أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قُلۡ تَعَالَوۡا اَتۡلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمۡ عَلَيۡكُمۡ‌ اَلَّا تُشۡرِكُوۡا بِهٖ شَيۡئًـــا وَّبِالۡوَالِدَيۡنِ اِحۡسَانًا‌ ۚ وَلَا تَقۡتُلُوۡۤا اَوۡلَادَكُمۡ مِّنۡ اِمۡلَاقٍ‌ؕ نَحۡنُ نَرۡزُقُكُمۡ وَاِيَّاهُمۡ‌ ۚ وَلَا تَقۡرَبُوا الۡفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنۡهَا وَمَا بَطَنَ‌ ۚ وَلَا تَقۡتُلُوا النَّفۡسَ الَّتِىۡ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالۡحَـقِّ‌ ؕ ذٰ لِكُمۡ وَصّٰٮكُمۡ بِهٖ لَعَلَّكُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ۞

ترجمہ:

آپ کہیے کہ آؤ میں تم پر تلاوت کروں کہ تمہارے رب نے تم پر کیا چیزیں حرام کی ہیں یہ کہ تم اس کے ساتھ کسی کو شریک قرار نہ دو ‘ اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو ‘ اور اپنی اولاد کو رزق میں کمی کی وجہ سے قتل نہ کرو ‘ ہم تمہیں بھی رزق دیتے ہیں اور ان کو بھی ‘ اور بےحیائی کے کاموں کے قریب نہ جاؤ خواہ وہ ظاہر ہوں خواہ پوشیدہ اور جس کے قتل کو اللہ نے حرام قرار دیا ہے اس کو ناحق قتل نہ کرو، یہی وہ کام ہیں جن کا اللہ نے تم کو مؤکد حکم دیا ہے تاکہ تم سمجھو۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آپ کہیے کہ آؤ میں تم پر تلاوت کروں کہ تمہارے رب نے تم پر کیا چیزیں حرام کی ہیں یہ کہ تم اس کے ساتھ کسی کو شریک قرار نہ دو ‘ اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو ‘ اور اپنی اولاد کو رزق میں کمی کی وجہ سے قتل نہ کرو ‘ ہم تمہیں بھی رزق دیتے ہیں اور ان کو بھی ‘ اور بےحیائی کے کاموں کے قریب نہ جاؤ خواہ وہ ظاہر ہوں خواہ پوشیدہ اور جس کے قتل کو اللہ نے حرام قرار دیا ہے اس کو ناحق قتل نہ کرو، یہی وہ کام ہیں جن کا اللہ نے تم کو مؤکد حکم دیا ہے تاکہ تم سمجھو۔ اور اچھے طریقہ کے بغیر یتیم کے مال کے قریب نہ جاؤ حتی کہ وہ اپنی جوانی کو پہنچ جائے اور انصاف کے ساتھ پوری پوری ناپ تول کرو، ہم ہر شخص کو صرف اس کی طاقت کے مطابق مکلف کرتے ہیں اور جب تم کوئی بات کہو تو انصاف کے ساتھ کہو، خواہ وہ تمہارے قرابت دار ہوں ‘ اور اللہ کے عہد کو پورا کرو ‘ یہی وہ امور ہیں جن کا تمہیں اللہ نے موکد حکم دیا ہے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔ (الانعام : ١٥٢۔ ١٥١) 

اللہ تعالیٰ کے حرام کیے ہوئے کاموں کی تفصیل : 

اس سے پہلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ مشرکین نے بعض کاموں چیزوں کو از خود حرام قرار دے دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو حرام نہیں فرمایا اور اب اللہ تعالیٰ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرما رہا ہے کہ آپ ان کو بتائیں کہ اللہ تعالیٰ نے کیا کیا چیزیں حرام فرمائی ہیں ؟ ان دو آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے نو چیزوں کی حرمت بیان فرمائی ہے اور ان کی ضد کو فرض اور واجب قرار دیا ہے۔ وہ نو چیزیں یہ ہیں : 

(١) اللہ کا شریک قرار دینا۔ 

(٢) ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک نہ کرنا۔ 

(٣) اولاد کو قتل کرنا۔ 

(٤) بےحیائی کے کام کرنا۔ 

(٥) ناحق قتل کرنا۔ 

(٦) یتیم کے مال میں بےجا تصرف کرنا۔ 

(٧) ناپ تول میں کمی کرنا۔ 

(٨) ناحق بات کہنا۔ 

(٩) اللہ سے کیے ہوئے عہد کو پورا نہ کرنا۔ 

ان نو کاموں کو اللہ تعالیٰ نے حرام فرمایا ہے اور ان کی ضد اور ان کے خلاف کرنے کو فرض اور واجب فرمایا ہے۔ ہم ان میں سے ہر ایک کی قدرے تفصیل بیان کر رہے ہیں۔ 

شرک کا حرام ہونا : 

بعض مشرکین بتوں کو اللہ کا شریک قرار دیتے تھے ‘ جیسا کہ اس آیت میں اشارہ ہے : 

(آیت) ” واذقال ابراھیم لابیہ ازر اتتخذ اصناما الھۃ “۔ (الانعام : ٧٤) 

ترجمہ : اور جب ابراہیم نے اپنے (عرفی) باپ آزر سے کہا ‘ کیا تو بتوں کو معبود بناتا ہے۔ 

اور بعض مشرکین ستاروں کی پرستش کرتے تھے ‘ اس کی طرف اس آیت میں اشارہ ہے : rnّ (آیت) ” فلما افل قال لا احب الافلین “۔ (الانعام : ٧٦)

