أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

الۤمّۤصۤ ۞

ترجمہ:

ا ل م ص

تفسیر:

المص کی تحقیق : اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : الف لام میم صاد (الاعراف :1) ۔ اللہ تعالیٰ نے اس سورت کو بھی ان حروف مقطعات سے شروع فرمایا تاکہ ایک بار پھر یہ تنبیہ ہو کہ قرآن مجید مجز کلام ہے اور اس چیلنج کی طرف پھر اشارہ ہو کہ کوئی جن اور انسان قرآن مجید کی چھوٹی سے چھوٹی سورت کی مثل بھی نہیں لاسکتا اور یہ صف اللہ تعالیٰ کا کلام ہے کیونکہ یہ قرآن عربوں کی لغت اور ان کے حروف تہجی مثلا الف، لام، میم، صاد وغیرہ سے مرکب ہے۔ اگر منکرین کے زعم کے مطابق یہ کسی انسان کا کلام ہے تو ان ہی حروف سے مرکب کر کے وہ بھی قرآن مجید کی کسی ایک سورت کی مثل بنا کرلے آئیں کیونکہ یہ کلام ان حروف ھجاء سے مرکب ہے جن سے تمام اہل عرب اپنے کلام کو مرکب کرتے ہیں اور جب باوجود شدید مخالفت اور علوم و معارف کی روز افزوں ترقی کے چودہ صدیاں گزرنے کے بعد بھی کوئی منکر اس کلام کی نظیر نہ لاسکا تو روز روشن کی طرح واضح ہوگیا کہ یہ قرآن کسی انسان کا کلام نہیں ہے، اللہ تعالیٰ کا کلام ہے۔

امام فخر الدین محمد بن ضیاء الدین عمر رازی متوفی 606 ھ لکھتے ہیں : حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ المص کا معنی ہے انا اللہ افصل (میں اللہ، تفصیل کرتا ہوں) امام رازی نے اس سے اختلاف کیا ہے اور کہا ہے کہ ان حروف کی رعایت سے اس کا معنی انا اللہ اصلح (میں اللہ اصلاح کرتا ہوں) بھی ہوسکتا ہے اور اول الذکر کی ثانی الذکر پر ترجیح کی کوئی دلیل نہیں ہے اور میم کی رعایت سے انا اللہ الملک (میں اللہ بادشاہ ہوں) بھی ہوسکتا ہے اس لیے ان حروف کو اول الذکر معنی پر محمول کرنا ترجیح بلا مرجح اور بلا دلیل ہے بعض علماء نے یہ کہا ہے کہ المص اللہ تعالیٰ کا اسم ہے، لیکن یہ بھی بلا دلیل ہے کیونکہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ المص کسی نبی کا نام ہو یا کسی فرشتے کا نام ہو بلکہ تحقیق یہ ہے کہ المص اس سورت کا اسم لقب ہے اور یہ اس سورت کا اسم بھی ہوسکتا ہے۔ (تفسیر کبیر ج 5 ص 194، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی، بیروت، 1415 ھ)

زیادہ صحیح یہ ہے کہ حروف مقطعات اوائل سورة کے اسرار ہیں اللہ تعالیٰ نے اس راز سے صرف نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مطلع فرمایا ہے اور نبی کے وسیلہ اور فیض سے اللہ تعالیٰ نے اولیاء عارفین اور علماء کاملین میں سے جن کو چاہا، ان اسرار سے مطلع فرمایا ان حروف کی زیادہ تحقیق اور وضاحت ہم نے البقرہ میں کردی ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 7 الأعراف آیت نمبر 1