نبی پاک ﷺ کے زمانے میں کسی کو شراب نوشی کی وجہ سے سزا دی جاتی تھی ، ایک دفعہ جب سزا کے لیے لایا گیا تو ایک صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہنےلگے:

اے اللہ ! اس پہ لعنت فرما ، اسے کتنی بار ( سزا کے لیے ) لایا گیا ہے ( یہ پھر بھی باز نہیں آتا ) ۔

اِس پر آپ ﷺ نے فرمایا:

لَا تَلْعَنُوهُ ، فَوَاللہِ مَاعَلِمْتُ إِنَّهُ يُحِبُّ اللہَ وَرَسُولَهُ ۔

اس پر لعنت نہ کرو ، اللہ کی قسم! میں جانتا ہوں کہ یہ بندہ اللہ و رسول سے محبت کرتا ہے ۔

(انظر: صحیح البخاری ، رقم 6780 )

غور کریں!

بار بار کبیرہ گناہ کے مرتکب پر بھی رسول پاک ﷺ کو لعنت کرنا ناگوار گزرا ، کیوں ؟؟

اس لیے کہ اُس کے دل میں رسول پاک کی محبت تھی !!

تو اُس صحابی پر لعن طعن کرنے سے سرکار ﷺکو کتنی تکلیف ہوتی ہوگی ، جس نے محبتِ رسول میں بہ وقتِ وصال بھی یہی کہا تھا:

” مجھے اُس قمیص میں کفنانا جسے رسول پاک کے ہاتھ لگے ہیں ، اور میرے منھ اور آنکھوں پر میرے نبی کے ناخن رکھ دینا ۔ “

✍لقمان شاہد

13/10/19ء