حدیث نمبر :611

روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن زید ابن عبدربہ سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ جب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناقوس بنانے کاحکم دیناچاہا تاکہ جماعت نمازکے واسطے لوگوں کے لئےبجایاجائے۲؎ تو مجھے خواب میں ایک شخص دکھائی دیاجواپنے ہاتھ میں ناقوس اٹھائے ہوئے تھا میں نے کہا رب کے بندے کیا توناقوس بیچتاہے وہ بولا اس کا تم کیاکروگے میں نے کہا اس سے نماز کے لئےبلایا کریں گے ۳؎ وہ بولا کیا تمہیں اس سے اچھی چیز نہ بتادوں۴؎ میں نے کہاہاں فرماتے ہیں وہ بولاکہو اﷲ اکبر آخر تک اور اس طرح تکبیر۵؎ جب صبح ہوئی میں حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضرہوا جو کچھ دیکھا تھاحضور سے عر ض کیا فرمایا بفضلہ تعالٰی یہ خواب سچی ہے ۶؎ تم بلال کے ساتھ کھڑے ہوجاؤ جو کچھ خواب میں دیکھا ہے انہیں بتاتے جاؤ وہ اذان دیں کیونکہ وہ تم سے بلند آواز ہیں۷؎ میں حضرت بلال کے ساتھ کھڑا ہوگیا میں انہیں بتانے لگا وہ اذان دینے لگے۸؎ فرماتے ہیں یہ اذان حضرت عمرنے اپنے گھر میں سنی تو چادرگھسیٹتے ہوئے نکلے عرض کرنے لگے یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی قسم جس نے تمہیں حق دے کربھیجا ہے میں نے بھی ایسا ہی خواب دیکھا ہے جیسا کہ انہوں نے ۹؎ حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اﷲ کاشکر ہے(ابوداؤد،دارمی،ابن ماجہ)مگر ابن ماجہ نے تکبیر کا ذکر نہ کیا ترمذی نے فرمایا یہ حدیث صحیح ہے لیکن انہوں نے ناقوس کا واقعہ صراحتًا بیان نہ کیا۱۰؎

شرح

۱؎ آپ انصاری ہیں،خزرجی ہیں،دوسری بیعت عقبہ میں ستر انصاریوں میں آپ بھی تھے،بدر اورتمام غزووں میں حضور انور کے ساتھ رہے،آپ خودبھی صحابی ہیں اور والدین بھی صحابی،آپ کا لقب صاحب اذان ہے کیونکہ انہی کی خواب پر اسلام میں اذان جاری ہوئی، اھ؁ میں آپ نے یہ خواب دیکھا اور ۲ھ ؁میں آپ کی وفات ہوئی،۶۴سال کی عمرشریف ہوئی،مدینہ پاک میں مدفون ہوئے۔

۲؎ یہاں امر سے بمعنی ارادۂ امر ہے،جیسا کہ مرقاۃ میں معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارادۂ مبارک ناقوس بجانے کا ہوچکا تھا۔غالب یہ ہے کہ یہ عارضی ارادہ ہوگا کہ جب تک اس بارے میں وحی نہ آئے تب تک ناقوس سے کام لیا جائے،ورنہ حضورمعراج کی رات ملائکہ سے اذان سن چکے تھے جیسا کہ اسی جگہ مرقاۃ میں ہے۔

۳؎ اس سے معلوم ہوا کہ انسان بیداری میں جس خیال میں رہتا ہے خواب میں بھی وہی کرتا اورکہتاہے انہیں خواب میں ناقوس دیکھ کر نمازیادآئی۔صوفیائے فرماتے ہیں کہ جس خیال میں جیو گے اسی خیال میں مرو گے اورمحشرمیں اٹھو گے۔خیال رہے کہ رب تعالٰی نے دوسرے احکام کی طرح حضور پر اذان کی وحی نہ بھیجی بلکہ صحابہ کے خواب کو درمیان میں رکھا،تاکہ لوگوں کو ان حضرات کی عظمت کا پتا لگے اورلوگ جانیں کہ جب ان بزرگوں کی خوابیں ایسی ہیں تو ان کی بیداری کے احکام کیسے پاکیزہ ہوں گے۔دیکھو اذان جیسا اسلامی شعارصحابہ کے خواب کا نتیجہ ہے ان کی نیند پرہم جیسے لاکھوں کی بیداریاں قربان۔

