أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَكَمۡ مِّنۡ قَرۡيَةٍ اَهۡلَـكۡنٰهَا فَجَآءَهَا بَاۡسُنَا بَيَاتًا اَوۡ هُمۡ قَآئِلُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور ہم نے کتنی ہی بستیوں کو ہلاک کردیا، پس ان پر ہمارا عذاب (اچانک) رات کے وقت آیا یا جس وقت وہ دوپہر کو سو رہے تھے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور ہم نے کتنی ہی بستیوں کو ہلاک کردیا، پس ان پر ہمارا عذاب (اچانک) رات کے وقت آیا یا جس وقت وہ دوپہر کو سو رہے تھے۔

مشکل الفاظ کے معانی اور آیات سابقہ سے مناسبت : ” باس ” علامہ محمد طاہر پٹنی متوفی 986 ھ نے لکھا ہے کہ باس کا معنی ہے خوف شدید اور جنگ میں شدت۔ (مجمع بحار الانوار، ج 1 ص 144 ۔ 145، مطبوعہ مکتبہ دار الامان المدینہ المنورہ، 1415 ھ) اور سب سے زیادہ خوف نزول عذاب کے وقت ہوگا۔ اور علامہ راغب اصفہانی متوفی 502 ھ نے لکھا ہے کہ باس کا معنی عذاب بھی ہے جیسا کہ قرآن مجید میں ہے ” واللہ اشد باسا و اشد تنکیلا : اور اللہ کی گرفت بہت مضبوط ہے اور اللہ کا عذاب بہت سخت ہے ” (النساء :84) ۔ (المفردات ص 66 مطبوعدہ مکتبہ مرتضویہ 1362 ھ)

بیاتا او ھم قائلون : بیت کے معنی ہیں رات کا وقت اور قیلولہ کا معنی ہے دوپہر کا وقت۔ حدیث میں ہے انہ کان لایبیت مالا ولا یقبلہ۔ یعنی جب آپ کے پاس مال آتا تو آپ اس کو رات تک روکتے نہ دوپہر تک۔ اگر صبح مال آتا تو دوپہر سے پہلے اس کو تقسیم کردیتے اور اگر دوپہر کے بعد مال آتا تو اس کو رات آنے سے پہلے تقسیم کردیتے۔ (الفائق ج 1 ص 127 طبع بیروت، النہایہ ج 1 ص 170، طبع ایران، مجمع بحار الانوار، طبع مدینہ منورہ)

اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو احکام شرعیہ کی تبلیغ کرنے اور عذاب الٰہی سے ڈرانے کا حکم دیا تھا اور لوگوں کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے احکام کو قبول کرنے اور آپ کی پیروی کرنے کا حکم دیا تھا اور اس آیت میں ان کو وعید سنائی ہے کہ پچھلی امتوں میں سے جن لوگوں نے اپنے رسولوں کی تکذیب کی اور ان کے پیغام کو قبول نہیں کیا ان پر اچانک اللہ کا عذاب آگیا بعض پر رات کے وقت اور بعض پر دوپہر کو آرام کے وقت میں۔ 

ایک اشکال کا جواب : اس آیت میں فرمایا ہے اور ہم نے کتنی ہی بستیوں کو ہلاک کردیا پس ان پر ہمارا عذاب (اچانک) رات کے وقت آیا یا جس وقت وہ دوپہر کو سو رہے تھے، اس پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ اس آیت کا بظاہر معنی یہ ہے کہ پہلے ان بستیوں کو ہلاک کردیا اور پھر ان پر عذاب آیا۔ حالانکہ ان پر عذاب نازل کرنا ہی ان کی ہلاکت تھی۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہاں عبارت میں ایک لفظ محذوف ہے اور مراد یہ ہے کہ ہم نے کتنی ہی بستیوں کو ہلاک کرنے کا حکم دیا یا ان کو ہلاک کرنے کا ارادہ کیا۔ پس ان پر ہمارا عذاب آیا۔ اس کی نظیر یہ آیت ہے : ” یا ایہا الذین امنوا اذا قمتم الی الصلوۃ فاغسلوا وجوھکم و ایدیکم الی المرافق : اے ایمان والو جب نماز کے لیے کھڑے ہو تو اپنے چہروں کو اور اپنے ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھو لو ” (المائدہ :6) ۔ 

حالانکہ چہروں اور ہاتھوں کو نماز کے لیے قیامت کے وقت نہیں اس سے پہلے دھویا جاتا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہاں بھی ایک لفظ محذوف ہے اور مراد یہ ہے کہ اے ایمان والو ! جب تم نماز کے لیے کھڑے ہونے کا ارادہ کرو تو اپنے چہروں کو اور کہنیوں سمیت اپنے ہاتھوں کو دھو لو۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 7 الأعراف آیت نمبر 4