یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَسْــٴَـلُوْا عَنْ اَشْیَآءَ اِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْۚ-وَ اِنْ تَسْــٴَـلُوْا عَنْهَا حِیْنَ یُنَزَّلُ الْقُرْاٰنُ تُبْدَ لَكُمْؕ-عَفَا اللّٰهُ عَنْهَاؕ-وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ(۱۰۱)

اے ایمان والو ایسی باتیں نہ پوچھو جو تم پر ظاہر کی جائیں تو تمہیں بُری لگیں (ف۲۴۳) اور اگر انہیں اس وقت پوچھو گے کہ قرآن اتررہا ہے تو تم پر ظاہر کردی جائیں گی اللہ انہیں معاف فرماچکا ہے (ف۲۴۴) اور اللہ بخشنے والا حِلم والا ہے

(ف243)

شانِ نُزول : بعض لوگ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت سے بے فائدہ سوال کیا کرتے تھے یہ خاطرِ مبارک پر گراں ہوتا تھا ، ایک روز فرمایا کہ جو جو دریافت کرنا ہو دریافت کرو میں ہر بات کا جواب دوں گا ، ایک شخص نے دریافت کیا کہ میرا انجام کیا ہے ؟ فرمایا جہنّم ، دوسرے نے دریافت کیا کہ میرا باپ کون ہے ؟ آپ نے اس کے اصلی باپ کا نام بتا دیا جس کے نطفہ سے وہ تھا کہ صداقہ ہے باوجود یکہ اس کی ماں کا شوہر اور تھا جس کا یہ شخص بیٹا کہلاتا تھا ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا گیا کہ ایسی باتیں نہ پوچھو جو ظاہر کی جائیں تو تمہیں ناگوار گزریں ۔ (تفسیرِ احمدی) بخاری و مسلم کی حدیث شریف میں ہے کہ ایک روز سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ فرماتے ہوئے فرمایا جس کو جو دریافت کرنا ہو دریافت کرے ، عبداللہ بن حُذافہ سہمی نے کھڑے ہو کر دریافت کیا کہ میرا باپ کون ہے؟ فرمایا حذافہ پھر فرمایا اور پوچھو حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی نے اٹھ کر اقرارِ ایمان و رسالت کے ساتھ معذرت پیش کی ۔ ابنِ شہاب کی روایت ہے کہ عبداللہ بن حُذافہ کی والدہ نے ان سے شکایت کی اور کہا کہ تو بہت نالائق بیٹا ہے تجھے کیا معلوم کہ زمانۂ جاہلیّت کی عورتوں کا کیا حال تھا ، خدا نخواستہ تیری ماں سے کوئی قصور ہوا ہوتا تو آج وہ کیسی رسوا ہوتی ، اس پر عبداللہ بن حُذافہ نے کہا کہ اگر حضور کسی حبشی غلام کو میرا باپ بتا دیتے تو میں یقین کے ساتھ مان لیتا ۔ بخاری شریف کی حدیث میں ہے کہ لوگ بطریقِ اِستِہزاء اس قِسم کے سوا ل کیا کرتے تھے ، کوئی کہتا میرا باپ کون ہے ، کوئی پوچھتا میری اونٹنی گم ہو گئی ہے وہ کہاں ہے ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔

مسلم شریف کی حدیث میں ہے کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ میں حج فرض ہونے کا بیان فرمایا ، اس پر ایک شخص نے کہا کیا ہر سال فرض ہے ؟ حضرت نے سکوت فرمایا ، سائل نے سوال کی تکرار کی تو ارشاد فرمایا کہ جو میں بیان نہ کروں اس کے درپے نہ ہو اگر میں ہاں کہہ دیتا تو ہر سال حج کرنا فرض ہو جاتا اور تم نہ کر سکتے ۔

مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ احکام حضور کو مُفوَّض ہیں ، جو فرض فرما دیں وہ فرض ہو جائے نہ فرمائیں نہ ہو ۔

(ف244)

