أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَلَنَسۡـئَــلَنَّ الَّذِيۡنَ اُرۡسِلَ اِلَيۡهِمۡ وَلَـنَسۡئَـــلَنَّ الۡمُرۡسَلِيۡنَ ۞

ترجمہ:

پس ہم ان لوگوں سے ضرور باز پرس کریں گے جن کی طرف رسول بھیجے گئے تھے اور ہم رسولوں سے ہی ضرور پوچھیں گے

تفسیر:

تفسیر آیت 5 ۔ 6:۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ” پس ہم ان لوگوں سے ضرور باز پرس کریں گے جن کی طرف رسول بھیجے گئے تھے اور ہم رسولوں سے ہی ضرور پوچھیں گے۔ پھر ہم خود کامل علم کے ساتھ ان کے تمام احوال بیان کریں گے، ہم غائب تو نہیں تھے “

قیامت کے دن رسولوں اور ان کی امتوں سے سوالات : اس سے پہلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے بتایا تھا کہ رسولوں کی مخالفت کرنے کی وجہ سے دنیا میں اچانک عذاب آجاتا ہے۔ اب اس آیت میں فرمایا ہے کہ ان سے ان کی بد اعمالیوں پر مواخذہ ہوگا۔ اور آخرت میں اللہ تعالیٰ ہر شخص سے سوال کرے گا خواہ وہ نیک ہو یا بد۔ اللہ تعالیٰ امتوں سے ان کے اعمال کے متعلق سوال کرے گا اور یہ کہ ان کی طرف جو رسول بھیجے گئے تھے، انہوں نے ان کو تبلیغ فرمائی تھی یا نہیں اور انہوں نے رسولوں کی تبلیغ کا کیا جواب دیا تھا۔ اور رسولوں سے بھی ان کی تبلیغ کے متعلق سوال کرے گا اور یہ کہ ان کی امتوں نے ان کی تبلیغ کا کیا جواب دیا تھا انجام کار ان کی امت ایمان لائی یا نہیں ! اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی دیگر آیات میں بھی اس مضمون کو بیان فرمایا ہے : ” ویوم ینادیہم فیقول ما ذا اجبتم المرسلین : اور جس دن اللہ ان کو ندا فرما کر ارشاد فرمائے گا تم نے رسولوں کو کیا جواب دیا ؟ ” (القصص :65) ۔ ” فوربک لنسئلنہم اجمعین۔ عما کانوا یعملوان : سو آپ کے رب کی قسم ہم ان سب سے ضرور سوال کریں گے۔ ان تمام کاموں کے متعلق جو وہ کرتے تھے ” (النحل :92 ۔ 93) ۔ ان آیتوں میں امتوں سے سوال کے متعلق ارشاد ہے۔ اور رسولوں سے سوال کا ذکر اس آیت میں ہے : ” یوم یجمع اللہ الرسل فیقول ماذا اجبتم قالوا لا علم لنا انک انت علام الغیوب : جس دن اللہ رسولوں کو جمع فرمائے گا، پھر فرمائے گا تم کو کیا جواب دیا گیا ؟ وہ کہیں گے ہم کو کچھ علم نہیں، بیشک تو ہی سب غیبوں کا جاننے والا ہے ” (المائدہ :109) ۔ 

اور اس حدیث میں بھی رسولوں سے سوال کے متعلق اشارہ ہے : امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی 256 ھ روایت کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم میں سے ہر شخص محافظ اور مصلح ہے اور تم میں سے ہر شخص سے اس کے ماتحت لوگوں کے متعلق سوال ہوگا۔ امام محافظ اور مصلح ہے اور اس سے اس کی رعایا (عوام) کے متعلق سوال ہوگا۔ ایک شخص اپنے اھل کا محافظ اور مصلح ہے اور اس سے اس کے اھل کے متعلق سوال ہوگا۔ اور عورت اپنے خاوند کے گھر کی محافظہ اور مصلحہ ہے اور اس سے اس گھر کی حفاظت اور اصلاح کے متعلق سوال ہوگا۔ خادم اپنے مالک کے مال کا محافظ ہے اور اس سے اس کے مال کے متعلق سوال ہوگا اور ایک شکص اپنے باپ کے مال کا محافظ اور مصلح ہے اور اس سے اس مال کے متعلق سوال ہوگا۔ اور تم میں سے ہر شخص محافظ اور مصلح اور اس سے اپنے زیر انتظام اور زیر حفاظت چیزوں اور لوگوں کے متعلق سوال ہوگا۔ (صحیح البخاری، ج 1 رقم الحدیث 893، ج 3 رقم الحدیث : 2558 ۔ 2751 ج 5، رقم الحدیث 5188 ۔ 51200 ج 7 رقم الحدیث 7138، صحیح مسلم الامارۃ :20 (829) 4643 ۔ سنن الترمزی، ج 3، رقم الحدیث :1711 ۔ سنن ابوداود، ج 3، رقم الحدیث : 2928، مسند احمد، ج 2 ص 111 طبع قدیم)