ترجمہ : پھر جب وہ ستارہ ڈوب گیا تو ابراہیم نے کہا میں ڈوب جانے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ 

بعض مشرکین جنات کو اللہ تعالیٰ کا شریک کہتے تھے ‘ جیسا کہ اس آیت میں ہے : 

(آیت) ” وجعلوا للہ شرکآء الجن ‘ ‘۔ (الانعام : ١٠٠) 

ترجمہ : اور انہوں نے جنات کو اللہ کا شریک قرار دیا۔ 

بعض مشرکین اللہ تعالیٰ کے لیے بیٹے اور بیٹیاں مانتے تھے۔ جیسا کہ اس آیت میں ہے : 

(آیت) ” وخرقوا لہ بنین وبنات بغیر علم “۔ (الانعام : ١٠٠) 

ترجمہ : اور انہوں نے بغیر علم کے اللہ کے لیے بیٹے اور بیٹیاں گھڑ لیں۔ 

اللہ تعالیٰ کے لیے ہر قسم کا شریک ماننا حرام ہے۔ اور یہ ایسا گناہ ہے جس کی آخرت میں معانی نہیں ہوگی۔ 

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا ‘ اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے بڑا گناہ کون سا ہے ؟ آپ نے فرمایا یہ کہ تم اللہ کے لیے شریک قرار دو ‘ حالانکہ اس نے تمہیں پیدا کیا ہے۔ میں نے کہا بیشک یہ بہت بڑا گناہ ہے۔ پھر کون سا بڑا گناہ ہے ؟ آپ نے فرمایا پھر یہ ہے کہ تم اپنی اولاد کو اس خوف سے قتل کرو کہ وہ تمہارے ساتھ کھانا کھائیں گے۔ میں نے پوچھا ‘ پھر کون سا گناہ بڑا ہے ؟ فرمایا پھر یہ کہ تم اپنے پڑوسی کی بیوی سے زنا کرو۔ 

(صحیح البخاری ‘ ج ٥‘ رقم الحدیث :‘ ٤٤٧٧‘ صحیح مسلم ‘ ایمان ‘ ١٤١ (٨٦) ٢٥١‘ سنن ابوداؤد ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ٢٣١٠‘ سنن الترمذی ‘ ج ٥‘ رقم الحدیث :‘ ٣١٩٣‘ سنن نسائی ‘ ج ٧‘ رقم الحدیث :‘ ١٣٤٠‘ سنن کبری للنسائی ‘ ج ٦‘ رقم الحدیث :‘ ١٠٩٨٧) 

والدین کے ساتھ بدسلوکی کا حرام ہونا : 

اس کے بعد ماں باپ کے ساتھ نیکی کرنے کا حکم ہے ‘ کیونکہ انسان پر سب سے بڑا احسان اللہ تعالیٰ کا ہے کہ اس نے انسان کو پیدا کیا۔ اس کے بعد انسان کے اوپر ماں باپ کا احسان ہے ‘ کیونکہ انہوں نے اس کی پرورش کی اور جب وہ بہت چھوٹا اور کچھ نہیں کرسکتا تھا ‘ اس وقت اس کو ضائع ہونے سے بچایا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کی انتہائی تعظیم اور توقیر کا حکم دیا ہے ‘ اور اپنا شکر ادا کرنے کے بعد ماں باپ کا شکر ادا کرنے کی تلقین فرمائی ہے : 

(آیت) ” وبالوالدین احسانا، اما یبلغن عندک الکبر احدھما او کلھما فلا تقل لھما اف ولا تنھرھما وقل لھما قولا کریما، واخفض لھما جناح الذل من الرحمۃ و قل رب ارحمھما کما ربینی صغیرا “۔ (بنواسرائیل : ٢٤۔ ٢٣) 

ترجمہ : اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو اگر تمہارے سامنے ان میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے کی عمر کو پہنچ جائیں تو انہوں اف (تک) نہ کہنا اور نہ ان کو جھڑکنا اور ان کے ساتھ ادب سے بات کرنا، اور نرم ولی کے ساتھ ان کے سامنے عاجزی سے جھکے رہنا اور کہنا کہ اے میرے ان دونوں پر رحم فرماناجیسا کہ ان دونوں نے بچپن میں مجھے پالا۔ 

(آیت) ” ووصیناالانسان بوالدیہ، حملتہ امہ وھنا علی وھن وفصالہ فی عامین ان ش کرلی ولوالدیک الی المصیر “۔ (لقمان : ١٤) 

ترجمہ : ہم نے انسان کو اس کے والدین کے ساتھ نیکی کرنے کا حکم دیا ہے ‘ اس کی ماں نے کمزوری پر کمزوری برداشت کرتے ہوئے اس کو پیٹ میں اٹھایا اور اس کا دودھ چھوٹنا دو برس میں ہے (اور ہم نے یہ حکم دیا کہ) میرا اور اپنے والدین کا شکر ادا کرو میری طرف لوٹنا ہے۔ 

حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آکر عرض کیا ‘ میں آپ سے ہجرت اور جہاد پر بیعت کرتا ہوں اور اللہ سے اجر چاہتا ہوں۔ آپ نے پوچھا کیا تمہارے ماں باپ میں سے کوئی زندہ ہے ؟ اس نے کہا ہاں بلکہ دونوں زندہ ہیں۔ آپ نے پوچھا تم اللہ سے اجر چاہتے ہو ؟ اس میں نے کہا ہاں ! آپ نے فرمایا اپنے ماں باپ کے پاس جاؤ اور ان سے نیک سلوک کرو۔ (صحیح مسلم ‘ البروالصلہ ‘ ٦‘ (٢٥٤٩) ٦٣٨٧)