۴؎ جس میں یہود ونصاریٰ سے مشابہت بھی نہ ہو اورنمازکے اعلان کے ساتھ اﷲ کا ذکر اورنماز کی ترغیب بھی ہوجائے،بے معنی آوازبھی نہ ہو۔

۵؎ یہ حدیث امام اعظم کی قوی دلیل ہے کہ اذان میں ترجیع نہیں اورتکبیر کے کلمات ایک ایک نہیں کیونکہ اذان کی اصل یہ خواب ہے،نیز اسی پرصحابہ کا عمل رہا۔خیال رہے کہ اقامت میں”قَدْ قَامَتِ الصَّلوٰۃُ” کا بڑھانا اورفجرکی اذان میں”اَلصَّلوٰۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ”کی زیادتی حضور کے اجتہادی حکم سے ہوئی۔

۶؎ کیونکہ ہم نے بھی یہ اذان معراج میں فرشتوں کی زبانی سنی تھی۔اے عبداﷲ رب نے تمہیں خواب میں دکھاکرہمیں اشارۃً فرمایا کہ اے حبیب!وہی فرشتوں والی اذان کیوں نہیں کہلواتے۔خیال رہے کہ یہاں ان شاءاﷲ برکت کے لئےنہ کہ شک کے لئے،جیسے رب نے فرمایا:”لَتَدْخُلُنَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ اِنۡ شَآءَاللہُ “۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مؤمن کے خواب خصوصًا جب کہ نبوت کے ذریعہ اس کی تصدیق ہوجائے وحی کے حکم میں ہیں،پھرنبی کی خواب کا کیا پوچھنا،ابراہیم علیہ السلام خواب میں دیکھ کر اپنے فرزند کو ذبح کرنے پرتیار ہوگئے۔خواب تین قسم کے ہوتے ہیں:نفس کے خیالات،شیطانی وسوسے،ربانی الہام۔پہلے دوخواب اضغاث احلام کہلاتے ہیں اورجھوٹے ہوتے ہیں۔تیسرے خواب رویاءصادقہ۔خواب کی پوری تحقیق ان شاء اﷲ “کتاب الرؤیا” میں کی جائے گی۔

۷؎ اس سے دو مسئلےمعلوم ہوئے:ایک یہ کہ اذان میں بلند آوازمحبوب ہے،لہذا لاؤڈ اسپیکر پراذان بہت بہتر۔دوسرے یہ کہ یہ جائزہے ایک آدمی اذان بتاتا جائے دوسرا اذان کہتا جائے۔

۸؎ یعنی میں نے وہی اذان حضرت بلال کو بتائی جو فرشتہ سے سنی تھی جس میں ترجیع نہ تھی۔معلوم ہوا کہ اسلام کی پہلی اذان بغیرترجیع کے ہوئی اورسیدنا بلال آخر تک یہی اذان دیتے رہے ہیں۔

۹؎ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عمر فاروق اعظم نے حضرت عبداﷲ ابن زید کا خواب کشف سے معلوم کیایاآپ نے عبداللہ ابن زیدکو فرشتے سے گفتگو کرتے خواب میں دیکھا تھا کیونکہ ابھی آپ سے کسی نے حضرت عبداﷲ کی خواب بیان نہ کی۔مرقاۃ نے فرمایا ظاہر یہی ہے کہ جناب عمرنے کشف سے معلوم کیا۔

۱۰؎ مرقاۃ نے یہاں فرمایا کہ اس رات دس سے زیادہ صحابہ نے قریبًا یہی خواب دیکھا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر خدا کا شکر کیا،ابن قیم نے”کتاب الروح”میں لکھا کہ مسلمانوں کی خوابوں کا اجتماع اجتماع مسلمین کی طرح معتبر ہے اس پر یہی حدیث پیش کی۔