أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

هَلۡ يَنۡظُرُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ تَاۡتِيَهُمُ الۡمَلٰۤئِكَةُ اَوۡ يَاۡتِىَ رَبُّكَ اَوۡ يَاۡتِىَ بَعۡضُ اٰيٰتِ رَبِّكَ ؕ يَوۡمَ يَاۡتِىۡ بَعۡضُ اٰيٰتِ رَبِّكَ لَا يَنۡفَعُ نَفۡسًا اِيۡمَانُهَا لَمۡ تَكُنۡ اٰمَنَتۡ مِنۡ قَبۡلُ اَوۡ كَسَبَتۡ فِىۡۤ اِيۡمَانِهَا خَيۡرًا‌ ؕ قُلِ انْتَظِرُوۡۤا اِنَّا مُنۡتَظِرُوۡنَ ۞

ترجمہ:

وہ صرف یہ انتظار کر رہے ہیں کہ ان کے پاس فرشتے آئیں، یا آپ کا رب آئے، یا آپ کے رب کی کوئی نشانی آئے، جس دن آپ کے رب کی بعض نشانیاں آجائیں گی تو کسی ایسے شخص کو ایمان لانے سے نفع نہیں ہوگا جو اس سے پہلے ایمان نہ لایا ہو یا اس نے اپنے ایمان میں کوئی نیکی نہ کی ہو، آپ کہیے کہ تم بھی انتظار کرو اور ہم بھی انتظار کر رہے ہیں۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وہ صرف یہ انتظار کر رہے ہیں کہ ان کے پاس فرشتے آئیں، یا آپ کا رب آئے، یا آپ کے رب کی کوئی نشانی آئے، جس دن آپ کے رب کی بعض نشانیاں آجائیں گی تو کسی ایسے شخص کو ایمان لانے سے نفع نہیں ہوگا جو اس سے پہلے ایمان نہ لایا ہو یا اس نے اپنے ایمان میں کوئی نیکی نہ کی ہو، آپ کہیے کہ تم بھی انتظار کرو اور ہم بھی انتظار کر رہے ہیں۔ (الانعام : ١٥٨) 

قیامت سے پہلے دس نشانیوں کا ظہور : 

اس آیت کا معنی یہ ہے کہ یہ مشرکین جو بتوں کو اپنے رب کے مساوی قرار دیتے ہیں اور باوجود آپ کی بسیار کوشش اور تبلیغ کے ایمان نہیں لاتے ‘ وہ صرف اس کا انتظار کر رہے ہیں کہ موت کے فرشتے آئیں اور ان کی روحوں کو قبض کرلیں ‘ یا حشر کے دن آپ کا رب مخلوق کے سامنے اپنی شان کے مطابق آئے یا آپ کے رب کی بعض نشانیاں آئیں جن کے بعد قیامت قائم ہوجائے گی، آپ کہئے کہ تم بھی انتظار کرو اور ہم بھی انتظار کر رہے ہیں۔ 

حضرت حذیفہ بن اسید غفار (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے پاس تشریف لائے ‘ ہم اس وقت آپس میں گفتگو کر رہے تھے، آپ نے پوچھا تم کیا باتیں کر رہے ہو ؟ انہوں نے کہا ہم قیامت کا ذکر کر رہے ہیں۔ آپ نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک کہ تم اس سے پہلے دس نشانیاں نہ دیکھ لو ‘ پھر آپ نے دھوئیں کا ذکر کیا اور دجال کا اور دابۃ الارض کا اور مغرب سے سورج کے طلوع ہونے کا اور حضرت عیسیٰ بن مریم (علیہما السلام) کے نزول کا اور یاجوج اور ماجوج کا ‘ اور تین بار زمین کے دھنسنے کا، ایک بار مشرق کا دھنسنا، ایک بار مغرب کا دھنسنا اور ایک بار جزیرہ عرب کا دھنسنا اور سب سے آخر میں یمن سے ایک آگ نکلے گی جو لوگوں کو دھکیل کر مشرق کی طرف لے جائے گی۔ 

