئے ، ہاتھ سے پکڑنا ، ہتھیار سے شکار کر لینا بالکل اختیا رمیں تھا ، اللہ تعالٰی نے یہ آیت نازل فرمائی اور اس آزمائش میں وہ بفضلِ الٰہی فرمانبردار ثابت ہوئے اور حکمِ الٰہی کی تعمیل میں ثابت قدم رہے ۔ (خازن وغیرہ)

(ف227)

اور بعد ابتلاء کے نافرمانی کرے ۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقْتُلُوا الصَّیْدَ وَ اَنْتُمْ حُرُمٌؕ-وَ مَنْ قَتَلَهٗ مِنْكُمْ مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآءٌ مِّثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ یَحْكُمُ بِهٖ ذَوَا عَدْلٍ مِّنْكُمْ هَدْیًۢا بٰلِغَ الْكَعْبَةِ اَوْ كَفَّارَةٌ طَعَامُ مَسٰكِیْنَ اَوْ عَدْلُ ذٰلِكَ صِیَامًا لِّیَذُوْقَ وَ بَالَ اَمْرِهٖؕ-عَفَا اللّٰهُ عَمَّا سَلَفَؕ-وَ مَنْ عَادَ فَیَنْتَقِمُ اللّٰهُ مِنْهُؕ-وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ ذُو انْتِقَامٍ(۹۵)

اے ایمان والو شکار نہ مارو جب تم احرام میں ہو (ف۲۲۸) اور تم میں جو اسے قصداً قتل کرے (ف۲۲۹) تو اس کا بدلہ یہ ہے کہ ویسا ہی جانور مویشی سے دے(ف۲۳۰) تم میں کے دو ثقہ آدمی اس کا حکم کریں (ف۲۳۱) یہ قربانی ہو کعبہ کو پہونچتی (ف۲۳۲) یا کفارہ دے چند مسکینوں کا کھانا (ف۲۳۳)یا اس کے برابر روزے کہ اپنے کام کا وبال چکھے اللہ نے معاف کیا جو ہو گزرا (ف۲۳۴) اور جو اَب کرے گا اللہ اس سے بدلہ لے گا اور اللہ غالب ہے بدلہ لینے والا

(ف228)

مسئلہ : مُحۡرِم پر شکار یعنی خشکی کے کسی وحشی جانور کو مارنا حرام ہے ۔

مسئلہ : جانور کی طرف شکار کرنے کے لئے اشارہ کرنا یا کسی طرح بتانا بھی شکار میں داخل اور ممنوع ہے ۔

مسئلہ : حالتِ احرام میں ہر وحشی جانور کا شکار ممنوع ہے خواہ وہ حلال ہو یا نہ ہو ۔

مسئلہ : کاٹنے والا کتّا اور کوّا اور بچھو اور چیل اور چوہا اور بھیڑیا اور سانپ ان جانوروں کو احادیث میں فواسق فرمایا گیا اور ان کے قتل کے اجازت دی گئی ۔

مسئلہ : مچّھر ، پسّو ، چیونٹی ، مکھی اور حشراتُ الارض اور حملہ آور درندوں کو مارنا معاف ہے ۔ (تفسیرِ احمدی وغیرہ)

(ف229)

مسئلہ : حالتِ احرام میں جن جانوروں کا مارنا ممنوع ہے وہ ہر حال میں ممنوع ہے عمداً ہو یا خطاءً ، عمداً کا حکم تو اس آیت سے معلوم ہوا اور خطاءً کا حدیث شریف سے ثابت ہے ۔ (مدارک)

(ف230)

ویسا ہی جانور دینے سے مراد یہ ہے کہ قیمت میں مارے ہوئے جانور کے برابر ہو حضرت امام ابوحنیفہ اور امام ابویوسف رحمۃ اللہ تعالٰی علیہما کا یہی قول ہے اور امام محمّد و شافعی رحمۃ اللہ علیہما کے نزدیک خلقت و صورت میں مارے ہوئے جانور کی مثل ہونا مراد ہے ۔ (مدارک و احمدی)

(ف231)

یعنی قیمت کا اندازہ کریں اور قیمت وہاں کی معتبر ہو گی جہاں شکار مارا گیا ہو یا اس کے قریب کے مقام کی ۔

(ف232)

یعنی کَفّارہ کے جانور کا حرمِ مکّہ شریف کے باہر ذبح کرنا درست نہیں مکّہ مکرّمہ میں ہونا چاہئے اور عین کعبہ میں بھی ذبح جائز نہیں ، اسی لئے کعبہ کو پہنچتی فرمایا ، کعبہ کے اندر نہ فرمایا اور کَفّارہ کھانے یا روزہ سے ادا کیا جائے تو اس کے لئے مکّہ مکرّمہ میں ہونے کی قید نہیں باہر بھی جائز ہے ۔ (تفسیرِ احمدی وغیرہ)

(ف233)