مسئلہ : اس آیت سے ثابت ہوا کہ جس امر کی شرع میں ممانعت نہ آئی ہو وہ مباح ہے ۔ حضرت سلمان رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ حلال وہ ہے جو اللہ نے اپنی کتاب میں حلال فرمایا ، حرام وہ ہے جس کو اس نے اپنی کتاب میں حرام فرمایا اور جس سے سکوت کیا وہ معاف تو کُلفت میں نہ پڑو ۔ (خازن)

قَدْ سَاَلَهَا قَوْمٌ مِّنْ قَبْلِكُمْ ثُمَّ اَصْبَحُوْا بِهَا كٰفِرِیْنَ(۱۰۲)

تم سے اگلی ایک قوم نے انہیں پوچھا (ف۲۴۵) پھر ان سے منکر ہو بیٹھے

(ف245)

اپنے انبیاء سے اور بے ضرورت سوال کئے ، حضراتِ انبیاء نے احکام بیان فرما دیئے تو بجا نہ لا سکے ۔

مَا جَعَلَ اللّٰهُ مِنْۢ بَحِیْرَةٍ وَّ لَا سَآىٕبَةٍ وَّ لَا وَصِیْلَةٍ وَّ لَا حَامٍۙ-وَّ لٰكِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَؕ-وَ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ(۱۰۳)

اللہ نے مقرر نہیں کیا ہے کان چرا ہوا اور نہ بجار اور نہ وصیلہ اور نہ حامی (ف۲۴۶)ہاں کافر لوگ اللہ پر جھوٹا افتراباندھتے ہیں(ف۲۴۷)اور ان میں سے اکثر نرے بے عقل ہیں(ف۲۴۸)

(ف246)

زمانۂ جاہلیت میں کُفّار کا یہ دستور تھا کہ جو اونٹنی پانچ مرتبہ بچّے جنتی اور آخر مرتبہ اس کے نَر ہوتا اس کا کان چیر دیتے پھر نہ اس پر سواری کرتے ، نہ اس کو ذبح کرتے ، نہ پانی اور چارے پر سے ہنکاتے اس کو بحیرہ کہتے اور جب سفر پیش ہوتا یا کوئی بیمار ہوتا تو یہ نذر کرتے کہ اگر میں سفر سے بخیریت واپس آؤں یا تندرست ہو جاؤں تو میری اونٹنی سائبہ (بجار) ہے اور اس سے بھی نفع اٹھانا بحیرہ کی طرح حرام جانتے اور اس کو آزاد چھوڑ دیتے اور بکری جب سات مرتبہ بچّے جن چُکتی تو اگر ساتواں بچّہ نَر ہوتا توا س کو مرد کھاتے اور اگر مادّہ ہوتا تو بکریوں میں چھوڑ دیتے اور ایسے ہی اگر نَر مادّہ دونوں ہوتے اور کہتے کہ یہ اپنے بھائی سے مل گئی اس کو وصیلہ کہتے اور جب نَر اُونٹ سے دس گیابھ حاصل ہو جاتے تو اس کو چھوڑ دیتے نہ اس پر سواری کرتے ، نہ اس سے کام لیتے ، نہ اس کو چارے پانی پر سے روکتے اس کو حامِی کہتے ۔ (مدارک) بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ بحیرہ وہ ہے جس کا دودھ بُتوں کے لئے روکتے تھے کوئی اس جانور کا دودھ نہ دوہتا اور سائبہ وہ جس کو اپنے بُتوں کے لئے چھوڑ دیتے تھے کوئی ان سے کام نہ لیتا ، یہ رسمیں زمانۂ جاہلیّت سے ابتدائے عہدِ اسلام تک چلی آ رہی تھیں ۔ اس آیت میں ان کو باطل کیا گیا ۔

(ف247)

کیونکہ اللہ تعالٰے نے ان جانوروں کو حرام نہیں کیا ، اس کی طرف اس کی نسبت غلط ہے ۔

(ف248)

جو اپنے سرداروں کے کہنے سے ان چیزوں کو حرام سمجھتے ہیں ، اتنا شعور نہیں رکھتے کہ جو چیز اللہ اور اس کے رسول نے حرام نہ کی اس کو کوئی حرام نہیں کر سکتا ۔

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا اِلٰى مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَ اِلَى الرَّسُوْلِ قَالُوْا حَسْبُنَا مَا وَجَدْنَا عَلَیْهِ اٰبَآءَنَاؕ-اَوَ لَوْ كَانَ اٰبَآؤُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ شَیْــٴًـا وَّ لَا یَهْتَدُوْنَ(۱۰۴)

