فکر تصوف کے حقیقی مآخذ

مولانا ظہیر عالم صاحب علی گڑھ مسلم یونیورسٹی

یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی مقدس جماعت نے پاکیزہ شریعت اور عادلانہ نظامِ زندگی کو قائم کرنے اور فروغ دینے میں ایک اہم رول ادا کیا ہے لیکن جب بلا واسطہ سر چشمئہ نبوت سے سیراب ہونے والی یہ جماعت رخصت ہو گئی اور معاشرتی برائیوں نے سر ابھارنے کی کوشش کی تو صوفیائے کرام کی مقدس جماعت ملت اسلامیہ کے افق پر رحمت بن کر نمودار ہوئی جنہوں نے زندگی کے ہر پہلو اور ہر گوشے میں اقامت دین کے مشن کا کام آگے بڑھایا،اور مکمل عزم واستقلال،ثبات و استحکام کے ساتھ معاشرتی اصلاح اور رب تعالیٰ کے ساتھ تحسین علاقہ پر بندگان خدا کو ابھارا اور ورطۂ حیرت میں سرگرداں لاکھوں انسانوں کو راہ ہدایت پر لگادیا ۔

لیکن یہ عجیب سی بات ہے کہ ان مساعی جمیلہ کے باوجود ان کو مورود طعن بنا یا گیا ،اور ہر دور میں فکر تصوف پر بحث کی گئی اور اس کے تعلق سے بھانت بھانت کے نظریات سامنے آئے انہیں میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جنہوں نے سبائیت ،یہودیت باطنیت اور ویدانت کے فلسفے کو اس کا بنیادی مآخذ قرار دیا ،جبکہ تصوف اور صوفیاء ان الزاموں سے بری ہیں ،بلکہ در حقیقت قرآن و سنت اس کے حقیقی مآخذ اور شریعت مطہرہ اس کا صحیح سر چشمہ ہے،صرف جہال صوفیاء اور قرآن و سنت سے بے خبر متعبدین کے احوال و اقوال،اعمال و مراسم کو دلیل بنا کر پوری جماعت صوفیاء اور تصوف کو تنقید کانشانہ بنانا اصول تنقید سے انحراف ہے،کیونکہ تصوف کے صحیح خد و خال سے آشنائی کے لئے صرف قرآن و سنت ہی کسوٹیاں ہیں،چنانچہ صوفیائے کرام کے اعمال و مراسم کو بھی انہیں کسوٹیوں پر پرکھا جانا چاہئے،اور پھر جو چیزیں قرآن و سنت کی کسوٹی پر درست اتر رہی ہوں یا ان سے بلا واسطہ و بواسطہ متصادم نہ ہوں تو ان کے صحت و جواز کو بحث کے نرغے میں لینا جہل کے مترادف ہے،کیوں کہ تصوف نام ہے تزکیۂ نفس،صفائی قلب ،خلوص و نیک نیتی اور ظاہری باطنی اصلاح کا ،یہ نہ کوئی فلسفہ ہے نہ سائنس اور نہ ہی قصص و حکایات جو مرور ایام کے ساتھ تغییر پذیر ہو تے رہتے ہیں بلکہ یہ ایک جامع حقیقت اور مکمل دستور زندگی ہے۔

