شرح حدیث عمار رضی اللہ عنہ !!!!

از! شیخ الحدیث علامہ غلام رسول سعیدی رحمہ اللہ !!

امام بخاری روایت کرتے ہیں: از عکرمہ، انہوں نے بیان کیا کہ حضرت ابن عباس رض نے مجھ سے اور اپنے بیٹے علی سے فرمایا : تم دونوں حضرت ابوسعید رض کے پاس جائو اور ان سے حدیث کا سماع کرو، پس ہم دونوں گئے ، اس وقت حضرت ابوسعید رض اپنے باغ کی اصلاح کر رہے تھے ، انہوں نے اپنی چادر کے ساتھ کمر اور گھٹنوں کو باندھ دیا ، پھر ہمیں حدیث سنانے لگے حتیٰ کہ مسجد کی تعمیر کا ذکر آیا تو انہوں نے کہا : ہم ایک ایک اینٹ اٹھا کر لارہے تھے اور حضرت عمار دو دو اینٹیں اٹھا کر لا رہے تھے ۔ نبی کریم ع نے انہیں اس حال میں دیکھا تو اُن سے مٹی جھاڑی اور فرمایا :

“عمار پر افسوس ہے ! اس کو ایک باغی جماعت قتل کرے گی ، یہ ان کو جنت کی طرف بلائے گا اور وہ اس کو دوزخ کی طرف بلائیں گے “

حضرت ابوسعید رض نے کہا : حضرت عمار رض کہتے تھے : میں فتنوں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آتا ہوں ۔

(صحیح البخاری)

اس حدیث پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ اس میں مذکور ہے کہ:عمار رضی اللہ عنہ پر افسوس ہے!اس کو باغی جماعت قتل کرے گی وہ ان کو جنت کی طرف بلاے گا اور وہ اس کو دوزخ کی طرف بلائیں گے،اور حضرت عمار رضی اللہ عنہ کو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے گروہ نے قتل کیا تھا اور ان پر اس حدیث میں باغی اور دوزخ کی طرف بلانے والا فرمایا ہے،،

علامہ عینی لکھتے ہیں:

اس اعتراض کا صحیح جواب یہ ہے کہ دونوں طرف کے صحابہ مجتہدین تھے اور وہ اپنے گمان میں دوسرے فریق کو جنت کی طرف بلا رہے تھے اگرچہ واقع میں اس کے خلاف تھا اور جو اپنے گمان کی اتباع کر رہا ہو اس پر کوئی ملامت نہیں ہوتی اگر تم یہ کہو کہ جب مجتہد صحیح نتیجہ پر پوھنچے تو اس کو دو اجر ملتے ہیں اور جب وہ خطا کرے تو اس کو ایک اجر ملتا ہے تو یھاں معاملہ کیسے ہو گا؟ میں کہتا ہوں کہ یہ جواب امتناعی ہے اور صحابہ کے حق میں اس کے خلاف کوئی بات کہنا مناسب نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کی تعریف کی ہے اور ان کی فضیلت کی شہادت دی اور فرمایا ہے :تم بہترین امت ہو جو لوگوں کیلئے ظاہر کی گئی ہے(آل عمران 110) اور مفسرین نے کہا ہے کہ اس آیت کے مصداق سیدنامحمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب ہیں،

(عمدة القاری جلد4 ص308)

میں کہتا ہوں( علامہ غلام رسول سعیدی رحمہ اللہ )اس کا جواب یہ ہے کہ ان پر باغی اور دوزخ کی طرف بلانے والے کا اطلاق بہ اعتبار ظاہر ہے حقیقت کے اعتبار سے نہیں ہے کیوں کہ حقیقت میں ان کے گمان کے اعتبار سے ان کا اقدام برحق تھا وہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قصاص کے طالب تھے حالانکہ واقع میں ان کا یہ اجتہاد مبنی بر خطاء تھا کیوں کہ وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خلاف جنگ کر رہے تھے اور وہ امیر برحق اور خلیفہ مسلمین تھے اور امیر برحق کے ساتھ جنگ کرنا بغاوت ہے اور دوزخ میں دخول کا سبب ہے اس لئے ظاہر کے اعتبار سے وہ باغی تھے اور دوزخ کی طرف بلانے والے ،لیکن حقیقت میں باغی نہیں تھے کیوں کہ ان کا یہ اقدام اپنے اجتہاد کی وجہ سے تھا،

