دو عبادتیں دو صِلے

اللہ تعالی نے انسان پر دو طرح عبادتیں فرض کی ہیں…….

ایک قِسم کی عبادت ہے….

نماز، روزہ، حج، زکوۃ،

جس کا ظاہری نفع سوائے انسان کی اپنی ذات کے کسی دوسرے کو نہیں ملتا، ہاں کل بروز حشر اللہ تعالی کسی کو اذنِ شفاعت عطا کر دے تو وہ اس کی رحمت ہے…..

عبادت کی پہلی قسم کا تعلق انسان کی اپنی ذات سے ہے، معاشرے کو اس سے غرض نہیں اور نہ نماز، روزہ، کا کسی دوسرے کے لیے ظاہری نفع…………

اور دوسری عبادت کی قِسم ہے….

سچ بولنا، حق بات کہنا، مظلوم کا ساتھ دینا، رزق حلال کمانا، وغیرہ وغیرہ

جھوٹ نہ بولنا، کسی کا حق نہ کھانا، ظلم نہ کرنا، رشوت نہ لینا، وغیرہ وغیرہ

یہ معاشرتی عبادت ہے، معاشرے میں جب بھی سدھار آئے گا عبادت کی اِس دوسری قسم سے آئے گا…

لیکن لوگ پہلی قسم والے کو مومن تصور کرتے ہیں………

مگر عبادت کی وہ قسم کی جس کا تعلق معاشرے سے ہے اس کو سرے سے بھولے ہوئے ہیں جب تک معاشرتی عبادت کو اختیار نہیں کیا جاتا، نمازوں سے تبدیلی نہیں آئے گی…….

____________________________________

تحریر :- محمد یعقوب نقشبندی اٹلی