کیا کشمیر میں سب ٹھیک ہے؟

فریب وتضاد کی تجربہ گاہ بنے کشمیر کے موجودہ حالات پر تجزیاتی تحریر

غلام مصطفےٰ نعیمی

مدیر اعلیٰ: سواد اعظم دہلی

روشن مستقبل دہلی

gmnaimi@gmail.com

سنسان سڑکیں اور دور تک پھیلا ہوا سنّاٹا، فوجی بوُٹوں کی آواز اور گھروں میں سسکتی آہیں !! یہ نظارہ ہے کشمیر کا، جہاں دو مہینے گزر جانے کے بعد بھی کسی کو 80 لاکھ کی آبادی پر رحم نہیں آرہا ہے۔ بھوک سے بلکتے بچے اور دواؤں کو ترستے مریضوں پر کسی کا دل نہیں پسیج رہا ہے۔ ایک طرف حکومتی مشنری اور بھونپو میڈیا ہے جو “آل اِز ویل” کی گردان میں مصروف ہے۔ لیکن دوسری طرف فیکٹ فائنڈنگ ٹیم کی رپورٹ، کشمیر گئے CPM لیڈر سیتا رام ییچوری کا بیانیہ یا پھر سپریم کورٹ کے دخل کے بعد کشمیر گئے غلام نبی آزاد کی چشم دید منظر کشی ایک الگ ہی کہانی ہے۔ انہیں افراد کی آنکھوں دیکھی کے اہم نکات پڑھیں اور کشمیر کی صورت حال کو سمجھنے کی کوشش کریں:

🔹پچھلے پچاس دنوں کے اندر 10 سے 22 سال کی عمر کے 13 ہزار بچوں کو گھروں سے اٹھایا گیا ہے۔

🔹کھانے پینے کی اشیا کی شدید ترین قلت ہے، غلام نبی آزاد کے مطابق کئی علاقوں میں لوگ دوسروں سے مانگنے پر مجبور ہیں۔

🔹آزاد صاحب کا کہنا کہ مجھ سےملنے والوں کو ڈرایا جاتا تھا تاکہ وہ مجھے صحیح صورت حال نہ بتاسکیں۔ملنے والوں سے کہا گیا کہ ان کے چہرے کیمروں میں قید ہیں اگر کچھ بتایا تو بعد میں انہیں اٹھا لیا جائے گا۔

🔹سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود انتظامیہ نے مجھے دس فیصد مقامات پر بھی نہیں جانے دیا۔ ان کے مطابق کشمیر کا ماحول بے حد ڈراؤنا اور خراب ہے،لوگ نہایت کس مپرسی میں جی رہے ہیں !!

17 سے 21 ستمبر کے درمیان خواتین تنظیموں کے پانچ رکنی وفد نے کشمیر کا دورہ کیا تھا، اس وفد میں اینی راجا،پنکھڑی ظہیر، کمل جیت کَور،پونم کوشک اور سعیدہ حمید شامل تھیں. کشمیر کے مختلف علاقوں میں دورہ کرنے کے بعد اس ٹیم نے دہلی پریس کلب میں اپنی جانچ رپورٹ میڈیا کے سامنے پیش کی اسی کے چند نکات یہ ہیں:

🔸کشمیری بچوں کو گھروں سے اٹھایا جارہا ہے لیکن اہل خانہ کو اطلاع نہیں دی جارہی ہے۔

🔸وکیلوں کو پی ایس اے (پبلک سیفٹی ایکٹ) کے تحت گرفتار کیا جارہا ہے۔بارکونسل اور عدالتیں مکمل بند ہیں۔

🔸اسپتالوں میں بنیادی سہولتوں کا فقدان ہے۔مریض دوائوں کے لیے پریشان ہیں۔

🔸خوف کی وجہ سے لوگ رات آٹھ بجے کے بعد لائٹ تک بجھا دیتے ہیں۔ایک کشمیری خاتون کا کہنا تھا کہ رات کو بچے کو پیشاب بھی لگے تو لائٹ نہیں جلاتی کیوں کہ لائٹ جلانے پرحفاظتی دستے ہم پر سختی کرتے ہیں !!

