أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَنۡ تَقُوۡلُـوۡۤا اِنَّمَاۤ اُنۡزِلَ الۡـكِتٰبُ عَلٰى طَآئِفَتَيۡنِ مِنۡ قَبۡلِنَا ۖ وَاِنۡ كُنَّا عَنۡ دِرَاسَتِهِمۡ لَغٰفِلِيۡنَۙ ۞

ترجمہ:

(یہ کتاب اس لیے نازل کی ہے کہ) کہیں تم یہ (نہ) کہو کہ ہم سے پہلے صرف دو گروہوں پر کتاب نازل کی گئی تھی اور بیشک ہم اس کے پڑھنے پڑھانے سے غافل تھے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (یہ کتاب اس لیے نازل کی ہے کہ) کہیں تم یہ (نہ) کہو کہ ہم سے پہلے صرف دو گروہوں پر کتاب نازل کی گئی تھی اور بیشک ہم اس کے پڑھنے پڑھانے سے غافل تھے۔ (الانعام : ١٥٦) 

(آیت) ” ان تقولوا ‘ لئلا تقولوا “ کے معنی میں ہے جیسے (آیت) ” یبین اللہ لکم ان تضلوا ‘ لئلا ان تضلوا “ کے معنی میں ہے (آیت) ” یا کراھیۃ ان تقولوا “ کے معنی میں ہے۔ 

(تفسیر کبیر ‘ ج ٥‘ ص ١٨٧‘ جامع البیان ‘ جز ٨‘ ص ١٢٢‘ بیضاوی علی ھامش الکازرونی ‘ ج ٢‘ ص ٤٦٨‘ کشاف ‘ ج ٢‘ ص ٨١) 

اس آیت میں اہل مکہ سے خطاب ہے کہ کہیں قیامت کے دن وہ یہ نہ کہیں کہ اس سے پہلے یہود اور نصاری پر تورات اور انجیل نازل کی گئی تھی اور ہم چونکہ ان پڑھ تھے ‘ اس لیے ہم اس کے پڑھنے پڑھانے سے قاصر تھے اور ہم پر کوئی کتاب نازل نہیں کی گئی تھی جس کی ہم پیروی کرتے ‘ ہمیں کوئی حکم دیا گیا تھا ‘ نہ کسی چیز سے روکا گیا تھا۔ ہم سے کوئی وعدہ کیا گیا ‘ نہ ہم پر کوئی وعید نازل ہوئی اور اللہ کی حجت تو صرف ان دو گروہوں پر قائم ہوئی جو ہم سے پہلے تھے جن پر تورات اور انجیل نازل ہوئی۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 6 الأنعام آیت نمبر 156