تصوف کی لغوی واصطلاحی تعریف : تصوف کس سے مشتق ہے اور اس کی لغوی اساس کیا ہے اس کا جواب متفق علیہ نہیں ہے،بعض صفا سے مشتق مانتے ہیں ،تو بعض صفوۃ سے کیونکہ تصوف کمالات سے متصف ہونے کا نام ہے،یا یہ ’’ صفۃ المسجد النبوی ‘‘سے ہے کیونکہ صوفیاء اللہ کی جانب متوجہ ہونے اور دنیا سے بے رغبت ہونے میں اہل صفہ کے مشابہ ہیں اور تصوف کے اصطلاحی معنی اس علم کے ہیں جس سے حق تعالیٰ تک رسائی کی کیفیت،باطن کو پاک کرنے اور نفس کو طرح طرح کے فضائل سے آراستہ کرنے کی کیفیت معلوم ہوتی ہے چنانچہ اس کا ابتدائی حصہ علم درمیا نی حصہ عمل اور آخری حصہ عطیۂ الٰہی ہے قرآن کریم سے بھی اسکی وضاحت ہو جاتی ہے ارشادباری ہے وما اُمِرُوْا اِلا لیعبدوا اللہَ مُخلصین لہ الدین حنفاء ویقیموا الصلاۃ ویوتواالزکوٰۃ وذالک دین القیّمۃ (ترجمہ) اور ان لوگوں کو تو یہی حکم ہوا کہ اللہ کی بندگی کریں نرے اسی پر عقیدہ لاتے ایک طرف کے ہوکر اور نماز قائم کریں اور زکواۃ دیں اور یہ سیدھا دین ہے (کنز الایمان) اور صوفیاء کرام کی تعریف کرتے ہوے شیخ ابن عجبیہ فرماتے ہیں کہ حضرت سہل بن عبداللہ نستری نے فرمایا’’ الصوفی صفا من الکدر وامتلا من الفکروانقطع الی اللہ عن البشر واستوی عندہ الذھب والمدر‘‘ یعنی صوفی وہ ہے جوکدورت سے پاک ہو جسکے اندر آخرت کی فکر ہو ،لوگوں سے کٹ کر اللہ کی طرف لو لگائے ہو اور اسکی نظر میں سونا اور مٹی کاڈھیلا برابر ہو ۔

تصو ف قرآن کی نظر میں : قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے؛ ان الّذین ھم من خشیۃربھم مشفقون۔والّذین ھم بآیات ربھم یومنون۔والّذین ھم بربھم لا یشرکون۔والّذین یوتون ما اٰ توا وقلوبھم و جلۃ انھم الی ربھم راجعون۔اولٰئک یسارعون فی الخیرات وھم لھا سابقون۔ (ترجمہ)بے شک وہ جو اپنے رب کے ڈر سے سہمے ہوئے ہیں اور وہ جو اپنے رب کی آیتوں پر ایمان لاتے ہیں اور وہ جو اپنے رب کا کوئی شریک نہیں کرتے اور وہ جو دیتے ہیں جو کچھ دیں اور ان کے دل ڈر رہے ہیں یوں کہ ان کو اپنے رب کی طرف پھرنا ہے یہ لوگ بھلائیوں میں جلدی کرتے ہیں اور یہی سب سے پہلے انہیں پہنچے۔( کنزالایمان )

ایک دوسرے مقام پر وارد ہے’’ قد افلح من زکّٰھا‘‘ بالیقین وہ کامیاب ہو گیا جس نے تزکیۂ نفس کیا،ایک دوسری جگہ پر رب تعالیٰ نبی کریم ا کی بعثت کو مومنوں پر احسان قرار دیتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے: یعلمھم الکتاب والحکمۃ و یزکیھم یعنی نبی کریم ا کفر و ضلالت،ارتکاب محرمات و معاصی،خابشدیدہ خصائل اور نفس کے ملکات رذیلہ و ظلمات شہوانیہ سے مومنین کا تزکیہ فرماتے ہیں اور نفس کی قوت علمیہ و عملیہ کی تکمیل فرماتے ہیں اور بعینہ یہی کام صوفیائے کرام بھی انجام دیتے ہیں کہ وہ خود تزکیئہ باطن فرماتے ہیں اور اپنے مریدین کے نفوس کی بھی تربیت کرتے ہیں۔ ایک اور مقام پر ارشاد باری تعالیٰ ہے ’’وَالَّذِیْن آمنوا اشدُّ حبّاً لِلّٰہِ‘‘ اور جو ایمان والے ہیں ان کو سب سے زیادہ محبت اللہ سے ہوتی ہے اور حدیث میں آتا ہے کہ ایمان کی حلاوت اس کے اندر ہوگی جس میں تین چیزیں ہوں گی (۱)اللہ اور رسول ا کی محبت(۲)اگر کسی دوسرے سے محبت ہو تو وہ بھی اللہ کے لئے ہی ہو (۳)ایمان کے بعد کفر کی طرف لوٹنا اتنا نا گوار ہو جتنا کہ آگ میں ڈالا جانا،اور قرآن کریم سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے کہ ارشاد ربانی ہے: انما المومنون الّذین اذا ذکر اللّٰہ و جلت قلوبھم واذاتلیت علیھم آیاتہ زادتھم ایمانا‘‘ یعنی سچے ایمان والے وہی لوگ ہیں کہ جب ان کے سامنے اللہ کا ذکر ہو تو ان پر خوف کا عالم طاری ہو اور جب قرآن کی آیتیں تلاوت کی جائیں تو ان کے نور ایمان میں زیادتی ہو اور یہ وہی لوگ ہیں جو اپنے پروردگار پر بھروسہ کرتے ہیں۔

