حکایت نمبر244: خوبصورت دُولہا اور بدصورت دُلہن

حضرتِ سیِّدُنا محمد بن نُعَیْم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اپنی والدہ کے حوالے سے فرماتے ہیں کہ ”میں نے حضرتِ سیِّدُنا ابوعثمان حِیْرِی علیہ رحمۃ اللہ القوی کی زوجۂ محترمہ حضرتِ سیِّدَتُنا مریم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہا کو یہ کہتے ہوئے سنا:” ایک مرتبہ مجھے میرے سرتاج حضرتِ سیِّدی ابوعثمان حِیْرِی علیہ رحمۃ اللہ القوی کے ساتھ تنہائی میسر آئی تو میں نے موقع غنیمت جان کر پوچھا :اے ابو عثمان! اپنی زندگی کا کون سا عمل ا ۤپ کو سب سے زیادہ پیارا اورمحبوب ہے؟فرمایا:” اے مریم! جب میں عالَمِ شباب میں تھا تو اس وقت میری رہائش ”رَے” میں تھی۔ لوگ مجھے بہت پسند کرتے۔ سب کی خواہش تھی کہ میری شادی ان کے گھر ہوجائے لیکن میں سب کو انکار کرديتا۔ایک دن ایک عورت میرے پاس آئی اور یوں گویا ہوئی: ”میں تیری محبت میں بہت زیادہ بے قرار ہوگئی ہوں، میری رات کی نیندیں اور دن کا چین برباد ہوگیاہے، میں تجھے اس کا واسطہ دے کر التجا کرتی ہوں جو دلوں کو پھیرنے والا ہے کہ تو مجھ سے شادی کر لے۔”

اس کے یہ جذبات دیکھ کر میں نے پوچھا:”کیا تمہارا باپ زندہ ہے ؟”اس نے کہا:” جی ہاں ،میرا باپ درزی ہے اورفلاں محلے میں رہتاہے ۔میں نے اس کے والد کو نکاح کا پیغام بھجوایا تو وہ بہت خوش ہوا،اس نے فوراً گاؤں کے معزز لوگوں کو بلاکر میرا نکاح اپنی بیٹی سے کردیا۔جب میں حجرۂ عروسی میں داخل ہوا تو دیکھا کہ میری نئی نویلی دلہن ایک آنکھ سے محروم، پاؤں سے لنگڑی اورانتہائی بدشکل تھی ،اسے دیکھ کر میں نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کا شکر اداکرتے ہوئے کہا:” اے میرے پرورد گار عَزَّوَجَلَّ ! تمام تعریفیں تیرے ہی لئے ہیں تونے جو میرا مقدر بنایا میں اس پر تیرا شکر گزار ہوں ۔” پھرجب میرے گھر والوں کو میری زوجہ کی کیفیت معلوم ہوئی تو مجھے برا بھلا کہا اور خوب ڈانٹا ۔ لیکن میں نے اپنی زوجہ سے کبھی کوئی ایسی بات نہ کی جو اسے بری لگتی بلکہ میں اس پر بہت زیادہ مہربان ہوگیا اوراسے ضرورت کی ہر شئے مہیا کرتا۔

میری محبت وشفقت کی وجہ سے اس کی یہ حالت ہوگئی کہ لمحہ بھر کے لئے بھی مجھ سے جدائی برداشت نہ کرتی۔ چنانچہ، اپنی اس مجبوروبے کس،محبت کی پیاسی اور معذور بیوی کی خاطر میں نے دوستوں کی محفل میں جانا چھوڑدیا اورزیادہ وقت اسی کے پاس گزارنے لگا،تاکہ اس بیچاری کا دل خوش رہے اور یہ احساسِ کمتری کا شکار نہ ہو۔ اور اس طرح میں نے اپنی زندگی کے پندرہ سال اپنی اس معذور بیوی کے ساتھ گزار دئیے ۔ بعض اوقات مجھے اتنی تکلیف ہوتی جیسے مجھے سُلگتے اَنگاروں پر ڈال دیا گیا ہو لیکن میں نے کبھی بھی اس کیفیت کا اظہار اس پر نہ کیا۔ یہاں تک کہ پندرہ سال بعد وہ اس دارِ فانی سے رخصت ہوگئی ۔ میری اس معذور بیوی کو مجھ سے جو محبت تھی اسے نبھانے اوراس کو ہر طرح سے خوش رکھنے کی خاطرمیں نے جو عمل کیا وہ مجھے سب سے زیادہ محبوب ہے۔

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ علیہ وسلَّم)