أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَهُوَ الَّذِىۡ جَعَلَـكُمۡ خَلٰٓئِفَ الۡاَرۡضِ وَرَفَعَ بَعۡضَكُمۡ فَوۡقَ بَعۡضٍ دَرَجٰتٍ لِّيَبۡلُوَكُمۡ فِىۡ مَاۤ اٰتٰٮكُمۡ‌ؕ اِنَّ رَبَّكَ سَرِيۡعُ الۡعِقَابِ  ۖ وَاِنَّهٗ لَـغَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ۞

ترجمہ:

وہی ہے جس نے تم کو زمین میں خلیفہ بنایا اور تم میں سے بعض کو بعض پر کئی درجات بلندی عطا فرمائی تاکہ اس نے جو کچھ تمہیں عطا فرمایا ہے اس میں تمہاری آزمائش کرے، بیشک آپ کا رب بہت جلد سزا دینے والا ہے اور بیشک وہ بہت بخشنے والا بےحد مہربان ہے۔ ؏

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وہی ہے جس نے تم کو زمین میں خلیفہ بنایا اور تم میں سے بعض کو بعض پر کئی درجات بلندی عطا فرمائی تاکہ اس نے جو کچھ تمہیں عطا فرمایا ہے اس میں تمہاری آزمائش کرے، بیشک آپ کا رب بہت جلد سزا دینے والا ہے اور بیشک وہ بہت بخشنے والا بےحد مہربان ہے۔ (الانعام : ١٦٥) 

مسلمانوں کو خلیفہ بنانے کے محامل : 

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اس نے مسلمانوں کو زمین میں خلیفہ بنایا ہے ‘ اس خلافت کے حسب ذیل محامل ہیں : 

(١) سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خاتم النبیین ہیں ‘ اس لیے آپ کی امت خاتم الامم ہے اور چونکہ یہ امت پچھلی تمام امتوں کے بعد ہے ‘ اس لیے یہ تمام امتوں کی خلیفہ ہے۔ 

(٢) اس امت کا ہر قرن دوسرے قرن کے بعد ہے ‘ اس لیے ہر قرن دوسرے قرن کا خلیفہ ہے۔ 

(٣) اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو زمین میں اپنا خلیفہ بنایا ہے ‘ تاکہ وہ زمین میں اللہ کے احکام جاری کریں۔ قرآن مجید میں ہے : 

(آیت) ” وعد اللہ الذین امنوا منکم وعملوا الصلحت لیستخلفنھم فی الارض کما استخلف الذین من قبلھم ولیمکنن لھم دینھم الذی ارتضی لھم ولیبدلنھم من بعد خوفھم امنا یعبدوننی لایشرکون بی شیئا ومن کفر بعد ذالک فاولئک ھم الفسقون “۔ (النور : ٥٥) 

ترجمہ : تم میں سے جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کیے ‘ ان سے اللہ نے وعدہ کیا ہے کہ وہ ان کو زمین میں ضرور بہ ضرور خلیفہ بنائے گا ‘ جس طرح ان سے پہلے لوگوں کو خلیفہ بنایا تھا اور ان کے لیے اس دین کو مضبوط کر دے گا جس کو ان کے لیے پسند فرما لیا ہے اور ان کی حالت خوف کو امن سے بدل دے گا۔ وہ میری عبادت کریں گے اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہیں کریں گے اور جس نے اس کے بعد ناشکری کی تو وہی لوگ فاسق ہیں۔ 

(آیت) ” الذین ان مکنھم فی الارض اقاموا الصلوۃ واتوا الزکوۃ وامروا بالمعروف وانھوا عن المنکر وللہ عاقبۃ الامور “۔ (الحج : ٤١) 

ترجمہ : جن لوگوں کو ہم زمین میں سلطنت عطا فرمائیں ‘ تو وہ نماز قائم کریں اور زکوۃ ادا کریں اور نیکی کا حکم دیں اور برائی سے روکیں اور سب کاموں کا انجام اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔ 

مسلمانوں کی آزمائش : 