مسئلہ : یہ بھی جائز ہے کہ شکار کی قیمت کا غلّہ خرید کر مساکین کو اس طرح دے کہ ہر مسکین کو صدقۂ فطر کے برابر پہنچے اور یہ بھی جائز ہے کہ ا س قیمت میں جتنے مسکینوں کے ایسے حصّے ہوتے تھے اتنے روزے رکھے ۔

(ف234)

یعنی اس حکم سے قبل جو شکار مارے ۔

اُحِلَّ لَكُمْ صَیْدُ الْبَحْرِ وَ طَعَامُهٗ مَتَاعًا لَّكُمْ وَ لِلسَّیَّارَةِۚ-وَ حُرِّمَ عَلَیْكُمْ صَیْدُ الْبَرِّ مَا دُمْتُمْ حُرُمًاؕ-وَ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْۤ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ(۹۶)

حلال ہے تمہارے لیے دریا کا شکار اور اس کا کھانا تمہارے اور مسافروں کے فائدے کو اور تم پر حرام ہے خشکی کاشکار (ف۲۳۵) جب تک تم احرام میں ہو اور اللہ سے ڈرو جس کی طرف تمہیں اٹھنا ہے

(ف235)

اس آیت میں یہ مسئلہ بیان فرمایا گیا کہ مُحۡرِم کے لئے دریا کا شکار حلال ہے اور خشکی کا حرام ، دریا کا شکار وہ ہے جس کی پیدائش دریا میں ہو اور خشکی کا وہ جس کی پیدائش خشکی میں ہو ۔

جَعَلَ اللّٰهُ الْكَعْبَةَ الْبَیْتَ الْحَرَامَ قِیٰمًا لِّلنَّاسِ وَ الشَّهْرَ الْحَرَامَ وَ الْهَدْیَ وَ الْقَلَآىٕدَؕ-ذٰلِكَ لِتَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ وَ اَنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ(۹۷)

اللہ نے ادب والے گھر کعبہ کو لوگوں کے قیام کا باعث کیا (ف۲۳۶) اور حرمت والے مہینے(ف۲۳۷) اور حرم کی قربانی اور گلے میں علامت آویزاں جانوروں کو (ف۲۳۸) یہ اس لیے کہ تم یقین کرو کہ اللہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں اور یہ کہ اللہ سب کچھ جانتا ہے

(ف236)

کہ وہاں دینی و دنیوی امور کا قیام ہوتا ہے ، خائف وہاں پناہ لیتا ہے ، ضعیفوں کو وہاں امن ملتی ہے ، تاجر وہاں نفع پاتے ہیں ، حج و عمرہ کرنے والے وہاں حاضر ہو کر مناسک ادا کرتے ہیں ۔

(ف237)

یعنی ذی الحجّہ کو جس میں حج کیا جاتا ہے ۔

(ف238)

کہ ان میں ثواب زیادہ ہے ، ان سب کو تمہارے مصالِح کے قیام کا سبب بنایا ۔

اِعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ وَ اَنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌؕ(۹۸)

جان رکھو کہ اللہ کا عذاب سخت ہے (ف۲۳۹)اور اللہ بخشنے والا مہربان

(ف239)

تو حرم و احرام کی حرمت کا لحاظ رکھو ۔ اللہ تعالٰی نے اپنی رحمتوں کا ذکر فرمانے کے بعد اپنی صفت شدیدُ العقاب ذکر فرمائی تاکہ خوف و رجاء سے تکمیلِ ایمان ہو ، اس کے بعد صفتِ غفور و رحیم بیان فرما کر اپنی وسعت و رحمت کا اظہار فرمایا ۔

مَا عَلَى الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُؕ-وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَ مَا تَكْتُمُوْنَ(۹۹)

رسول پر نہیں مگر حکم پہونچانا (ف۲۴۰) اور اللہ جانتا ہے جو تم ظاہر کرتے اور جو تم چھپاتے ہو (ف۲۴۱)

(ف240)

تو جب رسول حکم پہنچا کر فارغ ہو گئے تو تم پر طاعت لازم اور حجّت قائم ہو گئی اور جائے عذر باقی نہ رہی ۔

(ف241)

اس کو تمہارے ظاہر و باطن نفاق و اخلاص سب کا علم ہے ۔

قُلْ لَّا یَسْتَوِی الْخَبِیْثُ وَ الطَّیِّبُ وَ لَوْ اَعْجَبَكَ كَثْرَةُ الْخَبِیْثِۚ-فَاتَّقُوا اللّٰهَ یٰۤاُولِی الْاَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۠(۱۰۰)

تم فرمادو کہ ستھرا اورگندہ برابر نہیں (ف۲۴۲)اگرچہ تجھے گندے کی کثرت بھائے تو اللہ سے ڈرتے رہو اے عقل والو کہ تم فلاح پاؤ

(ف242)

یعنی حلال و حرام ، نیک و بد ، مسلم و کافِر اور کھرا کھوٹا ایک درجہ میں نہیں ہو سکتا ۔