حدیث نمبر :609

روایت ہے حضرت زیاد ابن حارث صدائی سے ۱؎ فرماتے ہیں مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز فجرمیں حکم دیا کہ اذان کہومیں نے اذان کہی پھر حضرت بلال نے تکبیر کہناچاہی توحضورانورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ تمہارے صدائی بھائی نے اذان کہی ہے جو اذان کہے وہ ہی تکبیر کہے۲؎ (ترمذی،ابوداؤد،ابن ماجہ)

شرح

۱؎ صداءیمن کا ایک قبیلہ ہے اسی نسبت سے آپ کو صدائی کہتے ہیں،آپ کا شماربصرہ والوں میں ہے،آپ نے حضور سے بیعت کی ہے اورایک آدھ بارحضور انورصلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اذان بھی کہی ہے۔

۲؎ یعنی تکبیراذان والے کا حق ہے۔خیال رہے کہ امام اعظم کا مذہب یہ ہے کہ مؤذن کی اجازت سے دوسرا شخص تکبیر کہہ سکتا ہے،نیز اگر پتہ ہوکہ مؤذن دوسرے کی تکبیر پر ناراض نہ ہوگا تب بھی جائز ہے کیونکہ روایات میں ہے کہ بارہا حضرت بلال اذان دیتے اورحضرت عبداﷲ ابن ام مکتوم تکبیر کہتے،کبھی اس کے برعکس بھی ہوتا،لہذا یہ حدیث اس موقعہ کے لئے ہے جب مؤذن ناراض ہو،دونوں حدیثیں درست ہیں۔