أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قُلۡ اَغَيۡرَ اللّٰهِ اَبۡغِىۡ رَبًّا وَّهُوَ رَبُّ كُلِّ شَىۡءٍ‌ ؕ وَلَا تَكۡسِبُ كُلُّ نَـفۡسٍ اِلَّا عَلَيۡهَا‌ۚ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزۡرَ اُخۡرٰى‌ ۚ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمۡ مَّرۡجِعُكُمۡ فَيُنَبِّئُكُمۡ بِمَا كُنۡـتُمۡ فِيۡهِ تَخۡتَلِفُوۡنَ‏ ۞

ترجمہ:

آپ کہیے کہ کیا میں اللہ کے سوا کوئی اور رب تلاش کروں ؟ حالانکہ وہ ہر چیز کا رب ہے : اور ہر شخص جو کچھ بھی کرتا ہے اس کا وہی ذمہ دار ہے، اور کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا، پھر تم نے اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے تو وہ تمہیں ان چیزوں کے متعلق خبر دے گا جن میں تم اختلاف کرتے تھے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آپ کہیے کہ کیا میں اللہ کے سوا کوئی اور رب تلاش کروں ؟ حالانکہ وہ ہر چیز کا رب ہے : اور ہر شخص جو کچھ بھی کرتا ہے اس کا وہی ذمہ دار ہے، اور کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا، پھر تم نے اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے تو وہ تمہیں ان چیزوں کے متعلق خبر دے گا جن میں تم اختلاف کرتے تھے۔ (الانعام : ١٦٤) 

فتنہ کے زمانہ میں نیک علماء کا گوشہ نشین ہونا : 

روایت ہے کہ کفار نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے دین کی طرف آئیں اور ہمارے خداؤں کی عبادت کریں ‘ اور اپنے دین کو چھوڑ دیں اور ہم دنیا اور آخرت میں آپ کی ہر ضرورت کے کفیل ہوں گے۔ اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی۔ آپ کہیے کیا میں اللہ کے سوا کوئی اور رب تلاش کروں ؟ حالانکہ وہ ہر چیز کا رب ہے۔ (الجامع لاحکام القرآن جز ٨‘ ص ١٤١) 

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور ہر شخص جو کچھ بھی کرتا ہے ‘ اس کا وہی ذمہ دار ہے۔ 

ربیع بیان کرتے ہیں کہ عبادت گزار علماء کے لیے اس زمانہ میں صرف دو صورتیں ہیں اور ہر صورت دوسری سے افضل ہے ‘ وہ لوگوں کو نیکی کا حکم دیں اور حق کی دعوت دیں ‘ یا فتنہ انگیز لوگوں کو چھوڑ کر گوشہ نشین ہوجائیں اور بدکردار اور بدعنوان لوگوں کے اعمال میں شریک نہ ہوں اور اللہ کے احکام کی پیروی کرتے رہیں اور فرائض بجا لائیں اور اللہ کے لیے محبت رکھیں اور اسی کے لیے بغض رکھیں۔ (جامع البیان ‘ جز ٨ ص ‘ ١٤٩ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ١٤١٥ ھ) 

فضول کے عقد اور وکیل کے تصرفات میں مذاہب فقہاء : 

فضول کی بیع یہ ہے کہ ایک شخص کسی دوسرے شخص کے لیے اس کی اجازت کے بغیر کوئی چیز خرید لے۔ اس بیع کا جواز اس مالک کی مرضی پر موقوف ہے۔ اگر وہ اس کو جائز قرار دے تو یہ بیع جائز ہے ‘ ورنہ نہیں۔ اسی طرح فضول کا کیا ہوا عقد نکاح بھی ‘ لڑکے یا لڑکی کی بعد میں رضا مندی سے جائز ہوتا ہے ‘ ہمارے دور میں اکثر نکاح ایسے ہی ہوتے ہیں لڑکی سے نکاح کی اجازت وکیل لیتا ہے ‘ لیکن لڑکے سے ایجاب و قبول وکیل کی بجائے نکاح خوان کرتا ہے۔ یہ بھی فضولی کا عقد ہے ‘ لیکن جب لڑکی رخصت ہوجاتی ہے تو گویا وہ اس فضولی کے عقد پر راضی ہوجاتی ہے اور یہ نکاح نافذ ہوجاتا ہے۔ امام شافعی کے نزدیک فضولی کا عقد جائز نہیں ہے۔ وہ اس آیت سے استدلال کرتے ہیں اور ہر شخص جو کچھ بھی کرتا ہے ‘ اس کا وہی ذمہ دار ہے۔ (الانعام : ١٦٤) یعنی دوسرا اس کا ذمہ دار نہیں ہے ‘ اور اس آیت کے پیش نظر وہ فضول کے عقد کو ناجائز کہتے ہیں۔ امام مالک اور امام ابوحنیفہ کے نزدیک فضولی کی بیع جائز ہے اور ان کی دلیل یہ حدیث ہے : 

عروہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو ایک دینار عطا کیا ‘ تاکہ وہ آپ کے لیے ایک بکری خریدیں۔ انہوں نے اس دینار سے دو بکریاں خریدیں ‘ پھر ایک بکری کو ایک دینار کے عوض فروخت کردیا اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک بکری اور ایک دینار لے کر آگئے ‘ آپ نے انکے لیے بیع میں برکت کی دعا کی ‘ پھر یہ ہوا کہ وہ مٹی بھی خریدتے تو ان کو نفع ہوتا۔ 

(صحیح البخاری ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ٣٦٤٢‘ سنن ابوداؤد ‘ ج ٣‘ رقم الحدیث :‘ ٣٤٨٣‘ سنن الترمذی ‘ ج ٣‘ رقم الحدیث :‘ ١٢٦٢‘ سنن ابن ماجہ ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ٢٤٠٢‘ مسند احمد ‘ ج ٧‘ رقم الحدیث :‘ ١٩٣٨١‘ ١٩٣٨٠‘ طبع جدید ‘ مسند احمد ‘ ج ٤‘ ص ٣٧٤‘ طبع قدیم) 

اس حدیث میں یہ دلیل ہے کہ فضولی کا عقد صحیح ہے اور اصل شخص کی رضا مندی کے بعد اس کا عقد نافذ ہوجائے گا ‘ نیز اس حدیث میں یہ دلیل بھی ہے کہ وکیل کا تصرف صحیح ہے اور اس کے تصرف سے جو منفعت اسے حاصل ہوگی ‘ وہ اصیل کے لیے ہوگی۔ امام مالک ‘ امام ابو یوسف ‘ امام محمد بن حسن کا یہی قول ہے اور امام ابوحنیفہ (رح) یہ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص مثلا یہ کہے کہ سو روپے کا ایک کلو بکری کا گوشت خرید کر لاؤ اور وہ سو روپے کا دو کلو بکری کا گوشت لے آئے تو وہ زائد ایک کلو گوشت وکیل کا ہوگا۔ ہوسکتا ہے امام ابوحنیفہ (رح) تک یہ حدیث نہ پہنچی ہو ‘ کیونکہ اس زمانے میں احادیث کی نشر و اشاعت کے اس قدر وسائل نہیں تھے جتنے اب میسر ہیں اور احادیث کی اشاعت میں تدریجا وسعت ہوئی ہے۔ 

برائی کے موجد کو اس برائی کے مرتکبین کی سزا میں سے حصہ ملے گا۔ 

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ اس پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ قرآن مجید کی بعض آیتوں اور بعض احادیث سے معلوم ہوتا ہے ؟ کہ بعض لوگوں کے گناہوں کا عذاب بعض دوسروں کو ہوگا اور یہ اس آیت کے خلاف ہے۔ 

(آیت) ” ولیحملن اثقالھم واثقالا مع اثقالھم “۔ (العنکبوت : ١٣) 

ترجمہ : اور وہ ضرور اپنے بوجھ اٹھائیں گے اور اپنے بوجھوں کے ساتھ اور کئی بوجھ اٹھائیں گے۔ 

(آیت) ” لیحملوا اوزارھم کاملۃ یوم القیامۃ ومن اوزار الذین یضلونھم بغیر علم الاسآء مایزرون “۔ (النحل : ٢٥) 

ترجمہ : تاکہ وہ (متکبر کافر) قیامت کے دن اپنے (گناہوں کے) پورے بوجھ اٹھائیں اور کچھ بوجھ ان لوگوں کے اٹھائیں جنہیں وہ اپنی جہالت سے گمراہ کرتے تھے ‘ سنو ! وہ کیسا برا بوجھ ہے جسے وہ اٹھاتے ہیں۔ 

اسی طرح بعض احادیث میں بھی ہے : 

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص کو بھی ظلما قتل کیا جائے گا اس کے خون کی سزا سے ایک حصہ پہلے ابن آدم (قابیل) کو بھی ملے گا ‘ کیونکہ وہ پہلا شخص تھا جس نے قتل کرنے کی رسم اور گناہ کو ایجاد کیا۔ 