والدین کے ساتھ نیکی یہ ہے کہ ان کی فرمانبرداری اور اطاعت کی جائے ‘ ان کا ادب اور احترام کیا جائے۔ ان کی ضروریات پوری کی جائیں اور انکی ضروریات کو اپنی ضروریات پر مقدم رکھا جائے۔ اگر وہ ظلم کریں ‘ پھر بھی ان کی اطاعت کی جائے۔ البتہ غیر شرعی احکام میں ان کی اطاعت نہ کی جائے ‘ پھر بھی ان کے ساتھ نرمی رکھی جائے اور اگر وہ فوت ہوجائیں تو ان کی قبر کی زیارت کی جائے اور ان کے لیے استغفار کیا جائے۔ 

قتل اولاد کا حرام ہونا : 

زمانہ جاہلیت میں بعض مشرکین رزق میں کمی کے ڈر سے اپنی اولاد کو قتل کردیتے تھے اور بعض عار کی وجہ سے اپنی بیٹیوں کو قتل کردیتے تھے اللہ تعالیٰ نے اس کو حرام فرما دیا ‘ اور بعض لوگ عمل تزویج کے وقت عزل کرتے تھے۔ (یعنی انزال کے وقت اندام نہانی سے آلہ باہر نکال لینا) 

بعض مسلمان بھی عزل کرتے تھے ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عزل کو ناپسندیدہ قرار دیا ہے۔ 

حضرت ابو سعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ عزوہ بنو مصطلق میں گئے۔ ہم نے عرب کی خوبصورت عورتوں کو قید کرلیا ‘ ہمیں اپنی بیویوں سے الگ ہوئے کافی دن گزر چکے تھے ‘ ہم نے چاہا کہ مشرکین سے فدیہ لے کر ان عورتوں کو چھوڑ دیں اور ہم نے یہ بھی چاہا کہ ان عورتوں سے جسمانی فائدہ بھی حاصل کریں اور عزل کرلیں (یعنی انزال کے وقت آلہ باہر نکال لیں ‘ تاکہ حمل قائم نہ ہو) پھر ہم نے سوچا کہ ہم عزل کر رہے ہیں اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے درمیان موجود ہیں تو کیوں نہ ہم آپ سے اس کا حکم معلوم کرلیں۔ ہم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا تو آپ نے فرمایا تم پر کوئی حرج نہیں ہے۔ کہ تم ایسا نہ کرو ‘ کیونکہ قیامت تک اللہ تعالیٰ نے جس روح کے پیدا ہونے کے متعلق لکھ دیا ہے ‘ وہ پیدا ہو کر رہے گی۔ 

(صحیح البخاری ‘ ج ٥‘ رقم الحدیث :‘ ٥٢١٠‘ صحیح مسلم ‘ نکاح ١٢٥‘ (١٤٣٨) ٣٤٨٠‘ سنن ابوداؤد ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ٢١٧٢‘ سنن کبری للنسائی ‘ ج ٣‘ رقم الحدیث :‘ ٥٠٤٤) 

حضرت جابر (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا کہ میری ایک باندی ہے ‘ وہ ہماری خادمہ ہے اور ہمارے لیے پانی لاتی ہے۔ میں اس سے اپنی خواہش پوری کرتا ہوں اور اس کے حاملہ ہونے کو ناپسند کرتا ہوں۔ آپ نے فرمایا اگر تم چاہو تو اس سے عزل کرلو ‘ بیشک جو کچھ مقدر کیا گیا ہے وہ عنقریب ہوجائے گا۔ کچھ دنوں کے بعد وہ شخص آیا اور اس نے کہا وہ باندی حاملہ ہوگئی ہے۔ آپ نے فرمایا میں نے تمہیں بتایا تھا کہ جو کچھ مقدر میں ہوگیا ہے ‘ وہ ہو کر رہے گا۔ (صحیح مسلم ‘ نکاح ‘ ١٣٤ (١٤٣٩) ٣٤٩٢‘ سنن ابوداؤد ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ٢١٧٣) 

حضرت جابر (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہم عزل کرتے تھے اور قرآن نازل ہو رہا تھا۔ سفیان نے کہا اگر یہ کوئی ممنوع چیز ہوتی تو قرآن ہمیں اس سے منع کردیتا۔ 

(صحیح البخاری ‘ ج ٥‘ رقم الحدیث :‘ ٥٨٠٢‘ صحیح مسلم ‘ نکاح ‘ ١٣٦‘ (١٤٤٠) ٣٤٩٥‘ سنن الترمذی ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ١١٤٠‘ سنن کبری للنسائی ‘ ج ٥‘ رقم الحدیث :‘ ٩٠٩٣‘ سنن ابن ماجہ ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ١٩٢٧) 

حضرت جابر (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد میں عزل کرتے تھے ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس کی خبر پہنچی تو آپ نے اس سے منع نہیں فرمایا۔ (صحیح مسلم ‘ نکاح ‘ ١٣٨‘ (١٤٤٠) ٣٤٩٥) 

عزل کیا جائے یا کسی اور جدید طبی طریقہ سے ضبط تولید کا عمل کیا جائے تو بلاضرورت شرعی وہ مکروہ ہے ‘ اور اگر تنگی رزق کے خوف کی وجہ سے یا لڑکیوں سے عار کی بنا پر عزل کیا جائے ‘ تو حرام ہے اور اگر کوئی نیک مسلمان ڈاکٹر یہ کہے کہ اگر ضبط تولید پر عمل نہ کیا گیا تو عورت کی جان کو خطرہ ہے ‘ تو پھر یہ عمل واجب ہے اور اگر اس کے بیمار ہونے کا خدشہ ہو تو عزل کرنا جائز ہے۔ اس کی پوری تفصیل ہم (الانعام : ١٣٦) کی تفسیر میں لکھ چکے ہیں۔ 

