بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ﴿﴾

اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا (ف۱)

(ف1)

سورۂ اَنعام مکی ہے ، اس میں بیس رکوع اور ایک سو پینسٹھ آیتیں ، تین ہزار ایک سو کلمہ اور بارہ ہزار نو سوپینتیس حرف ہیں ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ یہ کُل سورۃ ایک ہی شب میں بمقام مکّہ مکرّمہ نازل ہوئی اور اس کے ساتھ ستّر ہزار فرشتے آئے جن سے آسمانوں کے کنارہ بھر گئے ۔ یہ بھی ایک روایت میں ہے کہ وہ فرشتے تسبیح و تقدیس کرتے آئے اور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم سبحان ربی العظیم فرماتے ہوئے سربسجود ہوئے ۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ جَعَلَ الظُّلُمٰتِ وَ النُّوْرَ۬ؕ-ثُمَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ یَعْدِلُوْنَ(۱)

سب خوبیاں اللہ کو جس نے آسمان اور زمین بنائے(ف۲)اور اندھیریاں اور روشنی پیدا کی(ف۳)اس پر (ف۴) کافر لوگ اپنے رب کے برابر ٹھہراتے ہیں(ف۵)

(ف2)

حضرت کعب احبار رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا توریت میں سب سے اول یہی آیت ہے اس آیت میں بندوں کو شانِ استغناء کے ساتھ حمد کی تعلیم فرمائی گئی اور پیدائشِ آسمان و زمین کا ذکر اس لئے ہے کہ ان میں ناظرین کے لئے بہت عجائبِ قدرت و غرائبِ حکمت اور عبرتیں و منافع ہیں ۔

(ف3)

یعنی ہر ایک اندھیری اور روشنی خواہ وہ اندھیری شب کی ہو یا کُفر کی یا جہل کی یا جہنّم کی اور روشنی خواہ دن کی ہو یا ایمان و ہدایت و علم و جنّت کی ۔ ظلمات کو جمع اور نور کو واحد کے صیغہ سے ذکر فرمانے میں اس طرف اشارہ ہے کہ باطل کی راہیں بہت کثیر ہیں اور راہِ حق صرف ایک دینِ اسلام ۔

(ف4)

یعنی باوجود ایسے دلائل پر مطلِع ہونے اور ایسے نشانہائے قدرت دیکھنے کے ۔

(ف5)

دوسروں کو حتّٰی کہ پتّھروں کو پُوجتے ہیں باوجود یکہ اس کے مُقِر ہیں کہ آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا اللہ ہے ۔

هُوَ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ طِیْنٍ ثُمَّ قَضٰۤى اَجَلًاؕ-وَ اَجَلٌ مُّسَمًّى عِنْدَهٗ ثُمَّ اَنْتُمْ تَمْتَرُوْنَ(۲)

وہی ہے جس نے تمہیں (ف۶)مٹی سے پیدا کیا پھر ایک میعاد کا حکم رکھا (ف۷)اور ایک مقرر وعدہ اس کے یہاں ہے (ف۸) پھر تم لوگ شک کرتے ہو

(ف6)

یعنی تمہاری اصل حضرت آدم کو جن کی نسل سے تم پیدا ہوئے ۔

فائدہ : اس میں مشرکین کا رد ہے جو کہتے تھے کہ ہم جب گَل کر مٹی ہو جائیں گے پھر کیسے زندہ کئے جائیں گے ؟ انہیں بتایا گیا کہ تمہاری اصل مٹی ہی سے ہے تو پھر دوبارہ پیدا کئے جانے پر کیا تعجب ، جس قادر نے پہلے پیداکیا اس کی قدرت سے بعد موت زندہ فرمانے کو بعید جاننا نادانی ہے ۔

(ف7)

جس کے پورا ہو جانے پر تم مر جاؤ گے ۔

(ف8)

مرنے کے بعد اُٹھانے کا ۔

وَ هُوَ اللّٰهُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ فِی الْاَرْضِؕ-یَعْلَمُ سِرَّكُمْ وَ جَهْرَكُمْ وَ یَعْلَمُ مَا تَكْسِبُوْنَ(۳)

اور وہی اللہ ہے آسمانوں کا اور زمین کا (ف۹) اسے تمہارا چھپا اور ظاہر سب معلوم ہے اور تمہارے کام جانتا ہے

(ف9)

اس کا کوئی شریک نہیں ۔

وَ مَا تَاْتِیْهِمْ مِّنْ اٰیَةٍ مِّنْ اٰیٰتِ رَبِّهِمْ اِلَّا كَانُوْا عَنْهَا مُعْرِضِیْنَ(۴)

اور ان کے پاس کوئی بھی نشانی اُن کے رب کی نشانیوں سے نہیں آتی مگر اس سے منہ پھیرلیتے ہیں

فَقَدْ كَذَّبُوْا بِالْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْؕ-فَسَوْفَ یَاْتِیْهِمْ اَنْۢبٰٓؤُا مَا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ(۵)