اس کے بعد فرمایا تم میں سے بعض کو بعض پر کئی درجات بلندی عطا فرمائی تاکہ اس نے جو کچھ تمہیں عطا فرمایا ہے ‘ اس میں تمہاری آزمائش کرے ‘ یعنی عزت اور شرف ‘ عقل اور مال ‘ رزق اور شجاعت اور سخاوت میں اور تم میں یہ فرق مراتب اور تفاوت درجات اس وجہ سے نہیں ہے ‘ کہ اللہ تعالیٰ تم سب کو برابر کا درجہ دینے سے عاجز تھا ‘ بلکہ اس نے تمہیں آزمائش میں ڈالنے کے لیے تم کو ان مختلف درجات میں رکھا تاکہ دنیا والوں پر اور قیامت کے دن سب لوگوں کو معلوم ہو کہ مال اور رزق کی فروانی سے کون دولت کے نشہ میں اللہ تعالیٰ کے احکام کو بھلا بیٹھا اور عیش و عشرت میں پڑگیا اور نفسانی خواہشوں کی اتباع میں فواحش ومنکرات میں مبتلا ہوگیا اور کون ایسا ہے جو روپے پیسے کی ریل پیل کے باوجود خدا سے ڈرتا رہا ‘ اور اپنے مال کو اللہ کے احکام کی اطاعت اور خلق خدا کی خدمت میں صرف کرتا رہا ‘ اور اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لاتا رہا۔ اسی طرح کس نے اپنی صحت کو عبادت میں خرچ کیا اور کس نے عیاشی میں ضائع کیا اور کون غربت اور افلاس میں اللہ اور بندوں کے حقوق ادا کرتا رہا ؟ اور کون اللہ سے شکوہ اور شکایت کرتا رہا ؟ اور عبادت سے غافل رہا اسی اسی طرح کون بیماری میں عبادت کرتا رہا ؟ اور کون بیماری میں گلے شکوے کرتا رہا ؟ اور اللہ کی اطاعت سے گریزاں رہا۔ 

مسلمانوں کے گناہوں پر مواخذہ اور مغفرت کا بیان : 

پھر فرمایا ” بیشک آپ کا رب بہت جلد سزا دینے والا ہے اور بیشک وہ بہت بخشنے والا بےحد مہربان ہے “۔ 

یعنی اللہ تعالیٰ فساق وفجار کو بہت جلد سزا دینے والا ہے۔ اس پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تو فاسقوں کو ڈھیل دیتا ہے کہ وہ توبہ کرلیں ؟ اور عذاب بھی آخرت میں ہوگا پھر کس طرح فرمایا کہ وہ بہت جلد سزا دینے والا ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ہر وہ کام جو اللہ تعالیٰ کرنے والا ہے ‘ وہ اس کے اعتبار سے بہت قریب ہے اور بہت جلد ہونے والا ہے ‘ جیسا کہ قیامت کے متعلق فرمایا۔ 

(آیت) ” وما امر الساعۃ الا کلمح البصر او ھو “۔ (النحل : ٧٧) 

ترجمہ : اور قیامت محض پلک جھپکنے میں واقع ہوجائے گی ‘ بلکہ وہ اس سے بھی قریب تر ہے۔ 

(آیت) ” انھم یرونہ بعیدا، ونرہ قریبا “۔ (المعارج : ٧۔ ٦) 

ترجمہ : بیشک وہ یوم حشر کو بہت دور سمجھ رہے ہیں اور ہم اسے بہت قریب دیکھ رہے ہیں۔ 

نیز بعض اوقات اللہ تعالیٰ بعض مسلمانوں کی خطاؤں پر جلد ہی دنیا میں ہی گرفت فرما لیتا ہے اور ان کو کسی مصیبت یابیمار میں مبتلا کردیتا ہے جو ان کے گناہوں کا کفارہ ہوجاتی ہے : 

(آیت) ” وما اصابکم من مصیبۃ فبما کسبت ایدیکم ویعفوا عن کثیر “۔ (الشوری : ٣٠) 

ترجمہ : اور تم کو جو مصیبت پہنی تو وہ تمہارے کرتوتوں کے سبب تھی اور بہت سی خطاؤں کو تو وہ معاف فرما دیتا ہے۔ 

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مسلمان کو جو بھی تکلیف پہنچتی ہے ‘ خواہ کانٹا چبھے یا اس سے بھی کم ہو ‘ اللہ اس تکلیف کے سبب اس کا ایک درجہ بلند کرتا ہے ‘ یا اس کا ایک گناہ مٹا دیتا ہے۔ 

(صحیح مسلم ‘ البروالصلہ ‘ ٤٧‘ (٢٥٧٢) ٦٤٤٠‘ سنن الترمذی ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث : ٩٦٧ )