بے حیائی کے کاموں کا حرام ہونا : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس وقت کوئی زانی زنا کرتا ہے تو وہ مومن نہیں ہوتا اور جس وقت کوئی چور چوری کرتا ہے تو وہ مومن نہیں ہوتا اور جس وقت کوئی شرابی شراب پیتا ہے تو وہ مومن نہیں ہوتا۔ 

(صحیح البخاری ‘ ج ٦‘ رقم الحدیث :‘ ٥٥٧٨‘ صحیح مسلم ‘ ایمان ‘ ١٠٠‘ (٥٧) ١٩٩) 

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ تعالیٰ اس شخص پر لعنت کرے جو کسی جانور کے ساتھ بدکاری کرے اور تین بار فرمایا اللہ اس شخص پر لعنت کرے جو قوم لوط کا عمل کرے۔ (شعب الایمان ج ٤‘ رقم الحدیث : ٥٣٧٣‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت ١٤١٠ ھ) 

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا فاعل اور مفعول بہ کو قتل کردو اور اس کو جو کسی جانور کے ساتھ بدکاری کرے۔ (شعب الایمان ج ٤‘ رقم الحدیث : ٥٣٧٤‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت ١٤١٠ ھ) 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تین شخصوں سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن بات نہیں کرے گا اور نہ ان کا تزکیہ کرے گا ‘ اور نہ ان کی طرف نظر (رحمت) کرے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہوگا۔ بوڑھا زانی اور جھوٹا حکران اور متکبر فقیر۔ 

(صحیح مسلم ‘ ایمان ‘ ١٧٢‘ السنن الکبری ‘ ج ٤‘ رقم الحدیث :‘ ٧١٣٨‘ شعب الایمان ‘ ج ٤‘ رقم الحدیث :‘ ٥٤٠٥) 

حضرت ابو سعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا دنیا سرسبز میٹھی ہے اور بیشک اللہ تمہیں اس میں خلیفہ بنانے والا پھر دیکھنے والا ہے کہ تم اس میں کیسا عمل کرتے ہو ؟ سنو ! دنیا کے فتنہ سے بچو اور عورتوں کے فتنہ سے بچو۔ (سنن ترمذی ‘ ج ٤‘ رقم الحدیث :‘ ٢١٩٨‘ سنن ابن ماجہ ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ٤٠٠٠‘ صحیح ابن حبان ‘ ج ٨‘ رقم الحدیث ٣٢٢١‘ مسند احمد ‘ ج ٤‘ رقم الحدیث :‘ ١١١٦٩) 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ نے ابن آدم پر اس کے زنا کا حصہ لکھ دیا ہے جس کو وہ لامحالہ پائے گا ‘ آنکھوں کا زنا دیکھنا ہے اور زبان کا زنا بولنا ہے ‘ اور نفس تمنا کرتا اور اشتہاء کرتا ہے اور شرمگاہ اس سب کی تصدیق اور تکذیب کرتی ہے۔ 

(صحیح البخاری ‘ ج ٧‘ رقم الحدیث :‘ ٦٢٤٣‘ صحیح مسلم ‘ قدر ‘ ٢٠ (٢٦٥٧) ٦٦٢٩‘ سنن ابوداؤد ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ٢١٥٢) 

حضرت ابو امامہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ جو مسلمان کسی عورت کے محاسن کو دیکھے اور پھر اپنی نظر پھیرے تو اللہ اس کے دل میں عبادت کی حلاوت پیدا کردیتا ہے۔ (شعب الایمان ‘ ج ٤‘ رقم الحدیث :‘ ٥٤٣١) 

حسن بن ذکوان کہتے تھے کہ خوبصورت بےریش لڑکے حسین دوشیزاؤں سے زیادہ فتنہ انگیز ہیں۔ (شعب الایمان ‘ ج ٤‘ رقم الحدیث :‘ ٥٣٩٧) 

قتل ناحق کا حرام ہونا اور قتل برحق کی اقسام : 

قتل ناحق کو سمجھنا اس پر موقوف ہے کہ یہ جان لیا جائے کہ قتل برحق کون کون سے ہیں۔ جو شخص نماز پڑھنے یا زکوۃ دینے سے انکار کرے ‘ اس کو قتل کردیا جائے گا۔ اسی لیے حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے مانعین زکوۃ سے قتال کیا تھا۔ 

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مجھے لوگوں سے قتال کرنے کا حکم دیا گیا ہے حتی کہ وہ یہ شہادت دیں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں اور نماز قائم کریں اور زکوۃ ادا کریں ‘ اگر انہوں نے یہ کرلیا تو انہوں نے مجھ سے اپنی جانوں اور مالوں کو بچا لیا ‘ ماسوا ان کے حقوق کے اور انکا حساب اللہ پر ہے۔ (صحیح البخاری ‘ ج ١‘ رقم الحدیث : ٢٥‘ صحیح مسلم ‘ ایمان ‘ ٣٦‘ (٢٢) ١٢٨) 