(صحیح البخاری ‘ ج ٤‘ رقم الحدیث :‘ ٣٣٣٥‘ ج ٨‘ رقم الحدیث :‘ ٧٣٢١‘ ج ٧‘ رقم الحدیث :‘ ٦٨٦٧‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث :‘ ١٦٧٧‘ سنن ترمذی ‘ ج ٤‘ رقم الحدیث :‘ ٢٦٨١‘ سنن نسائی ‘ رقم الحدیث :‘ ٣٩٩٦‘ مسند احمد ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ٣٦٣٠‘ مصنف عبدالرزاق ‘ رقم الحدیث :‘ ١٩٧١٨‘ مصنف ابن ابی شیبہ ‘ ج ٩‘ ص ٣٦٤‘ صحیح ابن حبان ‘ ج ١٣‘ رقم الحدیث :‘ ٥٩٨٣‘ سنن کبری للبیہقی ‘ ج ٨ ص ١٥) 

اس سوال کا جواب یہ ہے کہ جن لوگوں نے کسی برائی اور گناہ کو ایجاد کیا تو قیامت تک جتنے لوگ اس برائی پر عمل کریں گے ‘ تو انکے گناہوں کی سزا میں اس برائی کے ایجاد کرنے والے کا بھی حصہ ہوگا ‘ کیونکہ وہ ان سب لوگوں کے لیے اس برائی کے ارتکاب کا سبب بنا تھا ‘ اور بعد کے لوگوں کی سزا میں کوئی کمی نہیں ہوگی ‘ جیسا کہ اس حدیث میں ہے : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے ہدایت کی دعوت دی تو اس کو ہدایت پر تمام عمل کرنے والوں کے برابر اجر ملے گا اور اس متبعین کے اجروں میں سے کوئی کمی نہیں ہوگی اور جس نے کسی گمراہی کی دعوت دی تو اس کو اس گمراہی پر تمام عمل کرنے والوں کے برابر سزا ملے گی اور ان متبعین کی سزاؤں میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔ 

(سنن ترمذی ‘ ج ٤‘ رقم الحدیث :‘ ٢٦٨٣‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث :‘ ٢٦٧٤‘ سنن ابو داؤد ‘ ج ٤‘ رقم الحدیث :‘ ٤٦٠٩‘ موطا امام مالک ‘ رقم الحدیث :‘ ٥٠٧‘ مسند احمد ‘ ج ٣‘ رقم الحدیث :‘ ٩١٧١) 

کوئی شخص دوسرے کے جرم کی سزا نہیں پائے گا ‘ اس قاعدہ کے بعض مستثنیات : 

کسی شخص کو دوسرے کے گناہ کی سزا نہیں ملے گی ‘ یہ قاعدہ اس صورت میں ہے جب وہ شخص دوسروں کو اس گناہ سے منع کرتا رہے ‘ لیکن اگر کوئی شخص خود نیک ہو اور اس کے سامنے دوسرے گناہ کرتے رہیں اور وہ ان کو منع نہ کرے تو اس نیک شخص کو اس لیے عذاب ہوگا کہ اس نے ان دوسروں کو برائی سے نہیں روکا۔ قرآن مجید میں ہے : 

(آیت) ” کانوا لایتناھون عن منکر فعلوہ لبئس ماکانوا یفعلون “۔ (المائدہ : ٧٩) 

ترجمہ : وہ ایک دوسرے کو ان برے کاموں سے نہیں روکتے تھے جو انہوں نے کیے تھے ‘ وہ بہت برا کام کرتے تھے۔ 

حضرت زینب بنت جحش (رض) بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نیند سے یہ فرماتے ہوئے بیدار ہوئے ” لا الہ الا اللہ “ عرب کے لیے تباہی ہو اس شر سے جو قریب آپہنچا ‘ یاجوج ماجوج کی رکاوٹ کے ٹوٹنے سے ‘ آج روم فتح ہوگیا۔ سفیان نے اپنے ہاتھ سے دس کا عقد بنایا ‘ میں نے عرض کیا ‘ یا رسول اللہ ! کیا ہم ہلاک ہوجائیں گے ‘ حالانکہ ہم میں نیک لوگ موجود ہوں گے آپ نے فرمایا ہاں جب برائیاں زیادہ ہوجائیں گی۔ 