ان آیات کے علاوہ اور بھی بہت سی آیتیں ہیں جن میں جوہر تصوف کی صراحت ملتی ہے ،اور قرآن میں وارد ہونے والے صادقین،قانتین،موقنین اور مخلصین جیسے بہت سارے الفاظ صوفیائے کرام کی حقانیت اور فکر تصوف کا سر چشمہ قرآن ہونے پر شاہد ہیں،کیونکہ ان تمام آیتوں میں ان اوصاف کو بیان کیا گیا ہے جن کو صوفیاء اپنا تے ہیں ،جن کے حصول کی کوششیں کرتے ہیںاور ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے لو لگائے رہتے ہیں اور سلسلے میں قرآنی ہدایات و ارشادات کو مشعل راہ بنا کر تقرب الی اللہ کے منازل طے کرتے ہیں۔

جہاں تک احادیث طیبہ سے تصوف کی ہم آہنگی کا سوال ہے تو اس سلسلے میں کتب احادیث کا ہر ورق تصوف کی تعلیمات سے بھرا ہوا ہے اور تصوف کے تمام مسائل سنت نبوی علی صاحبھاالصلوٰۃ و السلام سے ہم آہنگ اور اسی سے مستفیض ہیں،چنانچہ ایک حدیث پاک میں ہے کہ آقائے کریم ا نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اسرار باطن سے مطلع کیااور ان کی تعلیم دی،چنانچہ اسرارر بانیہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے توسط سے صوفیائے کرام تک پہنچے اور قیامت تک ان کے فیوض و برکات کا سلسلہ جاری رہے گا ،اور بخاری شریف میںذکر کی گئی حدیث پاک ’’یتقرب الی عبدی بالنوافل الخ‘‘ تصوف اورصوفیاء کے حق میں محکم دلیل ہے ،اور ان سب سے زیادہ صریح دلیل حدیث جبریل ہے ، جس میں مقام اِحسان کا تذکرہ ہے،کیونکہ جب حضرت جبریل نے سرکار دو عالم اسے یہ پوچھا کہ ما الاحسان؟یعنی احسان کیا ہے،تو آپ نے ارشاد فرمایا ’’ان تعبد اللّٰہ کانک تراہ فان لم تکن تراہ فانہ یراک ‘‘یعنی تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو گویا تم اللہ کو دیکھ رہے ہو ، اور اگر یہ کیفیت پیدا نہ ہو سکے تو یہ یقین رکھو کہ اللہ تمہیں دیکھ رہا ہے ،ان کے علاوہ وہ تمام احادیث جن میں اوصاف حمیدہ پر تحریض اور خصائل رذیلہ کی تنفیر ہے صوفیائے کرام کے حق میں اعلیٰ دلیلیں ہیں کیونکہ صوفیائے کرام انہی چیزوں سے آراستہ اور انہیں چیزوں کے داعی و مبلغ ہیں ۔

