امام احمد رضا اور علم حدیث

علم حدیث اپنے تنوع کے اعتبار سے نہایت وسیع علم ہے ،۔ امام سیوطی قدس سرہ نے تدریب الراوی میں اسطرح کے تقریباً سو علوم شمار کرائے ہیں جن سے علم حدیث میں واسطہ ضروری ہے۔ لہذا ان تمام علوم میں مہارت کے بعد ہی علم حدیث کا جامع اور اس علم میں درجہ کمال کو پہونچ سکتا ہے ۔

امام احمد رضا قدس سرہ کا علم حدیث میں مقام و مرتبہ کیا تھا اسکی جھلک قارئین ملاحظہ کریں ورنہ تفصیل کے لئے دفتر درکار ہے۔ اس مختصر میں مجھے اس بات کا ثبوت فراہم کرنا ہے کہ بلا شبہ آپ علم حدیث میں ہر حیثیت سے یگانۂ روزگار اور اپنی مثال آپ ہیں ۔

عمدۃ المحدثین حافظ بخاری حضرت علامہ شاہ وصی احمد محدث سورتی علیہ الرحمۃ والرضوان سے حضور محدث اعظم کچھوچھوی نے معلوم کیا کہ حدیث میں امام احمد رضا کا کیا مرتبہ ہے ؟فر مایا:۔

وہ اس وقت امیرالمو منین فی الحدیث ہیں ، پھر فرمایا: صاحبزادے ! اسکا مطلب سمجھا؟ یعنی اگر اس فن میں عمر بھر ان کا تلمذ کروں تو بھی انکے پاسنگ کو نہ پہونچوں، آپ نے کہا: سچ ہے۔

ولی راولی می شناسد و عالم را عالم می داند۔

خود محدث اعظم کچھوچھوی فرماتے ہیں: ۔

علم الحدیث کا اندازہ اس سے کیجئے کہ جتنی حدیثیں فقہ حنفی کی ماخذ ہیں ہر وقت پیش نظر، اور جن حدیثوں سے فقہ حنفی پر بظاہر زد پڑتی ہے ، اسکی روایت ودرایت کی خامیاں ہر وقت ازبر۔ علم حدیث میں سب سے نازک شعبہ علم اسماء الرجال کا ہے۔ اعلی حضرت کے سامنے کوئی سند پڑھی جاتی اور راویوں کے بارے میں دریافت کیا جاتا تو ہر راوی کی جرح و تعدیل کے جو الفاظ فرما دیتے، اٹھا کر دیکھا جاتا تو تقریب و تہذیب اور تذہیب میں وہی لفظ مل جاتا ، اسکو کہتے ہیں علم راسخ اور علم سے شغف کامل اور علمی مطالعہ کی وسعت ۔

حفظ حدیث اور علم حدیث میں مہارت تامہ کا مشاہدہ کرنا ہے تو آپ کی تصا نیف کا مطالعہ کر کے اسکا اندازہ ہر ذی علم کر سکتا ہے۔ ورق ورق پر احادیث و آثار کی تابشیں نجوم و کواکب کی طرح درخشندہ وتابندہ ہیں ۔

ماہر لسانیات استاذ گرامی وقار حضرت مولانا یسن اختر صاحب مصباحی لکھتے ہیں: ۔

محض اپنے حافظے کی قوت سے احادث کا اتنا ذخیرہ جمع کر لینا ۔بس آپ کے لئے انعام الہی تھا ۔جس کے لئے زبان ودل دونوںبیک وقت پکار اٹھتے ہیں ،ذلک فضل اللہ یوتیہ من یشاء۔

۱۳۰۳ھ میں مدرسۃ الحدیث پیلی بھیت کے تاسیسی جلسہ میں علمائے سہارنپور، لاہور، کانپور، جونپور، رامپور، بدایوں کی موجود گی میں حضرت محدث سورتی کی خواہش پر حضرت فاضل بریلوی نے علم حدیث پر متواتر تین گھنٹوں تک پرمغز اور مدلل کلام فرمایا ۔جلسہ میں موجود سارے علمائے کرام نے حیرت واستعجاب کے ساتھ سنا اور کافی تحسین کی ۔ مولانا خلیل الرحمن بن مولانا احمد علی محدث سہارنپوری نے تقریر ختم ہونے پر بے ساختہ اٹھ کر حضرت فاضل بریلوی کی دست بوسی کی اور فرمایا :کہ اگر اس وقت والد ماجد ہوتے تو وہ علم حدیث میں آپ کے تبحر علمی کی دل کھول کر داد دیتے اور انہی کو اس کا حق بھی تھا ۔محدث سورتی اور مولانا محمد علی مونگیری (بانی ندوۃ العلماء لکھنؤ )نے بھی اسکی پر زور تائید کی ۔