اور مرتد ‘ شادی شدہ زانی اور مسلمان کے قاتل کو بھی قتل کرنا برحق ہے۔ 

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کسی مسلمان شخص کو جو اس بات کی شہادت دیتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے ‘ اور میں اللہ کا رسول ہوں (اس کو) قتل کرنا صرف تین میں سے ایک وجہ سے جائز ہے شدہ زانی ہو ‘ کسی مسلمان کا قاتل ہو اور دین اسلام کو ترک کر کے مسلمانوں کی جماعت سے نکلنے والا ہو۔ (صحیح ‘ ج ٧“ رقم الحدیث :‘ ٦٨٧٨‘ صحیح مسلم ‘ حدود ‘ ٢٥‘ (١٦٧٦) ٤٢٩٦‘ سنن ابو داؤد ‘ ج ٤‘ رقم الحدیث :‘ ٤٣٥٢‘ سنن الترمذی ‘ ج ٣‘ رقم الحدیث :‘ ١٤٠٧‘ سنن النسائی ‘ ج ٧‘ رقم الحدیث :‘ ٤٠١٦‘ سنن ابن ابن ماجہ ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ٢٥٣٤) 

ایک خلیفہ کے انعقاد کے بعد اگر دوسرے خلیفہ کے لیے بیعت کی جائے تو اس کو قتل کردیا جائے۔ 

حضرت ابوسعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب دو خلیفوں کے لیے بیعت کی جائے تو دوسرے کو قتل کردو۔ (صحیح مسلم ‘ الامارۃ ‘ ٦١‘ (١٨٥٣) ٤٧١٧) 

جو شخص قوم لوط کا عمل کرے اس کو بھی قتل کردیا جائے۔ 

حضرت عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم جس کو قوم لوط کا عمل کرتے دیکھو تو فاعل اور مفعول بہ کو قتل کردو۔ 

(سنن ابو دؤاد ‘ ج ٤‘ رقم الحدیث :‘ ٤٤٦٢‘ سنن الترمذی ‘ ج ٣‘ رقم الحدیث :‘ ١٤٦١‘ سنن ابن ماجہ ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ٢٥٦١) 

جوشخص جانور کے ساتھ بدفعلی کرے ‘ اس کو بھی قتل کردیا جائے۔ 

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ جو شخص جانور کے ساتھ بدفعلی کرے ‘ اس شخص کو قتل کردو اور اس جانور کو بھی قتل کردو۔ (سنن ابو داؤد ج ٤‘ رقم الحدیث :‘ ٤٤٦٤‘ سنن الترمذی ج ٣‘ رقم الحدیث :‘ ١٤٦٠) 

اس حدیث کی سند قومی نہیں ہے۔ 

ڈاکوکو قتل کردیا جائے۔ قرآن مجید میں ہے : 

(آیت) ” انما جزآء الذین یحاربون اللہ ورسولہ ویسعون فی الارض فسادا ان یقتلوا اویصلبوا او تقطع ایدیھم وارجلھم من خلاف اوینفوا من الارض “۔ (المائدہ : ٣٣) 

ترجمہ : جو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کرتے ہیں اور زمین میں فساد کرتے ہیں ‘ ان کی یہی سزا ہے کہ ان کو قتل کیا جائے یا ان کو سولی دی جائے ‘ یا ان کے ہاتھ اور پیر مخالف جانبوں سے کاٹ دیئے جائیں یا ان کو شہر بدر کردیا جائے۔ 

اگر ڈاکوؤں نے مال بھی لوٹا ہو اور قتل بھی کیا ہو تو ان کو قتل کردیا جائے اور اگر انہوں نے صرف مال لوٹا ہو تو ان کے ہاتھ اور پیر مخالف جانبوں سے (یعنی سیدھا ہاتھ اور الٹا پیر) کاٹ دیئے جائیں اور اگر انہوں نے صرف دھمکایا ہو تو ان کو شہر بدر کردیا جائے جو لوگ مسلمان حاکم کے خلاف بغاوت کریں ان کو بھی قتل کردیا جائے۔ قرآن مجید میں ہے : 

(آیت) ” ا فان بغت احداھما علی الاخری فقاتلوا التی تبغی حتی تفئی الی امر اللہ “۔ (الحجرات : ٩) 

ترجمہ : اگر ایک جماعت دوسری پر زیادتی کرے تو اس جماعت سے جنگ کرو جو زیادتی کرے حتی کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف لوٹ آئے۔ 

جو شخص چوتھی بار شراب پیئے اس کو بھی قتل کردیا جائے۔ 

حضرت معاویہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص خمر (شراب) پیئے اس کو کوڑے لگاؤ اور اگر وہ چوتھی بار شراب پیئے تو اس کو قتل کردو۔ 

(سنن الترمذی ج ٣‘ رقم الحدیث :‘ ١٤٤٩‘ مصنف عبدالرزاق ‘ ج ٩‘ رقم الحدیث :‘ ١٧٠٨٧‘ مسند احمد ‘ ج ٦‘ رقم الحدیث :‘ ١٦٨٥٩‘ سنن ابودؤاد ‘ ج ٤‘ رقم الحدیث :‘ ٤٤٨٢‘ صحیح ابن حبان ‘ ج ١٠‘ رقم الحدیث :‘ ٤٤٤٦‘ سنن کبری للنسائی ‘ ج ٣‘ رقم الحدیث :‘ ٥٢٩٧‘ سنن کبری للبیہقی ج ٨‘ ٣١٣‘ سنن ابن ماجہ ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ٢٥٧٣) 

ذمی کو قتل کرنا جائز ہے اور ذمی کے قاتل کو قتل کردیا جائے گا۔ 

عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تمام مسلمان (وجوب قصاص میں) ایک دوسرے کی مثل ہیں۔ ان میں سے ادنی اپنے حق کی سعی کرے گا (یعنی کسی کو پناہ دے گا) اور ان میں سے بعید بھی کسی کو پناہ دے سکے گا ‘ اور وہ ایک دوسرے کی معاونت کریں گے۔ ان کے قوی کو ان کے ضعیف کے پاس لوٹایا جائے گا ‘ اور لشکری کو بیٹھنے والے پر لوٹایا جائے گا اور کسی مومن کو کافر (حربی) کے بدلہ میں قتل نہیں کیا جائے گا ‘ اور نہ ذمی کو اس کے عہد میں قتل کیا جائے گا۔ (سنن ابو داؤد ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ٢٧٥١‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت) 

