جمعہ کی چھٹی شرط :- جماعت

مسئلہ: جمعہ کی نماز کی جماعت کے لئے کم از کم تین مقتدی کا ہونا ضروری ہے ۔ دیگر نمازوں کی طرح ایک یا دو مقتدی سے جمعہ کی جماعت قائم نہیں ہوسکتی ۔ جمعہ کی جماعت کے لئے امام کے علاوہ کم از کم تین مرد مقتدی ہونا ضروری ہے ۔اگر تین مرد سے کم مقتدی ہوں گے تو جمعہ کی جماعت صحیح نہیں ۔ ( عالمگیری ، تنویر الابصار ، فتاوٰی رضویہ جلد ۳ ، ص ۶۸۳)

مسئلہ: مسجد میں نماز جمعہ ختم ہونے کے بعد پندرہ ؍۱۵؎، بیس؍ ۲۰؎ آدمی آئے اور وہ جمعہ یاظہر کی نماز جماعتِ ثانیہ کے طور پر نہیں پڑھ سکتے بلکہ اس مسجد میں تو درکنار کسی ایسی مسجدمیں کہ جہاں جمعہ نہ ہوتاہو یا کسی مکان میں یاکسی میدان میں یا کسی اور جگہ بھی یہ لوگ جمعہ نہیں پڑھ سکتے بلکہ ظہر کی نماز بھی جماعت سے نہیں پڑھ سکتے بلکہ سب اپنی ظہر تنہا تنہا پڑھیں ۔ ( تنویر الابصار ، فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۶۹۰)

مسئلہ: ایک مسجد میں دو جمعہ نہیں ہوسکتے ۔ اگر ایک مسجد میں دو جمعہ پڑھے گئے تو جو امام اس مسجد میں نماز جمعہ کے لئے معین تھا اس کی اور اس کی اقتداء کرنے والوں کی نماز جمعہ ہوگئی اور جو امام مسجد میں معین نہ تھا اس کی اور اس کی اقتدا کرنے والوں کی نماز نہ ہوئی اور اگر دونوں امام معین نہ تھے تو کسی کی بھی نہ ہوئی ۔ ( فتاوٰی رضویہ ،جلد ۳ ، ص۶۹۱،۷۰۸ )

مسئلہ: نماز جمعہ و عیدین مثل عام نمازوں کے نہیں کہ جس کو چاہے امام بنادیا یا جوچاہے امام بن گیا اور نماز جمعہ پڑھادی ۔ جمعہ کی نماز کے متعلق یہاںتک حکم ہے کہ وہ مسجد کہ جو سرِ راہ ہوتی ہے کہ جس میں کوئی امام متعین نہیں ہوتا بلکہ راہ گیر آتے جاتے رہتے ہیں اور جس نے چاہا نماز پڑھادی ۔ اس مسجد میں دس بارہ راہ گیر آئے اور ایک نے نمازِ جمعہ پڑھا دی، پھر دوسرا گروہ آیا ان کو بھی کسی نے نماز جمعہ پڑھادی ، یونہی دس بارہ جماعتیں ہوئیں ، جمعہ کسی ایک کابھی نہ ہوا اور فرض ظہر سب کے ذمہ باقی رہا ۔ (درمختار ،فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص۷۲۳)

مسئلہ: جمعہ کی نماز میں اگر سجدہ ٔ سہو واجب ہوا اور امام سجدہ ٔ سہو کرتا ہے تو مقتدیوں کی کثرت کی وجہ سے خبط و افتنان کا اندیشہ ہے یعنی مقتدیوں میں گڑبڑی پھیلنے اور فتنہ ہونے کا اندیشہ ہو تو علماء کرام نے سجدہ ٔسہو کے ترک کرنے کی اجازت دی ہے بلکہ جمعہ کی نماز میں سجدہ ٔ سہو ترک کرنا اولیٰ یعنی بہتر ہے ۔ ( درمختار، ردالمحتار، فتاوٰی رضویہ جلد ۳ ، ص ۶۸۹)

مسئلہ: خطبہ سے پہلے جو چار رکعت سنت پڑھی جاتی ہیں وہ سنتیں اگر فوت ہوجائیں تو جمعہ کی جماعت کے بعد سنت کی ہی نیت سے پڑھے ۔ وہ ادا ہوگی،نہ کہ قضا اور اگر جمعہ (یعنی ظہر)کا وقت نکل گیا تو اب اس کی قضا نہیں ۔( در مختار ، بحرالرائق ، فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ،ص ۶۱۹،۴۶۱)

مسئلہ: جمعہ کے دن عورت ظہر کی نماز پڑھے اور اگر کسی کا مکان مسجد سے متصل ہے اورمکان مشرق کی جانب ہے اور اپنے گھر میں رہ کر امام مسجد کی اقتدا کرے تو اس کے لئے بھی جمعہ افضل ہے ۔ ( درمختار، بہار شریعت ، جلد ۳، ص ۹۹)

مسئلہ: جن مسجد وں میں جمعہ نہیں ہوتا انہیں جمعہ کے دن ظہر کے وقت بند رکھیں۔ (درمختار)

مسئلہ: دیہات میں جمعہ کے دن مسجد میںظہر کی نماز اذان و اقامت کے ساتھ باجماعت پڑھیں۔ ( عالمگیری۔بہار شریعت ۔ ج ۴۔ ص۔ ۱۰۲)

مسئلہ: دیہات میں جمعہ مذہب حنفی میں ہر گز جائز نہیں مگر عوام پڑھتے ہیں اور منع کرنے سے باز نہ آئیں گے اور فتنہ برپا کریں گے تو ان کو اتنا ہی کہنا ہوگا کہ ظہر کی چار (۴) رکعت بھی پڑھو کہ تم پر ظہر ہی فرض ہے ۔ جمعہ پڑھنے سے تمہارے ذمہ وہ ظہر ساقط نہ ہوئی ۔ ظہر کے وہ چار فرض بھی جماعت ہی سے پڑھنے کو کہا جائے کہ بے عذر جماعت ترک کرنا گناہ ہے ۔ (فتاوی مصطفویہ ۔ ص ۲۳۱)

مسئلہ: جمعہ کی نماز کے دو فرض کے بعد کی سنتوں کی تعداد میں اختلاف ہے ۔ اصل مذہب میں چار رکعت سنت مؤکدہ ہیں اور احوط چھ رکعت ہیں۔ ( درمختار ، فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۶۹۳)