وَ اِذْ قَالَ اللّٰهُ یٰعِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ ءَاَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُوْنِیْ وَ اُمِّیَ اِلٰهَیْنِ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِؕ-قَالَ سُبْحٰنَكَ مَا یَكُوْنُ لِیْۤ اَنْ اَقُوْلَ مَا لَیْسَ لِیْۗ-بِحَقٍّ ﳳ-اِنْ كُنْتُ قُلْتُهٗ فَقَدْ عَلِمْتَهٗؕ-تَعْلَمُ مَا فِیْ نَفْسِیْ وَ لَاۤ اَعْلَمُ مَا فِیْ نَفْسِكَؕ-اِنَّكَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ(۱۱۶)

اور جب اللہ فرمائے گا (ف۲۸۷) اے مریم کے بیٹے عیسٰی کیا تو نے لوگوں سے کہہ دیا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو دو خدا بنالو اللہ کے سوا (ف۲۸۸) عرض کرے گا پاکی ہے تجھے (ف۲۸۹) مجھے رَوا نہیں کہ وہ بات کہوں جو مجھے نہیں پہونچتی (ف۲۹۰) اگر میں نے ایسا کہا ہو تو ضرور تجھے معلوم ہوگا تو جانتا ہے جو میرے جی میں ہے اور میں نہیں جانتا جو تیرے علم میں ہے بے شک تو ہی ہے سب غیبوں کا خوب جاننے والا (ف۲۹۱)

(ف287)

روزِ قیامت عیسائیوں کی توبیخ کے لئے ۔

(ف288)

اس خِطاب کو سن کر حضرت عیسٰی علیہ السلام کانپ جائیں گے اور ۔

(ف289)

جملہ نقائص و عیوب سے اور اس سے کہ کوئی تیرا شریک ہو سکے ۔

(ف290)

یعنی جب کوئی تیرا شریک نہیں ہو سکتا تو میں یہ لوگوں سے کیسے کہہ سکتا تھا ۔

(ف291)

علم کو اللہ تعالٰی کی طرف نسبت کرنا اور معاملہ اس کو تفویض کر دینا اور عظمتِ الٰہی کے سامنے اپنی مسکینی کا اظہار کرنا یہ حضرت عیسٰی علیہ السلام کی شانِ ادب ہے ۔

مَا قُلْتُ لَهُمْ اِلَّا مَاۤ اَمَرْتَنِیْ بِهٖۤ اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبَّكُمْۚ-وَ كُنْتُ عَلَیْهِمْ شَهِیْدًا مَّا دُمْتُ فِیْهِمْۚ-فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ كُنْتَ اَنْتَ الرَّقِیْبَ عَلَیْهِمْؕ-وَ اَنْتَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ(۱۱۷)

میں نے تو ان سے نہ کہا مگر وہی جو مجھے تو نے حکم دیا تھا کہ اللہ کو پوجو جو میرا بھی رب اور تمہارا بھی رب اور میں ان پر مطلع تھا جب تک میں ان میں رہا پھر جب تو نے مجھے اٹھالیا (ف۲۹۲) تو تُو ہی ان پر نگاہ رکھتا تھا اور ہر چیز تیرے سامنے حاضر ہے(ف۲۹۳)

(ف292)

” تَوَفَّیۡتَنِیۡ ” کے لفظ سے حضرت عیسٰی علیہ السلام کی موت پر دلیل لانا صحیح نہیں کیونکہ اول تو لفظ تَوَفّٰی موت کے لیے خاص نہیں ، کسی شے کے پورے طور پر لینے کو کہتے ہیں خواہ وہ بغیر موت کے ہو جیسا کہ قرآنِ کریم میں ارشاد ہوا ” اَللہُ یَتَوَفَّی الۡاَ نۡفُسَ حِیۡنَ مَوۡ تِھَا وَالَّتِیۡ لَمۡ تَمُتۡ فِیۡ مَنَامِھَا ” (رکوع ۲) دوم جب یہ سوال و جواب روزِ قیامت کا ہے تو اگر لفظ (تَوَفّی ) موت کے معنی میں بھی فرض کر لیا جائے جب بھی حضرت عیسٰی علیہ الصلٰوۃ و السلام کی موت قبلِ نُزول اس سے ثابت نہ ہو سکے گی ۔

(ف293)

اور میرا ان کا کسی کا حال تجھ سے پوشیدہ نہیں ۔

اِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَاِنَّهُمْ عِبَادُكَۚ-وَ اِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَاِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ(۱۱۸)

اگر تو انہیں عذاب کرے تو وہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو انہیں بخش دے تو بے شک تو ہی ہے غالب حکمت والا(ف۲۹۴)

(ف294)

حضرت عیسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کو معلوم ہے کہ قوم میں بعض لوگ کُفر پر مُصِر رہے ۔ بعض شرفِ ایمان سے مشّرف ہوئے ، اس لئے آپ کی بارگاہِ الٰہی میں یہ عرض ہے کہ ان میں سے جو کُفرپر قائم رہے ان پر تو عذاب فرمائے تو بالکل حق و بجا اور عدل و انصاف ہے کیونکہ انہوں نے حُجّت تمام ہونے کے بعد کُفر اختیار کیا اور جو ایمان لائے انہیں تو بخشے تو تیرا فضل وکرم ہے اور تیرا ہر کام حکمت ہے ۔

قَالَ اللّٰهُ هٰذَا یَوْمُ یَنْفَعُ الصّٰدِقِیْنَ صِدْقُهُمْؕ-لَهُمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًاؕ-رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُؕ-ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ(۱۱۹)

اللہ نے فرمایا کہ یہ (ف۲۹۵) ہے وہ دن جس میں سچوں کو (ف۲۹۶) ان کا سچ کام آئے گا ان کےلیے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں رواں ہمیشہ ہمیشہ ان میں رہیں گے اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی یہ ہے بڑی کامیابی

(ف295)

روزِ قیامت ۔

(ف296)

جو دنیا میں سچائی پر رہے جیسے کہ حضرت عیسٰی علیہ السلام ۔

لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا فِیْهِنَّؕ-وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۠(۱۲۰)

اللہ ہی کے لیے ہے آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے سب کی سلطنت اور وہ ہر چیز پر قادر ہے (ف۲۹۷)

(ف297)

صادق کو ثواب دینے پر بھی اور کاذب کو عذاب فرمانے پربھی ۔

مسئلہ : قدرت ممکنات سے متعلق ہوتی ہے نہ کہ واجبات و محالات سے تو معنٰی آیت کے یہ ہیں کہ اللہ تعالٰی ہر امرِ ممکن الوجود پر قادر ہے ۔ (جمل)

مسئلہ : کذب وغیرہ عیوب و قبائح اللہ سُبحانہ تبارک و تعالٰی کے لئے محال ہیں ، ان کو تحتِ قدرت بتانا اور اس آیت سے سند لانا غلط و باطل ہے ۔