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک مسلمان کو ایک ذمی کے بدلہ میں قتل کردیا اور فرمایا جو لوگ اپنے عہد کو پورا کرتے ہیں میں ان میں سب سے زیادہ کریم ہوں۔ 

(سنن دارقطنی ‘ ج ٣‘ رقم الحدیث :‘ ٣٢٣٢‘ سنن کبری للبیقہی ج ٨‘ ص ٣٠) 

قرآن مجید اور احادیث کی روشنی میں ہم نے قتل برحق کی یہ صورتیں بیان کی ہیں : 

(١) نماز پڑھنے سے انکار کرنے والے کو قتل کرنا۔ 

(٢) زکوۃ دینے سے انکار کرنے والے کو قتل کرنا۔ 

(٣) مرتد کو قتل کرنا۔ 

(٤) شادی شدہ زانی کو سنگسار کرکے قتل کرنا۔ 

(٥) مسلمان کے قاتل کو قتل کرنا۔ 

(٦) ایک خلیفہ منعقد ہونے کے بعد دوسرے مدعی خلافت کو قتل کرنا۔ 

(٧) قوم لوط کے عمل کرنے والے کو قتل کرنا۔ 

(٨) جانور کے ساتھ بدفعلی کرنے والے کو قتل کرنا۔ 

(٩) ڈاکوکو قتل کرنا ‘ 

(١٠) چوتھی بار شراب پینے والے کو قتل کرنا۔ 

(١١) ذمی کے قاتل کو قتل کرنا۔ 

مسلمان اور ذمی کے قاتل کو قصاص میں قتل کیا جائے گا اور باقی (٩) کو تعزیرا قتل کیا جائے گا ‘ اور ان کو قتل کرنا حکومت کا منصب ہے۔ عوام میں سے کسی شخص کو انہیں قتل کرنے کا اختیار نہیں ہے ‘ مسلمان کے قاتل پر قرآن مجید اور احادیث میں سخت وعیدیں ہیں ‘ ہم ان میں سے بعض کا ذکر رہے ہیں : 

قتل مومن پر وعید : 

(آیت) ’ من یقتل مؤمنا متعمدا فجزآءہ جھنم خالدا فیھا وغضب اللہ علیہ ولعنہ و اعدلہ عذابا عظیما “۔ (النساء : ٩٣) 

ترجمہ : جو شخص کسی مومن کو عمدا قتل کرے تو اس کو سزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اللہ اس پر غضبناک ہوگا اور اس پر لعنت فرمائے گا اور نے اس کے لیے بڑا عذاب تیار کر رکھا ہے۔ 

امام ترمذی نے سند حسن کے ساتھ حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا قیامت کے دن مقتول قاتل کو پیشانی کے بالوں سے پکڑ کر لائے گا ‘ درآنحالیکہ اس کی رگون سے خون بہہ رہا ہوگا ‘ وہ کہے گا کہ اے میرے رب ! اس نے مجھے قتل کیا تھا ‘ حتی کہ اس کو عرش کے قریب کھڑا کرے گا۔ حضرت ابن عباس (رض) کے سامنے لوگوں نے توبہ کا ذکر کیا تو انہوں نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا کہ یہ آیت منسوخ ہوئی ہے ‘ نہ تبدیل ہوئی ہے ‘ اس کی توبہ کہاں سے ہوگی ! 

امام احمد ‘ امام نسائی اور امام ابن المنذر نے حضرت معاویہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا قریب ہے کہ ہر گناہ کو اللہ معاف فرما دے گا سوا اس شخص کے جو کفر پر مرے اور سوا اس شخص کے جو کسی مومن کو عمدا قتل کرے۔ 

امام ابن المنذر نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ جو شخص کسی ایک بات سے بھی مومن کے قتل میں تعاون کرے گا ‘ قیامت کے دن جب وہ اللہ سے ملاقات کرے گا تو اس کی پیشانی پر لکھا ہوگا کہ یہ اللہ کی رحمت سے مایوس ہے۔ 

امام سعید بن منصور ‘ امام ابن جریر ‘ امام ابن المنذر اور امام بیہقی نے روایت کیا ہے کہ ابو مجلز نے کہا اس آیت کا معنی یہ ہے کہ وہ جہنم کی سزا کا مستحق ہے ‘ اگر اللہ چاہے گا تو اس کی سزا سے در گزر فرمائے گا۔ (درمنثور ‘ ج ٢‘ ص ٦٢٨‘ ٦٢٤‘ ملخصا ‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت) 

یتیم کے مال میں بےجا تصرف کا حرام ہونا : 

اللہ تعالیٰ نے یہاں فرمایا ہے اور اچھے طریقہ کے بغیر مال یتیم کے قریب نہ جاؤ حتی کہ وہ اپنی جوانی کو پہنچ جائے اور سورة نساء میں فرمایا ہے اور یتیموں کو جانچتے رہو ‘ حتی کہ جب وہ نکاح (کی عمر) کو پہنچ جائیں اور اگر تم ان میں عقل مندی (کے آثار) دیکھو تو ان کے مال ان کے حوالے کردو ‘ اور ان کے اموال کو فضول خرچی اور جلد بازی سے نہ کھاؤ اس ڈر سے کہ وہ بڑے ہوجائیں گے۔ (النساء : ٦) 