حضرت ابو القاسم جنید فرماتے ہیں کہ جو شخص قرآن کا حافظ نہ ہو اور حدیث نہ لکھے تو تصوف کے معاملہ میں اس کی پیروی نہیں کی جائے گی کیونکہ ’’عِلْمُنَا ھٰذا رھینٌ بالکتاب والسنۃ‘‘ہمارا یہ علم کتاب و سنت کے ساتھ مقید ہے،اور ابو الحسن احمد بن محمد نوری فرماتے ہیں کہ جس شخص کو دیکھو کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایسی حالت کا دعوی کرتا ہے جو اسے علم شرعی کی حد سے نکال دے تو اس کے قریب مت جائو،حضرت ابو سعید خراز فرماتے ہیں کہ ہر وہ باطن جس کا ظاہر مخالف ہو وہ باطل ہے،اور ابو العباس احمد بن محمد عطاء اللہ سکندری فرماتے ہیں کہ حبیب خدا ا کے احکام ،افعال اور اخلاق میں پیروی کے مقام سے افضل کوئی مقام نہیں ہے اور امام عبد اللہ بن علوی حداد اپنے قصیدئہ تاثبہ کبری میں فرماتے ہیں: ؎

مخالفۃ للشرع فاسمع وانصت

وما فی طریق القوم بدء و لا انتھاء

اہل تصوف کے طریقے میں شریعت کے خلاف نہ کوئی ابتداء ہے اور نہ انتہاء لہٰذا سنو اور خاموش رہو

وخلّ مقالات الّذین تخبّطوا

ولا تک الّا مع الکتاب وسنۃ

اور ان لوگوں کی باتوں کو چھوڑدو جو بھٹک رہے ہیں اور ہمیشہ کتاب و سنت کے ساتھ رہو۔

و من حاد عن علم الکتاب و سنۃ

فبشّر ہ فی الدنیا بخزی و ذلۃ

اور جو شخص قرآن وسنت کے علم سے انحراف کرے اسے دنیا میں ذلت و رسوائی کی بشارت دو۔

فکرتصوّف اور صو فیاء قرآن وسنّت سے روشنی حاصل کرتے ہیں اسی بناء پر تمامی صوفیاء کرام چاروں فقہی مذاہب کی حقانیت کا یقین رکھنے والے اور کسی ایک کی پیروی کرنے والے ہیں ،اور یہی وجہ ہے کہ مذاہب فقہ کے اساطین اربعہ نے گروہ صوفیاء کی مدح سرائی کی ہے اوران کو خیر کے ساتھ یاد کیا ہے، چنانچہ امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ سے صوفیاء کرام کے جلوت کے اعمال کے بارے میں پوچھا گیا کہ کیا وہ لوگ سچّے ہیں تو آپ نے فرمایا بیشک اللہ کے کچھ بندے ایسے ہیں جو اپنے دف کے ساتھ جنّت میں داخل ہونگے ،اور امام مالک بن انس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا جس نے علم فقہ حاصل کیا اور صوفی نہ بنا تو وہ فاسق ہو جائے گا ،اور جو دونوں جمع کرلے وہ محقق اور کامیاب ہے ۔

امام شافعی واحمد رضی اللہ عنہما کے بارے میں جامع مجالس الصوفیہ کے مصنّف نے ذکر کیاہے کہ یہ دونوں حضرات ان صوفیاء کرام کی مجلسوں میں حاضرہوا کرتے،توان دونوں سے پوچھا گیا کہ آپ ان حضرات کے پاس بار بار کیوں جا تے ہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ ان حضرات کے پاس رأس الامر (اصل پونجی)ہے ، اور وہ اللہ کا تقویٰ اور اس کی محبت ہے ،خصو صاًامام شافعی کا اولیاء اللہ سے گہرا تعلق تھا،یہاں تک کہ بعض اہل اعتزال نے آپ کی جانب رفض کی نسبت کر دی تو آپ نے ارشاد فرمایا:

