أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

ثُمَّ اٰتَيۡنَا مُوۡسَى الۡـكِتٰبَ تَمَامًا عَلَى الَّذِىۡۤ اَحۡسَنَ وَتَفۡصِيۡلاً لِّـكُلِّ شَىۡءٍ وَّهُدًى وَرَحۡمَةً لَّعَلَّهُمۡ بِلِقَآءِ رَبِّهِمۡ يُؤۡمِنُوۡنَ۞

ترجمہ:

پھر ہم نے موسیٰ کو کتاب دی، اس شخص پر نعمت پوری کرنے کے لیے جس نے نیک کام کیے درآں حالیکہ وہ ہر چیز کی تفصیل ہے اور ہدایت اور رحمت ہے تاکہ وہ اپنے رب سے ملاقات پر ایمان لے آئیں۔ ؏

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : پھر ہم نے موسیٰ کو کتاب دی، اس شخص پر نعمت پوری کرنے کے لیے جس نے نیک کام کیے درآں حالیکہ وہ ہر چیز کی تفصیل ہے اور ہدایت اور رحمت ہے تاکہ وہ اپنے رب سے ملاقات پر ایمان لے آئیں۔ (الانعام : ١٥٤) 

اللہ تعالیٰ نے نو احکام ذکر کرنے کے بعد فرمایا ہم نے موسیٰ کو کتاب دی ‘ اس میں یہ رمز ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) کی شریعتوں کے اختلاف سے ان احکام میں اختلاف نہیں ہوا ‘ بلکہ یہ احکام تکلیف کے ابتدائی عہد سے لے کر قیامت تک ثابت اور مستمر ہیں۔ 

اور یہ جو فرمایا ہے اس شخص پر نعمت پوری کرنے کے لیے جس نے نیک کام کیے ‘ حسن بصری نے اس کی تفسیر میں کہا : بنی اسرائیل میں محسن (غیر نیک) بھی تھے تو اللہ تعالیٰ نے محسنین پر اپنی نعمت پوری کرنے کے لیے یہ کتاب نازل کی۔ اس کی دوسری تفسیر یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے دیئے ہوئے علم کے مطابق نیک کام کرتے تھے ‘ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان پر نعمت پوری کرنے کے لیے ان کو کتاب (تورات) دی۔ 

پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس نے تورات میں دین کی کیا نعمتیں رکھی ہیں ؟ فرمایا اس میں ہر چیز کی تفصیل ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ اس میں دین کے تمام احکام ‘ عقائد اور مسائل کی تفصیل ہے۔ لہذا اس میں ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت اور رسالت کا بیان ہے اور آپ کی نبوت کے کے تمام دلائل ہیں اور یہ ہدایت اور رحمت ہے ‘ تاکہ یہ لوگ اللہ سے ملاقات پر ایمان لے آئیں ‘ اللہ سے ملاقات کا معنی ہے یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ثواب اور عتاب کا جو وعدہ کیا ہے ‘ اس سے ملاقات پر ایمان لے آئیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 6 الأنعام آیت نمبر 154