اور جب ان سے کہا جائے آؤ اس طرف جو اللہ نے اتارا اور رسول کی طرف (ف۲۴۹) کہیں ہمیں وہ بہت ہے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا کیا اگرچہ ان کے باپ دادا نہ کچھ جانیں نہ راہ پر ہوں (ف۲۵۰)

(ف249)

یعنی حکمِ خدا اور رسول کا اِتّباع کرو اور سمجھ لو کہ یہ چیزیں حرام نہیں ۔

(ف250)

یعنی باپ دادا کا اِتّباع جب درست ہو تا کہ وہ علم رکھتے اور سیدھی راہ پر ہوتے ۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا عَلَیْكُمْ اَنْفُسَكُمْۚ-لَا یَضُرُّكُمْ مَّنْ ضَلَّ اِذَا اهْتَدَیْتُمْؕ-اِلَى اللّٰهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِیْعًا فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ(۱۰۵)

اے ایمان والو تم اپنی فکر رکھو تمہارا کچھ نہ بگاڑے گا جو گمراہ ہوا جب کہ تم راہ پر ہو (ف۲۵۱) تم سب کی رجوع اللہ ہی کی طرف ہے پھر وہ تمہیں بتادے گا جو تم کرتے تھے

(ف251)

مسلمان کُفّار کی محرومی پر افسوس کرتے تھے اور انہیں رنج ہوتا تھا کہ کُفّار عناد میں مبتلا ہو کر دولتِ اسلام سے محروم رہے ، اللہ تعالٰے نے ان کی تسلّی فرما دی کہ اس میں تمہارا کچھ ضرر نہیں ، امر بالمعروف نہی عن المنکَر کا فرض ادا کر کے تم بری الذِّمہ ہو چکے ، تم اپنی نیکی کی جزا پاؤ گے ۔ عبداللہ بن مبارک نے فرمایا اس آیت میں امر بالمعروف و نہی عن المنکَر کے وجوب کی بہت تاکید کی ہے کیونکہ اپنی فکر رکھنے کے معنٰی یہ ہیں ایک دوسرے کی خبر گیری کرے ، نیکیوں کی رغبت دلائے ، بدیوں سے روکے ۔ (خازن)

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا شَهَادَةُ بَیْنِكُمْ اِذَا حَضَرَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ حِیْنَ الْوَصِیَّةِ اثْنٰنِ ذَوَا عَدْلٍ مِّنْكُمْ اَوْ اٰخَرٰنِ مِنْ غَیْرِكُمْ اِنْ اَنْتُمْ ضَرَبْتُمْ فِی الْاَرْضِ فَاَصَابَتْكُمْ مُّصِیْبَةُ الْمَوْتِؕ-تَحْبِسُوْنَهُمَا مِنْۢ بَعْدِ الصَّلٰوةِ فَیُقْسِمٰنِ بِاللّٰهِ اِنِ ارْتَبْتُمْ لَا نَشْتَرِیْ بِهٖ ثَمَنًا وَّ لَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰىۙ-وَ لَا نَكْتُمُ شَهَادَةَۙ-اللّٰهِ اِنَّاۤ اِذًا لَّمِنَ الْاٰثِمِیْنَ(۱۰۶)

اے ایمان والو(ف۲۵۲) تمہاری آپس کی گواہی جب تم میں کسی کو موت آئے (ف۲۵۳) وصیت کرتے وقت تم میں کے دو معتبر شخص ہیں یا غیروں میں کے دو جب تم ملک میں سفر کو جاؤ پھر تمہیں موت کا حادثہ پہونچے ان دونوں کو نماز کے بعد روکو(ف۲۵۴) وہ اللہ کی قسم کھائیں اگر تمہیں کچھ شک پڑے (ف۲۵۵) ہم حلف کے بدلے کچھ مال نہ خریدیں گے(ف۲۵۶) اگرچہ قریب کا رشتہ دار ہو اور اللہ کی گواہی نہ چھپائیں گے ایسا کریں تو ہم ضرور گنہگاروں میں ہیں