ان کان حب الولی رفضا ÷ فاننی ارفض العباد

یعنی اگر ولی سے محبت کا نام رفض ہے تو سن لو میں سب سے بڑا رافضی ہوں۔کتاب و سنت پر گہری نظر رکھنے والے ان حضرات کی شہاد توں کے بعد یہ حقیقت خوب روشن ہو گئی کہ فکر ِتصوف کا مصدر و منبع کتاب وسنت ہے ورنہ یہ شخصیتیں صوفیاء کے حق میں خیر کی شہادتیں نہ دیتیں۔اب ہم دو ایسی شہادتیں پیش کرتے ہیں جو منکرین کے حق میں’’مدعی لاکھ پہ بھاری ہے گواہی تیری‘‘کے مصداق ہے ،چنانچہ منکرین کے شیخ الاسلام ابن تیمیہ اپنے فتاویٰ کے علم السلوک والے باب میں فرماتے ہیں۔’’ شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ اور ان کے زمانہ کے دیگر مشائخ نے شریعت اور احکام الٰہی کی پا بندی کا اور اسے ذوق و قدرپر مقدم رکھنے کا حکم دیا ،اور وہ خواہشات او ر نفسانی ارادے کے ترک کا حکم دینے والے مشائخ میں سب سے بڑے ہیں ،اپنے فتاویٰ کی گیارہویں جلد میں لکھتے ہیں : ’’صوفیاء میںسے بعض صدیقین کے مرتبے کو پہو نچے ہوئے ہیں ،اور ابن قیم جوزی اپنی کتاب شرح منازل السائرین میں لکھتے ہیں کہ صوفیاء تین طرح کے ہیں (۱)صوفیۃالارزاق (۲)صوفیۃالرسوم (۳)صوفیۃالحقائق ،پہلی دو قسموں کے لوگوں کی بدعتوں سے ہر وہ شخص آشنا ہے جوحدیث وقفہ سے ذرا بھی علاقہ رکھتا ہے ،اور صوفیاء تو دراصل صوفیۃالحقائق ہیں،جن کے سامنے فقہاء و متکلمین کی گردنیں جھکتی ہیںحقیقت میں وہی علماء اور حکماء ہیں‘‘۔

اب تک مکمل بحث سے یہی بات سامنے آئی کہ صوفیاء اور تصوف کا فکری ماخذ قرآن و حدیث ہی ہے ،اب اس بحث کو آخری منزل تک پہونچاتے ہوئے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ڈاکٹر سید یوسف ہاشم رفاعی مدظلہ کا یہ پیغام ذکر کر دیا جائے جس میں وہ فرماتے ہیں: میں یہ عرض کر دینا چاہتاہوں کہ ’’ تصوف‘‘ اسلام کا روحانی پہلو ہے ،اس سے الجھنا یا اس کا انکار شریعت اسلامیہ کے سر چشموں اور روحانی پہلوئوں کو خشک کرنا ہے، اور یہ ایک علم اور مسلک ہے ،اور یہ بھی واضح کر دینا چاہتا ہوںکہ تصوف کوئی عقیدہ نہیں ،بلکہ وہ اللہ تعالیٰ سے تعلق قائم کرنے کے سلسلے میں روحانی اورتعبدی پہلومیں نوافل وغیرہ کے اہتمام کے ذریعہ کچھ اضافہ ہے،اور صوفی وہ انسان ہے جو قرآن و حدیث کا متبع ہو ، اس کا عقیدہ اہلسنت و جماعت کا عقیدہ ہے ،وہ چاروں فقہی مذاہب میں سے کسی ایک کی پیروی کر کے اللہ کی عباد ت کرتا ہے اور عام مسلمانوں سے اس کا امتیاز یہ ہے کہ وہ کچھ وظائف و اوراد اور زیادہ عبادت اپنے اوپر لازم کر لیتا ہے تا کہ مقام احسان تک رسائی ہو سکے ۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کو سچ کہنے ، سننے ، دیکھنے کی توفیق عطافرمائے ۔