ایک طرف کشمیر جانے والے سماجی کارکنان ، سی پی ایم اور کانگریس کے لیڈران کشمیر کی یہ صورت حال سامنے رکھتے ہیں تو دوسری جانب وزیر داخلہ نے ایک دم متضاد صورت حال بیان کرتے ہوئے 29 ستمبر کو بیان دیا:

“وادی میں اب کوئی پابندی نہیں ہے.پابندی کہاں ہے؟پابندی آپ (اپوزیشن)کے دماغ میں ہے،کشمیر میں سب ٹھیک ہے”

وزیرداخلہ کے اس بیان پر اعتراض کرتے کانگریسی لیڈر غلام نبی آزاد نے کہا:

“اگرکشمیر میں کوئی پابندی نہیں ہے تو ابھی تک 10سے 15 ہزار نوجوان اور سیاسی لیڈران کس لئے قید ہیں،موبائل فون اور انٹرنیٹ کیوں بند ہے،کالجز اور یونیورسٹی کیوں بند ہے۔”

یہاں مزید کچھ سوال ہیں جو حکومت سے جواب چاہتے ہیں:

📍اگر کشمیر میں پابندیاں نہیں ہیں تو لوگوں کو آزادانہ نقل و حمل کی اجازت کیوں نہیں ہے؟

📍کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ غلام نبی آزاد کو 8؍اگست کوپہلی مرتبہ اور 20؍اگست کو دوسری مرتبہ کشمیر میں داخل نہیں ہونے دیاگیا اور ہوائی اڈے سے ہی واپس دہلی لوٹا دیا گیا۔غلام نبی آزاد خود کشمیری ہیں،سابق وزیراعلیٰ اور راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر ہیں اگر اتنا سینئر لیڈر بھی اپنے گھر نہیں جاسکتا تو اندازہ لگایا جاسکتاہے کہ صورت حال کتنی سنگین ہوگی۔

📍سابق آئی اے ایس ٹاپر شاہ فیصل کو دہلی ائیرپورٹ پر اس وقت روک دیا گیاجب وہ کسی تعلیمی پروجیکٹ کے سلسلے میں جرمنی جانا چاہتے تھے لیکن انہیں ائیرپورٹ سے واپس لاکر کشمیر میں پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتار کر لیا گیا۔آخر ایک آئی اے ایس ٹاپر کو اس غیر قانونی طریقے سے کیوں گرفتار کیا؟

📍5؍اکتوبر کو امریکی سینیڑ اور کشمیر امور کے ماہر کِرِس وان ہَالین کشمیر جاکر وہاں کے حالات دیکھنا چاہتے تھے لیکن حکومت نے ان کو کشمیر جانے کی اجازت نہیں دی،اگر کشمیر میں سب ٹھیک ہے تو کرس وان کوجانے کی اجازت کیوں نہیں دی گئی؟

انڈین ایکس پریس سے بات کرتے ہوئے کِرِس وان ہالین نے کہا :

“میں کشمیر جاکر دیکھنا چاہتا تھا کہ وہاں کیا ہورہا ہے ؟ لیکن بھارت حکومت نے اس کی اجازت نہیں دی، ہم نے ایک ہفتہ پہلے جانے کی اجازت مانگی تھی، لیکن بتایا گیا کہ ابھی وہاں جانے کے لئے حالات صحیح نہیں ہیں۔ اگر آپ کے پاس چھپانے کے لئے کچھ نہیں ہے تو صوبے میں کسی کو جانے کی اجازت دینے میں ڈرنے کی کوئی بات نہیں۔ اس معاملے سے میں یہ نتیجہ نکالتا ہوں کہ بھارت سرکار نہیں چاہتی کہ ہم دیکھ سکیں کہ وہاں کیا ہو رہا ہے؟”

ایک طرف حکومت بین الاقوامی فورم پر یہ اعلان کرتی پھرتی ہے کہ “کشمیر میں سب ٹھیک ہے” دوسری جانب ایک غیر ملکی مبصر اور امریکی ایم پی تک کو جانے سے روک دیتی ہے،آخر کشمیر میں ایسا کیا ہے جسے دکھانے سے حکومت کو کوئی خوف ہے۔کیا وادی سے آنے والی حقوق انسانی کی پامالی کی خبریں درست ہیں؟

حکومت کی تضاد بیانیاں:

کشمیر معاملے پر جس طرح حکومت نے متضاد باتیں کی ہیں وہ فریب کاری سیاست کا بدترین نمونہ ہیں۔

