حدیث نمبر :612

روایت ہے حضرت ابوبکرہ سے ۱؎ فرماتے ہیں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ فجرکی نمازکے لئےنکلا تو آپ جس سوتے ہوئے شخص پر گزرتے تھے اسے نماز کے لئےآواز دیتے یا اپنے پاؤں شریف سے ہلاتے ۲؎ (ابوداؤد)

شرح

۱؎ آپ کا نام نقیع ابن حارث ہے،کنیت ابوبکرہ،قبیلۂ بنی ثقیف سے ہیں،مشہور صحابی ہیں۔

۲؎ یعنی راستہ میں جو سوتے ہوئے لوگ ملتے انہیں آواز سے یا اپنے پاؤں شریف سے نماز کے لئے جگاتے تھے۔اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ اذا ن کے بعدکسی کو خصوصی طورپرنمازکی اطلاع دیناجائز ہے،گویا یہ خصوصی تثویب ہے۔دوسرے یہ کہ نماز کا نام لےکرجگانا درست ہے۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ جگا کرنماز کا نام لے پہلے نہ لے غلط ہے۔تیسرے یہ کہ اپنے چھوٹے کو اپنے پاؤں سے حرکت دے کرجگانا درست ہے،خوش نصیب ہیں وہ جنہیں حضورکی ٹھوکرنصیب ہوئی۔ ع خوابیدہ کوٹھوکرسے جگاتے جاتے۔

صوفیاء کاتجربہ یہ ہے کہ حضوراپنے خاص غلاموں کو اب بھی ٹھوکرسے جگاتے ہیں جو انہیں محسوس بھی ہوتی ہے،خدا نصیب کرے۔