جن زائد العرض شہروں میں عشا کا وقت بہت تاخیر سے آتا ہے وہاں لوگ مذہب صاحبین پر عمل کر سکتے ہیں

مجلس شرعی کے دوسرے اور تیسرے اجلاس میں علما ومحققین کا متفقہ فیصلہ

مبارک پور، اعظم گڑھ

مجلس شرعی جامعہ اشرفیہ مبارک پور کے 26؍ ویں فقہی سمینار کی دوسرے نشست بعد نماز مغرب قاری محمد اطہر مبارک پوری کی تلاوت اور حافظ محمد نصیر الدین قادری کی نعت سے شروع ہوئی ،جس میں زائد العرض بلاد میں نماز عشا اور سحری کے حکم پر کافی تفصیلی بحثیں ہوئیں ۔ دوران بحث مختصر وقفے میں سربراہ اعلیٰ جامعہ اشرفیہ کے ہاتھوں مجلس شرعی کے بارہ معاونین کی خدمت میں توصیت نامہ ، بھیونڈی سے تشریف لائے مولانا وقار احمد عزیزی کو سپاس نامہ اور مفتی عبدالمنان کلیمی کی خدمت میں سنداعزاز پیش کی گئی۔ نماز عشا کے بعد دوبارہ اجلاس کی کاروائی شروع ہوئی جو ساڑھے دس بجے تک جاری رہی۔ اس دوران ہالینڈ سے آئے مولانا سلطان احمد مصباحی اور مولانا ناظم عدالت سے بھی وہاں کے حالات معلوم کیے جاتے رہے، ٹیلیفون سے بھی برطانیہ میں مقیم چند علما سے رابطہ کیا گیا اور ان کی باتیں مندوبین کو سنائی گئیں۔ مندوبین کرام میں کافی اختلاف راے تھا ،لیکن دلائل وشوائد کی روشنی میں بحث وتمحیص کے ذریعہ الحمد للہ سب ایک راے پرمتفق ہوگئے اور فیصلہ تحریر کر لیا گیا۔یعنی جن زائد العرض شہروں میں بعض ایام میں نماز عشا کا وقت بہت تاخیر سے آتا ہے وہاں مسلمان مذہب صاحبین پر عمل کر سکتے ہیںاور جہاں مغرب ، عشا اور فجر کا وقت داخل نہیں ہوتا وہاں ان نمازوں کی قضا لازم ہے۔اسی طرح جن شہروں میں مغرب اور فجر کے اوقات باہم مل جاتے ہیں وہاں کے مسلمان غروب آفتاب سے طلوع آفتاب کے درمیانی وقت کو دو حصوں میں تقسیم کرکے نصف میں نماز مغرب ادا کریں ، کھائیں پئیں اور نصف دوم سے روزہ اور وقت فجر شروع ہوگا۔مسئلے کا تفصیلی فیصلہ علامہ محمد احمد مصباحی نے نوٹ کیا۔ یہ اجلاس سربراہ اعلیٰ جامعہ اشرفیہ کی صدارت اور مولانا محمد صدرالوریٰ قادری کی نظامت میں ہوا۔ ۱۳؍اکتوبر کی صبح ساڑھے آٹھ بجے سیمینار کی تیسری نشست شروع ہوئی، اس میں حج کے چند جدید مسائل زیربحث تھے۔مثلاً آفاقی عمرہ کرنے کے بعد ذوالحلیفہ یا قرن منازل یا کسی اور میقات سے حج قران کا احرام باندھ سکتا ہے یا نہیں؟دھول ، دھواں اور مضر فضائی آلودگیوں سے بچنے کے لیے حالت احرام میں چہرے پر ماسک لگانے کا حکم کیا ہے؟ اسی طرح کیا وہ خوشبو دار صابن ، شیمپو، پاؤڈر یا ٹشو پیپر استعمال کرسکتا ہے؟ تقریباً تیس محققین کے ۲۲۸صفحات پر مشتمل مقالات کا خلاصہ مولانا دستگیر عالم مصباحی استاذ جامعہ اشرفیہ نے حاضرین کے روبرو پیش کیا ، ان سے قبل صدر اجلاس مولانا یٰسین اختر مصباحی نے اپنا طویل خطبہ صدارت پیش کیااور مندوبین علما کو امت مسلمہ کو درپیش مسائل سے آگاہ فرمایا، ساتھ ہی انھیں ہمہ وقت ان مسائل پر غور وفکر کرنے اور دین کی اشاعت کے میدانوں میں مستعد رہنے کی تلقین کی۔ وقفہ چائے نوشی کے بعد موضوع پر بحثوں کا سلسلہ شروع ہوا۔جو دوپہر ڈیڑھ بجے تک جاری رہا ، کافی اہم تحقیقی وعلمی بحثیں ہوئیں لیکن مفتیان کرام کسی ایک رائے پر متفق نہ ہوئے ، اس پر ان شاء اللہ شب کی نشست میں بحث ہوگی۔ شرکا میں بطور خاص ناظم مجلس شرعی مفتی محمد نظام الدین رضوی، مفتی ابرار احمد امجدی، مولانا عبدالغفار اعظمی، مولانا عارف اللہ فیضی، مولانا قاضی فضل رسول مصباحی، مولانا منظور احمد عزیزی، مولانا نظام الدین مصباحی، مولانا صباح الدین ربانی، مولانا محمد انور نظامی مصباحی، مولانا ممتاز احمد مصباحی، مولانا محمد رضوان مصباحی، مولانا محمد الیاس مصباحی، مولانا ازہار احمد امجدی، مولانا نثار احمد مصباحی، مولانا رضاء المصطفیٰ قادری، مولانا شہاب الدین مصباحی، مولانا انوار احمد مصباحی، حافظ محب الحق امجدی، مولانا نعیم اختر مصباحی، مولانا طفیل احمد مصباحی ، مولانا عرفان عالم مصباحی، وغیرہم موجود رہے۔ اجلاس کے صدر رئیس التحریر مولانا یٰسین اختر مصباحی اور ناظم مولانا مسعود احمد برکاتی تھے ۔