اس واقعہ سے حفظ حدیث اور علم حدیث میں آپ کی عظمت کا اندازہ ہوتاہے کہ مشاہیر علماء کے جم غفیر میں بھی آپ کا محد ثانہ مقام ہر ایک کو مسلم تھا ۔

احادیث کریمہ کی روشنی میں کسی بات کو مدلل ومبرہن کرنے کا انداز حضرت فاضل بریلوی کی اکثر تصانیف میں یکساں ملتاہے ۔ کتب احادیث سے کسی مسئلہ کی تائید کیلئے اس کے ابواب وفصول کا ذہن میں محفوظ رہنا اور بوقت ضرورت اس سے مکمل استفادہ کرنا یہ بڑی وسعت مطالعہ کاکام ہے ۔ حضرت فاضل بریلوی عام طور پر آیات واحادیث اور نصوص فقہیہ ہی کی روشنی میں عقائد واحکام کی تفصیلات تحریر فرماتے ہیں ۔ چند کتابیں اس وقت پیش نظر ہیں جن کے سرسری تعارف سے آپ پر واضح ہوجائے گا کہ حفظ کتب کے میدان میں بھی حضرت فاضل بریلوی کی نظرکہاں تک تھی ۔

ایک سوال کے جواب میں سجدئہ تعظیمی کی حرمت ثابت کرنے کیلئے’’ الزبدۃ الزکیۃ لتحریم سجود التحیۃ‘‘ (ٔ۱۳۳۷ھ) کے نام سے ایک وقیع کتاب آپ نے لکھی جس میں آپ کے تبحر علمی کا جو ہر اتنا نمایاں ہے کہ مولانا ابو الحسن علی ندوی کو بھی اعتراف کرنا پڑا ۔

وہی رسالۃ جامعۃ تدل علی غزارۃ علمہ وقوۃ استدلالہ ۔یہ ایک جامع رسالہ ہے جو ان کے وفور علم اور قوت استدلال کی دلیل ہے ۔

مزید لکھتے ہیں :۔

متعدد آیات کریمہ اور ڈیڑھ سو نصوص فقہیہ کے علاوہ آپ نے اس کی تحریم کے ثبوت میں چالیس احادیث بھی پیش کی ہیں خود لکھتے ہیں: ۔

حدیث میں چہل حدیث کی بہت فضیلت آتی ہے ۔ ائمہ وعلماء نے رنگ رنگ کی چہل حدیثیں لکھی ہیں ہم بتو فیقہ تعالیٰ یہاں غیر خدا کو سجدئہ (تحیت) حرام ہونے کی چہل حدیثیں لکھتے ہیں ۔

بعض علوم حدیث میں آپ کی مہارت حد ایجاد تک پہونچی ہوئی تھی ، آپ کا ایک رسالہ فن تخریج حدیث میں’’ الروض البھیج فی آداب التخریج ‘‘ہے۔ اس پر تبصرہ کرتے ہوئے مولانارحمن علی صاحب ممبر کونسل آف ریاست ریواں مدھیہ پردیش لکھتے ہیں ۔

اگر پیش ازیں کتابے دریں فن نیافتہ شود پس مصنف راموجد تصنیف ھذا می تواں گفت ۔

اگر فن تخریج حدیث میں اور کوئی کتاب نہ ہو تو مصنف کو اس تصنیف کا موجد کہا جاسکتاہے ۔

امام احمد رضا محدث بریلوی قدس سرہ سے ایک مرتبہ سوال ہوا کہ آپ نے حدیث شریف کی کون کون سی کتابیں درس کی ہیں ؟ تو آپ نے فرمایا :۔