حضرت ابوہریرہ اور حضرت ابو سعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مسلمان کو جو بھی مصیبت پہنچتی ہے خواہ دائمی ہو ‘ خواہ تھکاوٹ ہو ‘ خواہ کوئی اور بیماری ہو ‘ خواہ غم ہو ‘ خواہ پریشانی ہو اللہ تعالیٰ اس مصیبت کو اس کے گناہوں کا کفارہ بنا دیتا ہے۔ 

(صحیح البخاری ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ٩٦٦‘ صحیح مسلم ‘ البر والصلہ ‘ ٥٢ ‘(٢٥٧٣) ٦٤٤٦‘ سنن الترمذی ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ٩٦٨) 

نیز فرمایا وہ بہت بخشنے والا بےحد مہربان ہے “ وہ گناہوں کو بخش دیتا ہے اور اپنے فضل و کرم اور رحمت سے دنیا میں گناہوں پر پردہ رکھتا ہے اور آخرت میں انواع و اقسام کی نعمتیں عطا فرماتا ہے۔ 

حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا قیامت کے دن مومن کو اس کے رب عزوجل کے قریب کیا جائے گا اللہ تعالیٰ اس کو اپنی رحمت کے بازو میں چھپالے گا۔ پھر اس سے اس کے گناہوں کا اقرار کرائے گا اور فرمائے گا ‘ کیا تم اس (گناہ) کو پہچانتے ہو ؟ وہ کہے گا : ہاں میرے رب میں پہچانتا ہوں اللہ تعالیٰ فرمائے گا میں دنیا میں تم پر پردہ رکھا تھا اور آج میں تمہیں بخش دیتا ہوں۔ پھر اس کو اس کی نیکیوں کا صحیفہ دے دیا جائے گا اور کفار و منافقین کو تمام مخلوقات کے سامنے بلایا جائے گا۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ پر جھوٹ باندھا تھا۔ 

(صحیح البخاری ‘ ج ٥‘ رقم الحدیث :‘ ٢٤٤١‘ صحیح مسلم ‘ التوبہ ‘ ٥٢ ‘(٢٧٦٨) ٦٨٨٢‘ سنن ابن ماجہ ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ١٨٣‘ السنن الکبری للنسائی ‘ ج ٦‘ رقم الحدیث :‘ ١١٢٤٢ )

حرف آخر :

آج ١٥ رجب ١٤١٨ ھ۔ ١٦ نومبر ١٩٩٦ ء بروز اتوار بعد از نماز ظہر کو سورة الانعام کی تفسیر کو میں اس حدیث پر ختم کر رہا ہوں اور اس حدیث کے مطابق اللہ تعالیٰ سے امید رکھتا ہوں کہ وہ میری لغزشوں پر پردہ رکھے گا اور آخرت میں میرے تمام گناہوں کو بخش دے گا۔ ختم ہوگئی ” 

الہ العالمین ! جس طرح آپ نے مجھے سورة الانعام تک تفسیر لکھنے کی سعادت بخشی ہے ‘ اپنے فضل و کرم سے مجھے باقی قرآن مجید کی تفسیر لکھنے کی بھی عزت عطا فرما ‘ مجھ پر قرآن مجید کے اسرار و معارف کھول دے اور احادیث میں مجھے وسیع نظر عطا فرما ‘ مجھے اس تفسیر میں خطا اور لغزشوں سے بچا اور باقی ماندہ زندگی میں نیکی عطا فرما اور گناہوں سے محفوظ رکھ ‘ اور محض اپنے فضل و کرم سے مجھے دنیا اور آخرت میں ہر پریشانی ‘ مصیبت اور عذاب سے محفوظ رکھ اور دارین کی خوشیاں عطا فرما۔ اس تفسیر کو موثر اور مفید بنا اور اس کو تاقیام قیامت فیض آفرین اور باقی رکھ ‘ اس کے مصنف ‘ مصحح ‘ کمپوزر ‘ ناشر ‘ قارئین ‘ محبین اور معاونین کو دنیا اور آخرت کی ہر بلا اور ہر عذاب سے بچا اور دارین کا کامیابیاں اور کامرانیاں ان کا مقدر کر دے۔ آمین یا رب العالمین۔ 

واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العلمین والصلوۃ والسلام علی سیدنا محمد خاتم النبیین قائد المرسلین شفیع المذنبین وعلی الہ الطیبین الطاھرین و اصحابہ الکاملین الراشدین وازواجہ امھات المومنین وعلی اولیاء امتہ و علماء ملتہ من المفسرین والمحدثین والمجتھدین الراسخین اجمعین الی یوم الدین :

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 6 الأنعام آیت نمبر 165