أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَهٰذَا كِتٰبٌ اَنۡزَلۡنٰهُ مُبٰرَكٌ فَاتَّبِعُوۡهُ وَاتَّقُوۡا لَعَلَّكُمۡ تُرۡحَمُوۡنَۙ ۞

ترجمہ:

اور یہ کتاب جس کو ہم نے نازل کیا ہے برکت والی ہے لہذا تم اس کی پیروی کرو اور ڈرتے رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور یہ کتاب جس کو ہم نے نازل کیا ہے برکت والی ہے لہذا تم اس کی پر وی کرو اور ڈرتے رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔ (الانعام : ١٥٥) 

مشرکین پر اتمام حجت کے لیے قرآن مجید کو نازل فرمانا : 

اس آیت کا معنی ہے یہ قرآن مجید جس کو ہم نے اپنی نبی محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل کیا ہے ‘ یہ برکت والی کتاب ہے۔ تم اس کی پیروی کرو ‘ یعنی اس کتاب کو اپنا امام بنالو اور جو عقائد اس میں مذکور ہیں ان کو مانو ‘ اور جو احکام میں مذکور ہیں ان پر عمل کرو ‘ اور ڈرتے رہو ‘ یعنی اپنے دلوں میں اللہ سے ڈرو اور اس کے خلاف عمل نہ کرو اور اس کی حدود سے تجاوز نہ کرو اور اس کی حرام کردہ چیزوں کو حلال نہ کرو۔ ربیعہ بیان کرتے ہیں کہ قرآن مجید نے احکام بیان کیے اور کئی احکام سنت کے لیے چھوڑ دیئے اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سنتیں قائم کیں اور کئی امور رائے اور قیاس کے لیے چھوڑ دیئے۔ (تفسیر امام ابن ابی حاتم ‘ ج ٥‘ ص ١٤٢٤ )

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 6 الأنعام آیت نمبر 155