🔸3؍ اگست کومرکزی حکومت اور کشمیر کے گورنر نے صوبے میں اضافی فوجی دستوں کی تعیناتی اور امرناتھ یاترا درمیان میں ختم کرنے نیز سیاحوں کو ایمرجنسی وہاں سے نکالنے پر صفائی دیتے ہوئے کہا تھا کہ فوجی دستوں کی تعیناتی صرف حفاظتی نقطہ سے کی جارہی ہے۔ایجنسیوں کو اطلاع تھی کہ امرناتھ یاترا پر حملہ ہو سکتا ہے اس لیے یہ اضافی فوج لگائی گئی ہے۔حالانکہ 5؍اگست کو آرٹیکل 370؍کی منسوخی اور کشمیری عوام پر تھوپے گئے کرفیو نے اس بیان کو جھوٹا ثابت کر دیا۔فوج صرف کشمیری عوام کے احتجاجی مظاہروں کو روکنے کے لیے لگائی گئی تھی۔

🔸عید الاضحی کے موقع پر دعویٰ کیا گیا کہ پورے کشمیر میں لوگوں نے جوش وخروش کے ساتھ نماز عید ادا کی اور قربانی کا فریضہ انجام دیا گیا ہے۔لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ کشمیر کی اکثر مساجد میں نماز ادانہیں کرنے دی گئی اور لوگوں نے اپنے ہی گھروں میں عید کی نماز ادا کی۔

🔸370؍ کی منسوخی کے دو دن بعد7؍ اگست کوقومی سلامتی صلاح کار نے کشمیر جاکر لب سڑک چند کشمیری لوگوں کے ساتھ بریانی کھاتے ہوئے تصاویر وائرل کراکے دعویٰ کیا کہ “کشمیر میں سب ٹھیک ہے”. لوگ آزادانہ گھوم پھر رہے ہیں۔حالانکہ جس سڑک پر وہ کھانا کھا رہے تھے وہاں کی بند دکانیں ہی ان کے بیان کو

جھٹلا رہی تھیں اور بعد میں ثابت ہوگیا کہ وہ محض ایک دکھاوا تھا۔

کرفیو کے درمیان کیسا الیکشن؟

اس درمیان حکومت نے کشمیر میں بی ڈی سی (Block Development Council) الیکشن کا اعلان کرکے کشمیریوں کی بے چارگی کا مذاق اڑایا ہے۔ زخموں پر نمک چھڑکنا اسی کو کہتے ہیں۔ جس صوبے میں 80 لاکھ لوگ فوجی بندوقوں کے سایے میں قید ہیں وہاں الیکشن کرانے کا کیا مطلب ہے ؟

اس وقت زیادہ تر سیاسی کارکنان گرفتار ہیں یا گرفتاری کے خوف سے روپوش ہیں۔ تینوں بڑی سیاسی پارٹیوں( کانگریس ،نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی) کی تقریباً ساری اعلی قیادت نظربند ہے۔قصبات ودیہات کے کارکنان جیلوں میں بند ہیں،ایسے وقت میں الیکشن کرانا کشمیری عوام کے جمہوری حقوق چھیننا اور سیاسی لیڈران وکارکنان کی غیر موجودگی میں اپنا سیاسی دائرہ بڑھانا ہے۔بی ڈی سی الیکشن میں پَنچ اور سَر پَنچ ہی ووٹر ہوا کرتے ہیں جب یہی لوگ گرفتار اور روپوش ہیں تو الیکشن لڑے گا کون ،ووٹ ڈالے گا کون؟

جواب سادہ ہے، بس بی جے پی کے لوگ!!

حکومتی اعلان پر غصہ کرتے ہوئے شوپیان ضلع کے ایک سَر پَنچ کا کہنا ہے:

“کس الیکشن کی بات کر رہے ہیں وہ لوگ! یہ جمہوریت کو شرمندہ کرنے والا قدم ہے۔ہم پر دوہری مصیبت پڑی ہے،پہلے انتہا پسند ہمارے دشمن تھے اور اب پولیس ہمارے پیچھے پڑی ہے۔ ہم انتہا پسند اور پولیس دونوں سے چھپتے پھر رہے ہیں۔”

حکومت کے اعلان کے بعد انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس نے جموں علاقہ کے سیاسی لیڈران اور کارکنان کو رہا کر دیا ہے لیکن وادی کے لوگوں کی رہائی پر انتظامیہ خاموش ہے۔صوبے میں بی جے پی کو چھوڑ کر جملہ سیاسی قیادت اور کارکنان قید ہیں ایسے میں یہ الیکشن اپنے سیاسی دائرہ کو بڑھانے سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔ ایسے میں یہ بات ایک دم صاف ہوجاتی ہے کہ بی جے پی حکومت تاناشاہی کے ذریعے اقتدار پر قابض ہونا چاہتی ہے جو سراسر جمہوری قدروں کی پامالی ہے.

مؤرخہ 11 صفرالمظفر 1441ھ

11 اکتوبر 2019 بروز جمعہ