(ف252)

شانِ نُزول : مُہاجرین میں سے بدیل جو حضرت عمرو بن العاص کے مَوالی میں سے تھے بقصدِ تجارت مُلکِ شام کی طرف دو نصرانیوں کے ساتھ روانہ ہوئے ، ان میں سے ایک کا نام تمیم بن اوس داری تھا اور دوسرے کا عدی بن بداء ، شام پہنچتے ہی بدیل بیمار ہو گئے اور انہوں نے اپنے تمام سامان کی ایک فہرست لکھ کر سامان میں ڈال دی اور ہمراہیوں کو اس کی اطلاع نہ دی ، جب مرض کی شدّت ہوئی تو بدیل نے تمیم و عدی دونوں کو وصیّت کی کہ ان کا تمام سرمایہ مدینہ شریف پہنچ کر ان کے اہل کو دے دیں اور بدیل کی وفات ہو گئی ، ان دونوں نے ان کی موت کے بعد ان کا سامان دیکھا ، اس میں ایک چاندی کا جام تھا جس پر سونے کا کام بنا تھا اس میں تین سو مثقال چاندی تھی ، بدیل یہ جام بادشاہ کو نذر کرنے کے قصد سے لائے تھے ان کی وفات کے بعد ان کے دونوں ساتھیوں نے اس جام کو غائب کر دیا اور اپنے کام سے فارغ ہونے کے بعد جب یہ لوگ مدینہ طیّبہ پہنچے تو انہوں نے بدیل کا سامان ان کے گھر والوں کے سپرد کر دیا ، سامان کھولنے پر فہرست ان کے ہاتھ آ گئی جس میں تمام متاع کی تفصیل تھی ، سامان کو اس کے مطابق کیا تو جام نہ پایا اب وہ تمیم اور عدی کے پاس پہنچے اور انہوں نے دریافت کیا کہ کیا بدیل نے کچھ سامان بیچا بھی تھا ؟ انہوں نے کہا نہیں ، کہا کوئی تجارتی معاملہ کیا تھا ؟ انہوں نے کہا نہیں پھر دریافت کیا بدیل بہت عرصہ بیمار رہے اور انہوں نے اپنے علاج میں کچھ خرچ کیا ؟ انہوں نے کہا نہیں ، وہ تو شہر پہنچتے ہی بیمار ہو گئے اور جلد ہی ان کا انتقال ہو گیا ، اس پر ان لوگوں نے کہا کہ ان کے سامان میں ایک فہرست ملی ہے اس میں چاندی کا ایک جام سونے سے مُنقَّش کیا ہوا جس میں تین سو مثقال چاندی ہے ، یہ بھی لکھا ہے تمیم و عدی نے کہا ہمیں نہیں معلوم ، ہمیں تو جو وصیّت کی تھی اس کے مطابق سامان ہم نے تمہیں دے دیا ، جام کی ہمیں خبر بھی نہیں ، یہ مقدمہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دربار میں پیش ہوا ، تمیم و عدی وہاں بھی انکار پر جمے رہے اور قَسم کھا لی ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔ (خازن) حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما کی روایت میں ہے کہ پھر وہ جام مکّہ مکرّمہ میں پکڑا گیا ، جس شخص کے پاس تھا اس نے کہا کہ میں نے یہ جام تمیم و عدی سے خریدا ہے ، مالکِ جام کے اولیاء میں سے دو شخصوں نے کھڑے ہو کر قَسم کھائی کہ ہماری شہادت ان کی شہادت سے زیادہ احق ہے ، یہ جام ہمارے مُورِث کا ہے ۔ اس باب میں یہ آیت نازل ہوئی ۔ (ترمذی)

(ف253)

یعنی موت کا وقت قریب آئے ، زندگی کی امید نہ رہے ، موت کے آثار و علامات ظاہر ہوں ۔

(ف254)

