أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَمَا كَانَ دَعۡوٰٮهُمۡ اِذۡ جَآءَهُمۡ بَاۡسُنَاۤ اِلَّاۤ اَنۡ قَالُوۡۤا اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِيۡنَ ۞

ترجمہ:

جب ان پر ہمارا عذاب آیا تو اس وقت ان کی یہی چیخ و پکار تھی کہ بیشک ہم ہی ظالم تھے

تفسیر:

نزول عذاب کے وقت معذبین کا اعتراف جرم : آیت 5 میں فرمایا ہے، جب ان پر ہمارا عذاب آیا تو اس وقت ان کی یہی چیخ و پکار تھی کہ ہم ظالم تھے اس آیت سے معلوم ہوا کہ جب کفار پر عذاب نازل ہوتا ہے تو اس وقت وہ اعتراف کرلیتے ہیں کہ درحقیقت وہی ظالم اور مجرم تھے اور اس عذاب کے مستحق تھے۔ امام ابو جعفر محمد بن جریر طبری متوفی 310 ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کوئی قوم اس وقت تک عذاب سے ہلاک نہیں ہوئی جب تک کے انہوں نے خود اس عذاب کا عذر بیان نہیں کیا۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے عبدالملک سے پوچھا یہ کس طرح ہوسکتا ہے تو انہوں نے یہ آیت پڑھی : جب ان پر ہمارا عذاب آیا تو اس وقت ان کی یہی چیخ و پکار تھی کہ بیشک ہم ہی ظالم تھے۔ (الاعراف :5) ۔ (جامع البیان ج 8 ص 158 ۔ دار الفکر، تفسیر امام ابن ابی حاتم ج 5 ص 1439، 1438، مکتبہ نزار مصطفیٰ الباز)

ان آیتوں سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نافرمانی اور آپ کی مخالفت کرنا دنیا میں رسوائی اور آخرت میں عذاب کا سبب ہے۔ جب ایسے لوگ غفلت اور لہو ولعب میں مشغول ہوتے ہیں تو ان پر اچانک عذاب آجاتا ہے۔ ہر سرکش مجرم پر جب دنیا میں عذاب آتا ہے تو وہ اپنے جرم کا اعتراف کرلیتا ہے اور اس پر نادم ہوتا ہے۔ گزشتہ امتوں کی نافرمانی اور ان پر اچانک عذاب کے نزول کے واقعات کو بیان کرکے اس امت کو تنبیہ کرنا مقصود ہے۔ تاکہ وہ اپنے گناہوں سے باز آجائیں اور اپنی اصلاح کرلیں اور اس سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ کفار پر عذاب نازل کرنا اللہ تعالیٰ کا عین عدل ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 7 الأعراف آیت نمبر 5