قال رسول اللہ، ویح عمّار تقتلہ الفئۃ الباغیۃ

ترجمہ: اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایاا؛ ’’عمّار پر افسوس ہے ! اس کو ایک باغی جماعت قتل کرئے‘‘ (رقم حدیث: 447۔ بخاری کتاب الصلوۃ)

تشریح :

ہمارے زمانے میں اس حدیث شریف کی تشریح کرنے میں بے شمار احباب نے ٹھوکر کھائی، اور پھر آپس میں ایک دوسرے پر الزامات کی بوچھاڑ شروع کر دی گئی۔۔ لوگ شریعت پر اس قدر جری ہو سکتے ہیں اس کا اندازہ آج ہمارے زمانے ہو رہاہے۔۔۔۔ بعض اہل علم بھی (باوجود کہ وہ صاحبان مسند درس و افتاء پر متمکن ہیں) اہ بھی اس معاملے بہت جلد بازی کرتے ہیں ، میری دانست میں اکثر بیان مبنی بر جہالت ہوتا ہے۔ قلت علم کی بنیاد پرلوگ ایسی باتیں کرتے ہیں ۔ اصل کتب میں متن کیونکہ عربی میں ہے اس تک رسائی کم ہی لوگ کرتے ہیں، اس وقت میرے پیش نظر علامہ عینی کی عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری، شرح ابن بطال مالکی قرطبی اور نعمۃ الباری فی شرح صحیح بخاری از علامہ غلام رسول سعیدی رحمۃ اللہ علیھم ہیں، اس میں سے کچھ عبارات کا ترجمہ قارئین کے ذوق مطالعہ کے پیش کرنے کی سعادت حاصل کر رہا ہوں،، اس امید پر کہ فضا میں موجود تلخیاں کچھ کم ہو جائینگی۔۔۔

’’ علامہ عینی فرماتے ہیں کہ،،، حضرت عمار کی شھادت کے خوارج نے حضرت علی کے خلاف خروج کیا اور اس کی ابتداء اس وقت ہوئی جب حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور امیر المؤمنین حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ کے ما بین ’’ حکم ‘‘ بنیایا گیا، واقعہ تحکیم صفین میں قتال کے بعد ہوا۔ اس سے ثابت ہوا کہ حضرت عمار (رضی اللہ عنہ)کو اس قبل ہی شھید کر دیا گیا تھا،

حضرت عمّار رضی اللہ عنہ کو حضرت معاویہ کے گروہ نے قتل کیا تھا، اور ان پر اس حدیث میں باغی اور دوزخ کی طرف بلانے والا فرمایا گیا۔۔

اس کا جواب :

ان پر باغی اور دوزخ کی طرف بلانے والے کا اطلاق بہ اعتبار ظاہر ہے،

حقیقت کے اعتبار سے نیہں ۔ ، ان کے گمان کے اعتبار سے ان کا اقدام بر حق تھا، وہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قصاص کے طالب تھے۔ جبکہ ان کا یہ اجتہاد مبنی پر خطاء۔ کیونکہ وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خلاف جنگ کر رہے تھے، اور حضرت علی خلیفہ بر حق تھے۔ اور امیر و خلیفہ بر حق کے ساتھ جنگ کرنا بغاوت ہے۔ اس لئیے ظاہر کے اعتبار سے وہ باغی تھے۔ لکین حقیقت میں وہ باغی نہیں تھے، کیونکہ ان کا یہ اقدام اپنے اجتہاد کی وجہ سے تھا۔

اس حدیث کی نظیر قرآن مجید کی یہ آیت ہے:

وعصیٰ ادم ربہ فغویٰ۔ (طہ: ۱۲۱) ترجمہ: اور آدم نے اپنے رب کی معصیت کی اور وہ بے راہ ہوئے،

اس آیت میں شجر ممنوعہ کھانے پر حضرت آدم علیہ السلام پر معصیت اور غوایت کا اطلاق بہ اعتبار ظاہر ہے۔

اللہ کریم نے فرمایا: فنسیٰ فلم نجد لہ عزما، (طہ۔ ۱۱۵) پس آدم بھول گئے اور ہم نے ( ان کی معصیت) کا کوئی عزم نہ پایا۔

قرآن مجید میں حضرت آدم کے فعل پر معصیت کا اطلاق ظاہر اور صورت کے اعتبار سے ہےجبکہ حقیقت کے اعتبار سے نہیں۔۔۔ اسی طرح اس حدیث میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے گروہ پر باغی ہونے اور دوزخ کی طرف بلانے والے ہونے کا اطلاق ظاہر اور صورت کے اعتبار سے ہے۔ حقیقت کے اعتبار سے نہیں۔ اور اس قرینہ پر دلیل یہ ہے کہ حضرت علی نے حضرت معاویہ اور ان کے لشکر کے متعلق بہت دعائیں کیں ہیں،

حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ کے نزدیک جماعت معاویہ رضی اللہ عنھم صراحۃ باغی ہوتی تو وہ ان سے جنگ موقوف نہ کرتے اور کبھی بھی تحکیم کو قبول نہ کرتے۔۔۔

واللہ ورسولہ اعلم،

محرر: دکتور مفتی سید محمد وقاص شاہ ۔

مفتی و خطیب: دار الافتاء الہاشمی ، میمن مسجد۔