اس نماز سے نمازِ عصر مراد ہے کیونکہ وہ لوگوں کے اجتماع کا وقت ہوتا ہے ۔ حسن رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ نمازِ ظہر یا عصر کیونکہ اہلِ حجاز مقدمات اسی وقت کرتے تھے ۔ حدیث شریف میں ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازِ عصر پڑھ کر عدی و تمیم کو بلایا ، ان دونوں کو منبر شریف کے پاس قَسمیں دیں ، ان دونوں نے قَسمیں کھائیں ، اس کے بعد مکۂ مکرّمہ میں وہ جام پکڑا گیا تو جس شخص کے پاس تھا اس نے کہا میں نے تمیم و عدی سے خریدا ہے ۔ (مدارک)

(ف255)

ان کی امانت و دیانت میں اور وہ یہ کہیں کہ ۔

(ف256)

یعنی جھوٹی قَسم نہ کھائیں گے اور کسی کی خاطر ایسا نہ کریں گے ۔

فَاِنْ عُثِرَ عَلٰۤى اَنَّهُمَا اسْتَحَقَّاۤ اِثْمًا فَاٰخَرٰنِ یَقُوْمٰنِ مَقَامَهُمَا مِنَ الَّذِیْنَ اسْتَحَقَّ عَلَیْهِمُ الْاَوْلَیٰنِ فَیُقْسِمٰنِ بِاللّٰهِ لَشَهَادَتُنَاۤ اَحَقُّ مِنْ شَهَادَتِهِمَا وَ مَا اعْتَدَیْنَاۤ ﳲ اِنَّاۤ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِیْنَ(۱۰۷)

پھر اگر پتہ چلے کہ وہ کسی گناہ کے سزاوار ہوئے (ف۲۵۷) تو ان کی جگہ دو اور کھڑے ہوں ان میں سے کہ اس گناہ یعنی جھوٹی گواہی نے ان کا حق لے کر ان کو نقصان پہونچایا (ف۲۵۸) جو میت سے زیادہ قریب ہوں تو اللہ کی قسم کھائیں کہ ہماری گواہی زیادہ ٹھیک ہے ان دو کی گواہی سے اور ہم حد سے نہ بڑھے(ف۲۵۹) ایسا ہو تو ہم ظالموں میں ہوں

(ف257)

خیانت کے یا جھوٹ وغیرہ کے ۔

(ف258)

اور وہ میّت کے اہل و اَقارب ہیں ۔

(ف259)

چنانچہ بدیل کے واقعہ میں جب ان کے دونوں ہمراہیوں کی خیانت ظاہر ہوئی تو بدیل کے ورثاء میں سے دو شخص کھڑے ہوئے اور انہوں نے قَسم کھائی کہ یہ جام ہمارے مُورِث کا ہے اور ہماری گواہی ان دونوں کی گواہی سے زیادہ ٹھیک ہے ۔

ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَنْ یَّاْتُوْا بِالشَّهَادَةِ عَلٰى وَجْهِهَاۤ اَوْ یَخَافُوْۤا اَنْ تُرَدَّ اَیْمَانٌۢ بَعْدَ اَیْمَانِهِمْؕ-وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اسْمَعُوْاؕ-وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ۠(۱۰۸)

یہ قریب تر ہے اس سے کہ گواہی جیسی چاہیے ادا کریں یا ڈریں کہ کچھ قسمیں رد کردی جائیں ان کی قسموں کے بعد (ف۲۶۰) اور اللہ سے ڈرو اور حکم سنو اور اللہ بے حکموں کو راہ نہیں دیتا

(ف260)

حاصل معنٰی یہ ہے کہ اس معاملہ میں جو حکم دیا گیا کہ عدی و تمیم کی قَسموں کے مال برآمد ہونے پر اولیاءِ میّت کی قَسمیں لی گئیں ، یہ اس لئے کہ لوگ اس واقعہ سے سبق لیں اور شہادتوں میں راہِ حق و صواب نہ چھوڑیں اور اس سے خائِف رہیں کہ جھوٹی گواہی کا انجام شرمندگی و رسوائی ہے ۔

فائدہ : مدّعی پر قَسم نہیں لیکن یہاں جب مال پایا گیا تو مدعا علیہا نے دعوٰی کیا کہ انہوں نے میّت سے خرید لیا تھا ، اب ان کی حیثیت مُدّعی کی ہو گئی اور ان کے پاس اس کا کوئی ثبوت نہ تھا لہذا ان کے خلاف اولیاۓ میّت کی قَسم لی گئی ۔