سورة نساء کی اس آیت میں انکی بدنی قوت کا بھی اعتبار کیا ہے جیسا کہ بلوغت کی عمر کو پہنچنے کے ذکر سے ظاہر ہوتا ہے اور ان کی ذہنی صلاحیت اور قوت کا بھی اعتبار کیا ہے جیسا کہ اس قید سے ظاہر ہوتا ہے کہ تم ان میں عقلمندی کے آثار دیکھو ‘ کیونکہ اگر جوان ہونے کے بعد یتیم کا مال اس کے حوالہ کردیا جائے اور وہ ذہین اور عقل مند نہ ہو تو اس بات کا خدشہ ہے کہ وہ اپنی خواہشوں اور شوق کو پورا کرنے میں سارا مال ضائع کر دے گا اور اس کے پاس کچھ نہیں رہے گا ‘ اس لیے جب تک وہ سمجھ دار نہ ہوجائے ‘ مال اس کے حوالے نہ کیا جائے۔ اس عمر کے تعین میں علماء کا اختلاف ہے۔ ابن زید نے کہا وہ بالغ ہوجائے۔ اہل مدینہ نے کہا ‘ وہ بالغ بھی ہو اور اس میں سمجھ داری کے آثار بھی ظاہر ہوں۔ امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک یہ عمر پچیس سال ہے۔ 

یتیم کا مال ناجائز طور پر کھانے کے متعلق بہت سخت وعید ہے : 

(آیت) ” ان الذین یاکلون اموال الیتمی ظلما انما یاکلون فی بطونھم نارا وسیصلون سعیرا “۔ (النساء : ١٠) 

ترجمہ : بیشک جو لوگ ناجائز طور پر یتیموں کا مال کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹوں میں محض آگ پھر رہے ہیں ‘ اور وہ عنقریب بھڑکتی ہوئی آگ میں پہنچیں گے “۔ 

امام ابن ابی شیبہ ‘ امام ابو یعلی ‘ امام طبرانی ‘ امام ابن حبان اور امام ابن ابی حاتم نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا قیامت کے دن کچھ لوگ اپنی قبروں سے اٹھیں گے درآنحالیکہ ان کے مونہوں سے آگ کے شعلے نکل رہے ہوں گے۔ عرض کیا گیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وہ کون لوگ ہیں ؟ فرمایا کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے جو لوگ یتیموں کا مال ناحق کھاتے ہیں ‘ وہ اپنے پیٹوں میں محض آگ بھر رہے ہیں۔ 

امام ابن جریر اور امام ابن ابی حاتم نے حضرت ابو سعید خدری (رض) سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں شب معراج کے واقعات میں بیان فرمایا میں نے کچھ لوگوں کو دیکھا ان کے ہونٹ اونٹوں کے ہونٹوں کی طرح تھے اور ان پر ایک شخص مقرر تھا جو ان کے ہونٹوں کو پکڑتا اور ان کے منہ میں آگ کے بڑے بڑے پتھر ڈال دیتا ‘ پھر وہ پتھر ان کے نچلے دھڑ سے نکل جاتے اور وہ زور زور سے چلاتے تھے۔ میں نے پوچھا اے جبرائیل ! یہ کون لوگ ہیں ؟ انہوں نے کہا یہ وہ لوگ ہیں ؟ جو ناحق یتیموں کا مال کھاتے تھے۔ 

امام بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : چار ایسے شخص ہیں کہ اللہ پر حق ہے کہ انکو جنت میں داخل نہ کرے اور نہ ان کو کوئی نعمت چکھائے۔ دائم الخمر ‘ سود خور ‘ یتیم کا مال ناحق کھانے والا اور ماں باپ کا نافرمان۔ (درمنثور ‘ ج ٤ ص ٤٤٤‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ‘ ١٤١٤ ھ) 

ناپ تول میں کمی کا حرام ہونا :

(آیت) ” ولا تنقصوالمکیال والمیزان “۔ (ھود : ٨٤) 

ترجمہ : اور ناپ اور تول میں کمی نہ کرو۔ 

(آیت) ” ویقوم اوفوالمکیال والمیزان بالقسط ولاتبخسوالناس اشیآء ھم “۔ (ھود : ٨٥) 

ترجمہ : اے میری قوم ناپ اور تول کو انصاف کے ساتھ پورا کرو اور لوگوں کی چیزیں کم کر کے انہیں نقصان نہ پہنچاؤ۔ 

حضرت عبداللہ بن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ جس قوم میں خیانت ظاہر ہوگی ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا جائے گا ‘ اور جس قوم میں بہ کثرت زنا ہوگا ان میں بکثرت موت ہوگی ‘ اور جو قوم ناپ تول میں کمی کرے گی ان کا رزق کاٹ دیا جائے گا ‘ اور جو قوم ناحق فیصلے کرے گی ان میں بہت خون ریزی ہوگی ‘ اور جو قوم عہد شکنی کرے گی اللہ تعالیٰ ان پر دشمن کو مسلط کر دے گا۔ (موطا امام مالک ‘ رقم الحدیث : ٩٩٨)

ناحق بات کا حرام ہونا : 

(آیت) ” یایھا الذین امنوا کونوا قوامین بالقسط شھدآء للہ ولوعلی انفسکم اوالوالدین والاقربین ان یکن غنیا او فقیرا فاللہ اولی بھما فلا تتبعوا الھوی ان تعدلوا “۔ (النساء : ١٣٥) 

