ہم صحابہ کرام علیھم الرضوان کی تعظیم و تکریم کو واجب سمجھتے ہیں ، اور اُن پر طعن تشنیع کو حرام قرار دیتے ہیں ۔

اُن کے باہمی جھگڑوں میں خاموشی اختیار کرتے ہیں ، کیوں کہ یہ اجتہاد کی بِنا پر تھے ۔

یہی سارے اہلِ حق کا مذہب ہے ، جو کہ اہلِ سنت و جماعت ہیں ؛ جن میں صحابہ ، تابعین اور ائمہ مجتہدین ہیں ۔

” جس نے یہ راستہ چھوڑا وہ گم راہ ، بدعتی یا کافر ہے ۔ “

( مجموعة رسائل ابن عابدین ، ج 1 ، ص 357 ، ط عالم الکتب )

علامہ ابن عابدین حنفی رحمہ اللہ نے بات ہی ختم کردی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اب ہمارے لیے یہ سمجھنا بہت آسان ہوگیا کہ:

حضرت علی ، سیدہ عائشہ ، حضرت طلحہ ، حضرت زبیر ، حضرت معاویہ ، حضرت عمرو بن العاص ، حضرت مغیرہ بن شعبہ وغیرہ اصحاب رسول رضی اللہ عنھم کے باہمی نزاع کی وجہ سے اُن پر طعن کرنے والا گمراہ ، بدعتی ہے یا کافر ؛ اہل حق اہل سنت وجماعت ایسا کام نہیں کرتے ۔

✍لقمان شاہد

12/10/19