امام ابوجعفر محمد بن جریر طبری متوفی 310 ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں : حضرت ابن عباس (رض) نے اس آیت (الاعراف :6) کی تفسیر میں فرمایا : اللہ تعالیٰ لوگوں سے سوال کرے گا کہ انہوں نے رسولوں کو کیا جواب دیا اور رسولوں سے ان کی، کی ہوئی تبلیغ کے متعلق سوال کرے گا۔ (جامع البیان، جز 8، ص 159، مطبوعہ دار الفکر، بیروت، 1415 ھ) ۔

امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمزی متوفی 279 ھ روایت کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کوئی ابن آدم اس وقت تک اپنے رب کے سامنے سے قدم نہیں ہٹا سکے گا جب تک اللہ تعالیٰ اس سے پانچ چیزوں کے متعلق سوال نہ کرے۔ اس نے اپنی عمر کن کاموں میں فنا کی، اس نے اپنی جوانی کن کاموں میں گزاری، اس نے اپنا مال کہاں سے حاصل کیا اور کن کاموں میں خرچ کیا اور اس نے جو علم حاصل کیا تھا، اس کے مطابق کیا عمل کیا ؟ (سنن الترمذی، (سنن الترمذی، ج 4، رقم الحدیث 2424، مطبوعہ دار الفکر، بیروت، 1414 ھ)

قیامت کے دن مجرموں سے سوال کرنے اور سوال نہ کرنے کے محامل : ان آیات سے یہ معلوم ہوا کہ فار سے ان کے اعمال کے متعلق سوال کیا جائے گا لیکن قرآن مجید کی بعض آیتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ کفار سے سوال نہیں کیا جائے گا : ” فیومئذ لایسئل عن ذنبہ انس ولا جان : سو اس دن کسی گنہ گار کے گناہوں کے متعلق کسی انسان اور جن سے سوال نہیں کیا جائے گا ” (الرحمن :39) ۔ ” ولایسئل عن ذنوبہم المجرمون : اور مجرموں سے ان کے گناہوں کے متعلق سوال نہیں کیا جائے گا ” (القصص :78) ۔

امام رازی نے اس سوال کے متعدد جوابات دیے ہیں۔

1 ۔ لوگوں سے ان کے اعمال کے متعلق سوال نہیں کیا جائے گا۔ کیونکہ کراماً کاتبین نے ان کے تمام اعمال لکھے ہوئے ہیں اور وہ ان کے صحائف اعمال میں محفوظ ہیں لیکن ان سے یہ سوال کیا جائے گا کہ ان کے ان اعمال کا داعیہ، باعثہ اور محرک کیا تھا، جس کی وجہ سے انہوں نے اعمال کیے۔ 

2 ۔ کبھی سوال لا علمی کی بنا پر علم کے حصول کے لیے کیا جاتا ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی جناب میں محال ہے اور کبھی سوال زجر و توبیخ اور ڈانٹ ڈپٹ کے لیے کیا جاتا ہے جیسے کوئی شخص کہے میں نے تم پر اتنے احسانات کیے تھے پھر تم نے میرے ساتھ یہ دغابازی اور فراڈ کیوں کیا ؟ جیسے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : ” الم نجعل لہ عینین۔ ولسانا و شفتین۔ وھدیناہ النجدین۔ فلا اقتحم العقبۃ : کیا ہم نے انسان کی دو آنکھیں نہیں بنائیں۔ اور زبان اور دو ہونٹ۔ اور ہم نے اس کو (نیکی اور بدی کے) دونوں واضح راستے دکھا دیے۔ تو وہ (نیک عمل کی) دشوار گھاٹی میں سے کیوں نہیں گزرا ” (البلد :8 ۔ 11) ۔ 

اور ان آیتوں میں سوال کرنے کا یہی معنی مراد ہے 

3 ۔ قیامت کا دن بہت طویل ہوگا اور اس میں بندوں کے مختلف احوال اور معاملات ہوں گے۔ کسی وقت میں اللہ تعالیٰ سوال نہیں فرمائے گا اور کسی دوسرے وقت میں سوال فرمائے جیسے کسی وقت میں شفاعت نہیں ہوگی اور کسی وقت میں شفاعت ہوگی۔ اور کسی وقت میں اللہ تعالیٰ کا دیدار نہیں ہوگا اور کسی وقت میں اس کا دیدار ہوگا۔ 

اس آیت کے آخر میں فرمایا ہے : ” ہم غائب تو نہ تھے ” یعنی ہم ان کے کاموں کو دیکھ رہے ہیں، ان کی باتوں کو سن رہے ہیں اور ہم کو معلوم ہے کہ وہ کیا چھپاتے ہیں اور کیا ظاہر کرتے ہیں اور ہم قیامت کے دن ان کے تمام کاموں کی خبر دیں گے، خواہ وہ کام کم ہوں یا زیادہ۔ وہ معمولی ہوں یا غیر معمولی۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ” وما تسقط من ورقۃ الا یعلمہا ولا حبۃ فی ظلمت الارض ولا رطب ولا یابس الا فی کتب مبین : اور کوئی پتا نہیں گرتا مگر وہ اس کو جانتا ہے اور نہ کوئی دانہ زمین کی تاریکیوں میں ہوتا ہے اور نہ کوئی خشک و تر مگر وہ روشن کتاب میں مرقوم ہے ” (الانعام :59)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 7 الأعراف آیت نمبر 6