اس حدیث کی نظیر قرآن مجید کی یہ آیت ہے:

:اور آدم نے اپنے رب کی معصیت کی پس وہ بے راہ ہوے، (طہ121)

اس آیت میں شجر ممنوعہ سے کھانے پر آدم علیہ السلام پر معصیت اور غوایت کا اطلاق بہ اعتبار ظاہر ہے حقیقت میں وہ نبی معصوم ہیں اور ان کا شجر ممنوعہ کھانا معصیت نہ تھا ان کے اجتہاد سے تھا انھوں نے یہ سمجھا کہ اللہ تعالیٰ نے تنزیہاً منع فرمایا ہے اور وہ یہ بھول گئے کہ اللہ تعالیٰ نے تحریماً منع فرمایا ہے اور معصیت تب ہوتی جب وہ قصداً ممنوع کام کا ارتکاب کرتے اور انھوں نے بھولے سے یہ کام کیا تھا،

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:پس آدم سے بھول گئے اور ہم نے(ان کی معصیت کا)کوئی عزم نہ پایا،(طہ115)

لہذا قرآن مجید میں حضرت آدم کے فعل پر معصیت کا اطلاق ظاہر اور صورت کے اعتبار سے ہے اور حقیقت کے اعتبار سے وہ معصیت نہیں ہے اسی طرح اس حدیث میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے گروہ پر باغی ہونے اور دوزخ کی طرف بلانے والے ہونے کا اطلاق ظاہر اور صورت کے اعتبار سے ہے حقیقت کے اعتبار سے نہیں ہے اور اس پر دلیل یہ ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے لشکر کے متعلق بہت دعائیں کی ہیں اور ان کی فضیلت میں بہت سی احادیث وارد ہیں:

“حارث بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ صفین سے واپس آے تو آپ نے ایسی باتیں فرمائیں جو اس سے پہلے نہیں فرماتے تھے آپ نے فرمایا اے لوگو!حضرت معاویہ کی امارت کو ناپسند مت کرو اللہ کی قسم اگر تم نے ان کو گم کر دیا تو تمھارے کندھوں سے تمھارے سر حنظل کے پھل کی طرح گرنے لگیں گے،(مصنف ابن ابی شیبہ/کنزالعمال)

عبداللہ بن عروہ نے کہا:مجھے اس شخص نے خبر دی جو جنگ صفین میں حاضر تھا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کسی رات باہر نکلے آپ نے اہل شام کی طرف دیکھ کر یہ دعا کی:اے اللہ میری مغفرت فرما اور ان کی مغفرت فرما پھر حضرت عمار لاے گئے تو آپ نے ان کیلئے بھی یہی دعا کی،(مصنف ابن ابی شیبہ)

یزید بن اصم بیان کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے جنگ صفین کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا:ہمارے مقتول اور ان کے مقتول جنت میں ہیں اور یہ معاملہ میرے اور معاویہ کی طرف سونپ دیا جائے گا،(مصنف ابن ابی شیبہ/کنزالعمال)

نعیم بن ابی ہند اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں:میں صفین میں حضرت علی کے ساتھ تھا تو نماز کا وقت آ گیا تو ہم نے بھی اذان دی اور اہل شام نے بھی اذان دی ہم نے بھی اقامت کہی اور انھوں نے بھی اقامت کہی پھر ہم نے نماز پڑھی اور انھوں نے بھی نماز پڑھی پھر حضرت علی نے مڑ کر دیکھ تو ہمارے درمیان بھی مقتولین تھے اور ان کے درمیان بھی مقتولین تھے جب حضرت علی نماز سے فارغ ہو گئے تو میں نے ان سے پوچھا: آپ ہمارے مقتولین اور ان کے مقتولین کے متعلق کیا فرماتے ہیں؟آپ نے فرمایا : جو ہم میں سے اور ان میں سے اللہ کی رضا اور آخرت کیلئے لڑتا ہوا قتل کیا گیا وہ جنت میں ہے،

سنن سعید بن منصور/کنزالعمال)

اور اگر حضرت علی کے نزدیک حضرت معاویہ کی جماعت صراحتہً باغی ہوتی تو ان سے جنگ موقوف نہ کرتے اور کبھی تحکیم کو قبول نہ کرتے،

( نعمتہ الباری شرح صحیح بخاری علامہ غلام رسول سعیدی رحمہ اللہ )،