(صحیح مسلم ‘ الفتن ‘ ٣٩‘ (٢٩٠١) ٧١٥٢‘ سنن ابو داؤد ‘ ج ٤‘ رقم الحدیث :‘ ٤٣١١‘ سنن الترمذی ‘ ج ٤‘ رقم الحدیث :‘ ٢١٩٠‘ سنن کبری للنسائی ‘ ج ٦‘ رقم الحدیث :‘ ١١٣٨٠‘ سنن ابن ماجہ ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ٤٠٤١‘ مسند احمد ‘ ج ٥‘ رقم الحدیث :‘ ١٦١٤٤‘ صحیح ابن حبان ‘ ج ١٥‘ رقم الحدیث :‘ ٦٧٩١‘ المعجم الکبیر ‘ ج ٣‘ رقم الحدیث :‘ ٣٠٢٨‘ مسند احمد ‘ رقم الحدیث :‘ ٨٢٧‘ مصنف ابن ابی شیبہ ج ١٥‘ ص ١٦٣) 

اس حدیث میں جس دھوئیں کا ذکر ہے حضرت ابن مسعود (رض) نے اس کی یہ تفسیر کی ہے کہ جب کفار قریش پر قحط مسلط کیا گیا تو انہیں زمین اور آسمان کے درمیان دھوئیں کی شکل کی کوئی چیز دکھائی دی اور حضرت حذیفہ اور حضرت ابن عمر (رض) نے یہ کہا ہے کہ قیامت کے قریب ایک دھواں ظاہر ہوگا ‘ جس سے کفار کا دم گھٹنے لگے گا اور مومنوں کو صرف زکام ہوگا ‘ یہ دھواں ابھی تک ظاہر نہیں ہوا ہے ‘ اور یہ دھواں چالیس روز تک رہے گا۔ قرآن مجید میں بھی اس کا ذکر ہے۔ 

(آیت) ” فارتقب یوم تاتی السمآء بدخان مبین “۔ (الدخان : ١٠) 

ترجمہ ؛ سو آپ اس دن کا انتظار کریں جب آسمان جو اضح دھواں لائے گا۔ 

(آیت) ” واذا وقع القول علیہم اخرجنا لھم دآبۃ من الارض تکلمھم ان الناس کانوا بایتنا لایوقنون “۔ (النمل : ٨٢)

ترجمہ : اور جب ان پر (عذاب کا) قول واقع ہوجائے گا ‘ تو ہم ان کے لیے زمین سے ایک جانور (دابۃ الارض) نکالیں گے جو ان سے باتیں کرے گا ‘ یہ اس لیے کہ لوگ ہماری باتوں پر یقین نہیں کرتے تھے۔ 

اہل تفسیر نے ذکر کیا ہے کہ یہ ایک بہت بڑی مخلوق ہے جو صفا پہاڑ کو پھاڑ کر نکلے گی ‘ کوئی شخص اس سے بچ نہیں سکے گا ‘ مومن پر ایک نشانی لگائے گی تو اس کا چہر چمکنے لگے گا اور اس کی آنکھوں کے درمیان مومن لکھ دے گی ‘ کافر پر نشانی لگائے گی تو اس کا چہرہ سیاہ ہوجائے گا اور اس کی آنکھوں کے درمیان کافر لکھ دے گی، اس کی شکل و صورت میں اختلاف ہے اور اس میں بھی اختلاف ہے کہ یہ کس جگہ سے نکلے گی۔ ان میں سے کسی چیز کے متعلق حدیث مرفوع نہیں ہے ‘ بعض متاخرین نے یہ کہا ہے کہ یہ دابہ انسان کی شکل میں ہوگا اور اہل بدعت اور کفار سے مناظرہ کرے گا اور انکو دلائل سے ساکت کر دے گا۔ (لمفھم ‘ ج ٧‘ ص ٢٤٠۔ ٢٣٩‘ مطبوعہ دارا ابن کثیر ‘ یبروت ‘ ١٤١٧ ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 6 الأنعام آیت نمبر 158