حدیث نمبر :613

روایت ہے حضرت مالک سے انہیں یہ حدیث پہنچی ہے کہ عمرفاروق کی خدمت میں مؤذن نمازفجرکی اطلاع دینے حاضر ہوئے ۱؎ انہیں سوتاپایا بولے نماز نیند سے بہتر ہے انہیں عمرفاروق نے حکم دیا یہ لفظ فجرکی اذان میں داخل کرلیں۲؎(مؤطا)

شرح

۱؎ غالبًا یہ واقعہ خلافت فاروقی کے زمانہ کاہے اوریہ مؤذن حضرت بلال نہیں کوئی اور بزرگ ہیں کیونکہ حضرت بلال حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعددمشق چلے گئے تھے۔عہدفاروقی میں وہاں ہی آپ کی وفات ہوئی۔اس سے معلوم ہوا کہ سلطان اسلام قاضی،عالم دین وغیرہم کو مؤذن خصوصی طور پرنمازکی اطلاع دے سکتا ہے عوام کے لیےممنوع ہے انہیں اذان ہی کافی ہے۔

۲؎ یعنی یہ کلمہ اذان صبح کا جزو ہے اسے صرف اذان میں ہی استعمال کیا کریں اس کے علاوہ نہیں،دوسرے اوقات میں اورلفظ سے بیدارکریں یا اطلاع دیں،لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ یہ کلمہ تو حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے اذان فجرمیں داخل تھا آج داخل کرنے کے کیا معنی،اسکی اوربھی تفسیر یں ہیں مگر یہ تفسیربہتر۔