مسند امام اعظم، مؤطا امام محمد، کتاب الآثار، کتاب الخراج ، کتاب الحج، شرح معانی الآثار، مؤطا امام مالک، مسند امام شافعی ، مسند امام احمد، سنن دارمی، بخاری ، مسلم، ابو داؤد، ترمذی، نسائی ، ابن ماجہ ، خصائص نسائی، منتہی الجارود، علل متناہیہ ، مشکوۃ، جامع کبیر ، جامع صغیر ، منتقی ابن تیمیہ ، بلوغ المرام، عمل الیوم واللیلہ،الترغیب والترہیب ، خصائص کبری ، الفرج بعد الشدۃ،کتاب الاسماء و الصفات، وغیرہا۔ پچاس سے زائد کتب حدیث میرے درس و تدریس اور مطالعہ میں رہیں ۔

امام احمد رضا نے چند کتب شمار فرما کرپچاس سے زائد کی بات اجمالاً ذکر کر دی ، یعنی آگے شمار کر نے کے لئے میری تصانیف کا مطالعہ کروواضح ہو جائے گا کہ میں نے علم حدیث میں کن کن کتابوں کو پڑھا اور پڑھایا ہے ۔ چنانچہ اس سلسلہ میں جب راقم الحروف نے تلاش و جستجو شروع کی تو اب تک امام احمد رضا کی ساڑھے تین سو کتب و رسائل میں تقریباً چار سو کتابوں کے حوالے احادیث مبارکہ کے تعلق سے ملے ۔ ان تمام کتب کی تفصیلی فہرست جلد ششم کے آخر میں ملاحظہ فرمائیں۔

حدیث کی یہ کتابیں ابھی ہماری تحقیق و تلاش کے مطابق ہیں ورنہ امام احمد رضا فاضل بریلوی کی تمام تصانیف کی تعداد تو تقریباً ایک ہزار ہے تو ا بھی یہ کہنا نہایت مشکل ہے کہ حدیث کی تمام کتابوں کی تعداد جو انکے مطالعہ میں رہیں کتنی ہیں ۔

ان تمام کتب کے حوالے اس بات کی بھرپور وضاحت کر رہے ہیں کہ امام احمد رضا محدث بریلوی قدس سرہ کا علم حدیث میں مطالعہ نہایت وسیع تھا۔ آپ نے جن کتابوں کا بطور حوالہ تذکرہ فرمایا ہے وہ کتابیں بھی کوئی معمولی ضخامت کی حامل نہیں بلکہ بعض کتب دس، پندرہ ، بیس ، اور پچیس جلدوں پر بھی مشتمل ہیں:۔ مثلا

٭ السنن الکبری للبیہقی۔ دس جلدیں

٭ کنز العمال لعلی المتقی ۱۸ جلدیں

٭ المعجم کبیر للطبرانی ۔ ۲۵ جلدیں

اس عظیم ذخیرۂ حدیث کا استقصاء و احاطہ اور پھر استحضار یہ سب آپ ہی کا حصہ تھا۔ متعدد مقامات پر ایک وقت میں ایک حدیث کے حوالے میں دس، بیس اور پچیس پچیس کتابوں کا تذکرہ اس بات کی غماز ی کر رہا ہے کہ بیک وقت آپ کے پیش نظر وہ تمام کتابیں رہتی تھیں بلکہ گویا ان سب کو حفظ کر لیا گیا تھا کہ جب جس مسئلہ میں ضرورت پیش آئی انکو فی البدیہ اور برجستہ تقریراً یا تحریراً بیان فرما دیتے ۔حافظہ اللہ تعالی نے اپنی قدرت کاملہ سے ایسا عظیم الشان عطا فرمایا تھا کہ جو کتاب ایک مرتبہ دیکھ لی حفظ ہو گئی ۔

جس موضوع پر آ پ نے قلم اٹھایا احادیث کا وافر ذخیرہ امت مسلمہ کو عطا فرمایا، تحقیق کے دریا بہائے۔ فتاوی رضویہ اور اسکے علاوہ تصا نیف سے چند نمونے صرف علم حدیث سے متعلق ملاحظہ فر مائیں۔ ہم اس مقالہ میں علم حدیث سے متعلق چند حیثیات سے نمونے پیش کریں گے۔ جن کا اجمالی خا کہ اس طرح ہے ۔

۱۔ کسی ایک موضوع سے متعلق احادیث

۲۔ حوالوں کی کثرت

۳۔ اصطلاحات حدیث کی تحقیق و تنقیح

۴۔ راویان حدیث پر جرح وتعدیل

۵۔ روایات میں تطبیق