ترجمہ : اے ایمان والو ! انصاف پر اچھی طرح قائم رہنے والے ہوجاؤ‘ درآنحالیکہ اللہ کے لیے گواہی دینے والے ہو ‘ خواہ (وہ گواہی) خود تمہارے خلاف ہو یا والدین کے یا رشتہ داروں کے (جس کے متعلق گواہی دی ہے) خواہ وہ مالدار ہو یا فقیر ‘ اللہ ان دونوں کا تم سے زیادہ خیر خواہ ہے ‘ لہذا تم اپنی خواہش کی پیروی کرکے عدل سے گریز نہ کرو۔ 

(آیت) ” فلاتخشوا الناس واخشونی “۔ (المائدہ : ٤٤) 

ترجمہ : پس تم لوگوں سے نہ ڈرو اور مجھ سے ہی ڈرو۔ 

حضرت طاررق بن شہاب (رض) بیان کرتے ہیں ‘ ایک شخص نے رکاب میں پیر رکھتے ہوئے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا ‘ کون سا جہاد افضل ہے ؟ آپ نے فرمایا ظالم بادشاہ کے سامنے کلمہ حق کہنا۔ (سنن النسائی ‘ ج ٧‘ رقم الحدیث : ٤٢٢٠‘ مطبوعہ دارالمعرفہ ‘ بیروت ‘ ١٤١٢ ھ) 

حضرت ابو سعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ظالم حکمران کے سامنے کلمہ حق کہنا افضل جہاد ہے۔ 

(سنن ابوداؤد ’ ج ٤‘ رقم الحدیث : ٤٣٤٤‘ سنن الترمذی ‘ ج ٤‘ رقم الحدیث : ٢١٨١‘ سنن ابن ماجہ ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث : ٤٠١١‘ مسنداحمد ‘ ج ٣‘ ص ١٩‘ ج ٤‘ ص ٣١٥‘ ٣١٤‘ ج ٥‘ ص ٢٥١ طبع قدیم) 

حضرت ابو سعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں ایک دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خطبہ میں جو باتیں فرمائیں ‘ ان میں یہ بھی فرمایا کہ جب کسی شخص کو کسی حق بات کا علم ہو تو وہ لوگوں کے دباؤ کی وجہ سے اس کو بیان کرنے سے باز نہ رہے۔ 

(سنن الترمذی ‘ ج ٤‘ رقم الحدیث :‘ ٢١٩٨‘ سنن ابن ماجہ ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ٤٠٠٧‘ صحیح ابن حبان ‘ ج ٨‘ رقم الحدیث :‘ ٣٢٢١‘ مسند احمد ‘ ج ٣‘ ص ٩٢‘ ٨٧‘ ٨٤‘ ٧١‘ ٦١‘ ٥٢‘ ٥٠‘ ٤٧‘ ٤٤‘ ١٩‘ طبع قدیم ‘ مسند احمد ‘ ج ٤‘ رقم الحدیث :‘ ١١١٦٩‘ طبع جدید دارالفکر ‘ المعجم الاوسط ‘ ج ٣‘ رقم الحدیث :‘ ٢٨٢٥) 

اللہ تعالیٰ سے بدعہدی کرنے کا حرام ہونا : 

(آیت) ” واوفوا بعھد اللہ اذا عاھدتم ولا تنقضوا الایمان بعد توکیدھا “۔ (النحل : ٩١) 

ترجمہ : اور جب تم عہد کرو تو اللہ کے عہد کو پورا کرو اور قسموں کو پکا کرنے کے بعد نہ توڑو۔ 

(آیت) ” فاعقبھم نفاقا فی قلوبھم الی یوم یلقونہ بما اخلفوا اللہ ماوعدوہ وبما کانوا یکذبون “۔ (التوبہ : ٧٧) 

ترجمہ : سو اللہ سے ملاقات کے دن تک انکے دلوں میں نفاق رکھ دیا ‘ کیونکہ انہوں نے اللہ سے کیے ہوئے وعدہ کی خلاف ورزی کی تھی اور اس لیے کہ وہ جھوٹ بولتے تھے۔ 

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا قیامت کے دن جب اللہ اولین وآخرین کو جمع فرمائے گا تو ہر عہد شکن کے لیے ایک جھنڈا بلند کیا جائے گا اور کہا جائے گا کہ یہ فلاں بن فلاں کی عہد شکنی کا جھنڈا ہے۔ 

(صحیح البخاری ‘ ج ٧‘ رقم الحدیث :‘ ٦١٧٧‘ صحیح مسلم ‘ جہاد ‘ ٩‘ (١٧٣٥) ٤٤٤٨‘ سنن الترمذی ‘ ج ٣‘ رقم الحدیث :‘ ١٥٨٧‘ سنن ابوداؤد ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ٢٧٥٦‘ صحیح ابن حبان ‘ ج ١٦‘ رقم الحدیث :‘ ٧٣٤٣‘ مسند احمد ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ٤٦٤٨‘ مسند احمد ‘ ج ١‘ ص ٤١١‘ ٤١٧‘ ٤٤١‘ ج ٢‘ ص ٥٦‘ ٤٩‘ ٤٨‘ ٢٩‘ ١٦‘ طبع قدیم ‘ مسند احمد ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ٤٦٤٨‘ طبع جدید ‘ سنن کبری ‘ للبیہقی ‘ ج ٨‘ ص ١٦٠۔ ١٥٩) 

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خطبہ میں فرمایا سنو ! جو امانت دار نہ ہو اس کا ایمان نہیں اور جو عہد پورا نہ کرے وہ دین دار نہیں۔ (شعب الایمان ‘ ج ٤‘ رقم الحدیث :‘ ٤٣٥٤ )

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 6 الأنعام آیت نمبر 151