(صحیح البخاری ‘ ج ٤‘ رقم الحدیث :‘ ٣٣٤٦‘ صحیح مسلم ‘ فتن ‘ ١ ‘(٢٨٨٠) ٧١٠٢‘ سنن الترمذی ‘ ج ٤‘ رقم الحدیث :‘ ٢١٩٤‘ مصنف عبدالرزاق ‘ رقم الحدیث :‘ ٢٠٧٤٩‘ مسند الحمیدی ‘ رقم الحدیث :‘ ٣٠٨‘ مصنف ابن ابی شیبہ ‘ رقم الحدیث :‘ ١٩٠٦١‘ مسند احمد ‘ ج ١٠‘ رقم الحدیث :‘ ٢٧٤٨٦‘ سنن کبری للبیہقی ‘ ج ١٠‘ ص ٩٣) 

اسی طرح اس قاعدہ سے بعض احکام بھی مستثنی ہیں ‘ مثلا اگر کوئی مسلمان دوسرے مسلمان کو خطا قتل کردے یا اس کا قتل شبہ عمد ہو (قتل شبہ عمدیہ ہے کہ کوئی شخص کسی کو سزا دینے کے قصد سے لاٹھی ‘ کوڑے یا ہاتھ سے ضرب لگائے اور اس کا قصد قتل کرنا نہ ہو) تو اس کی دیت عاقلہ پر لازم آتی ہے ‘ تاکہ اس کا خون رائیگاں نہ ہو ‘ اب یہاں جرم تو ایک شخص نے کیا ہے اور اس کا تاوان اس کے عاقلہ ادا کریں گے۔ عاقلہ سے مراد مجرم کے باپ کی طرف سے رشتہ دار ہیں جن کو عصبات کہتے ہیں ‘ حدیث شریف میں ہے : 

حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت نے اپنی سوکن کو خیمہ کی ایک چوب سے مارا درآنحالیکہ وہ مضروبہ حاملہ تھی اور (اس ضرب سے) اس کو ہلاک کردیا۔ ان میں سے ایک عورت بنو لحیان کی تھی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قاتلہ کے عصبات (باپ کی طرف سے رشتہ دار) پر مقتولہ کی دیت لازم کی ‘ اور اس کے پیٹ کے بچہ کے تاوان میں ایک باندی یا ایک غلام کا دینا لازم کیا۔ 

(صحیح مسلم ‘ القسامہ ‘ ٣٧‘ ١٦٨٢‘ ٤٣١٤‘ سنن ابوداؤد ‘ ج ٤‘ رقم الحدیث :‘ ٤٥٦٨‘ سنن الترمذی ‘ ج ٣‘ رقم الحدیث :‘ ١٤١٥‘ سنن النسائی ‘ ج ٨“ رقم الحدیث :‘ ٤٨٢٢‘ ٣٨٣٦‘ ٤٨٤٢‘ سنن ابن ماجہ ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ٢٦٣٣) 

اسی طرح اگر مسلمانوں کے محلہ میں کوئی مسلمان مقتول پایا جائے اور یہ معلوم نہ ہو کہ اس کا قاتل کون ہے ؟ تو اس محلہ کے پچاس آدمی یہ قسم کھائیں گے کہ نہ ہم نے اس کو قتل کیا ہے ‘ نہ ہم اس کے قاتل کو جانتے ہیں اور ان کے قسم کھانے کے بعد اہل محلہ پر دیت لازم آئے گی ‘ تاکہ مسلمان کا قتل رائیگاں نہ جائے ‘ اس کو قسامت کہتے ہیں ‘ یہاں بھی قتل کسی اور نے کیا ہے اور اس کا تاوان یہ محلہ والے ادا کریں گے۔ حدیث میں ہے : 

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ انصار کا ایک شخص یہود کی رہٹ والی زمین میں مقتول پایا گیا۔ انہوں نے اس کا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ذکر کیا ‘ آپ نے یہود کے پچاس چنے ہوئے لوگوں کو بلایا اور ہر ایک سے یہ قسم لی کہ اللہ کی قسم ! نہ میں نے اس کو قتل کیا ہے اور نہ مجھے اس کے قاتل کا علم ہے پھر ان پر دیت لازم کردی۔ یہود نے کہا بخدا یہ وہی فیصلہ ہے جو موسیٰ (علیہ السلام) کی شریعت میں تھا۔ (سنن دارقطنی ‘ ج ٤‘ رقم الحدیث :‘ ٢١٩‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت ‘ ١٤١٧ ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 6 الأنعام آیت نمبر 164