تو بے شک انہوںنے حق کو جھٹلایا (ف۱۰) جب ان کے پاس آیا تو اب انہیں خبر ہوا چاہتی ہے اس چیز کی جس پر ہنس رہے تھے(ف۱۱)

(ف10)

یہاں حق سے یا قرآن مجیدکی آیات مراد ہیں یا سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے معجزات ۔

(ف11)

کہ وہ کیسی عظمت والی ہے اور اس کی ہنسی بنانے کا اَنجام کیسا وبال و عذاب ۔

اَلَمْ یَرَوْا كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ قَرْنٍ مَّكَّنّٰهُمْ فِی الْاَرْضِ مَا لَمْ نُمَكِّنْ لَّكُمْ وَ اَرْسَلْنَا السَّمَآءَ عَلَیْهِمْ مِّدْرَارًا۪-وَّ جَعَلْنَا الْاَنْهٰرَ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهِمْ فَاَهْلَكْنٰهُمْ بِذُنُوْبِهِمْ وَ اَنْشَاْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ قَرْنًا اٰخَرِیْنَ(۶)

کیا انہوں نے نہ دیکھا کہ ہم نے ان سے پہلے (ف۱۲) کتنی سنگتیں (قومیں)کھپا دیں انہیں ہم نے زمین میں وہ جماؤ دیا (ف۱۳) جو تم کو نہ دیا اور ان پر موسلادھار پانی بھیجا (ف۱۴) اور ان کے نیچے نہریں بہائیں (ف۱۵) تو انہیں ہم نے ان کے گناہوں کے سبب ہلاک کیا(ف۱۶) اور ان کے بعد اور سنگت اٹھائی (ف۱۷)

(ف12)

پچھلی اُمّتوں میں سے ۔

(ف13)

قوّت و مال اور دنیا کے کثیر سامان دے کر ۔

(ف14)

جس سے کھیتیاں شاداب ہوں ۔

(ف15)

جس سے باغ پرورش پائے اور دنیا کی زندگانی کے لئے عیش و راحت کے اسباب بہم پہنچے ۔

(ف16)

کہ انہوں نے انبیاء کی تکذیب کی اور ان کا یہ سر و سامان انہیں ہلاک سے نہ بچا سکا ۔

(ف17)

اور دوسرے قَرن والوں کو ان کا جانشین کیا ، مدعا یہ ہے کہ گزری ہوئی اُمّتوں کے حال سے عبرت و نصیحت حاصل کرنا چاہئے کہ وہ لوگ باوجود قوّت و دولت و کثرتِ مال و عیال کے کُفر و طُغیان کی وجہ سے ہلاک کر دیئے گئے تو چاہئے کہ ان کے حال سے عبرت حاصل کر کے خوابِ غفلت سے بیدار ہوں ۔

وَ لَوْ نَزَّلْنَا عَلَیْكَ كِتٰبًا فِیْ قِرْطَاسٍ فَلَمَسُوْهُ بِاَیْدِیْهِمْ لَقَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ(۷)

اور اگر ہم تم پر کاغذ میں کچھ لکھا ہوا اُتارتے (ف۱۸) کہ وہ اسے اپنے ہاتھوں سے چھوتے جب بھی کافر کہتے کہ یہ نہیں مگر کھلا جادو

(ف18)

شانِ نُزول : یہ آیت نضربن حارث اور عبداللہ بن اُمیّہ اور نَوفَل بن خُوَیلَد کے حق میں نازل ہوئی جنہوں نے کہا تھا کہ محمّد (صلی اللہ علیہ وسلم) پر ہم ہرگز ایمان نہ لائیں گے جب تک تم ہمارے پاس اللہ کی طرف سے کتاب نہ لاؤ جس کے ساتھ چار فرشتے ہوں ، وہ گواہی دیں کہ یہ اللہ کی کتاب ہے اور تم اس کے رسول ہو ۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی اور بتایا گیا کہ یہ سب حیلے بہانے ہیں اگر کاغذ پر لکھی ہوئی کتاب اُتار دی جاتی وہ اسے اپنے ہاتھوں سے چھو کر اور ٹٹول کر دیکھ لیتے اور یہ کہنے کا موقع بھی نہ ہوتا کہ نظر بندی کر دی گئی تھی کتاب اُترتی نظر آئی ، تھا کچھ بھی نہیں تو بھی یہ بدنصیب ایمان لانے والے نہ تھے ، اس کو جادو بتاتے اور جس طرح شَقُ القمر کو جادو بتایا اور اس معجِزہ کو دیکھ کر ایمان نہ لائے اس طرح اس پر بھی ایمان نہ لاتے کیونکہ جو لوگ عنادًا انکار کرتے ہیں وہ آیات و معجزات سے منتفِع نہیں ہو سکتے ۔

وَ قَالُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ مَلَكٌؕ-وَ لَوْ اَنْزَلْنَا مَلَكًا لَّقُضِیَ الْاَمْرُ ثُمَّ لَا یُنْظَرُوْنَ(۸)

اور بولے(ف۱۹) ان پر (ف۲۰) کوئی فرشتہ کیوں نہ اُتارا گیا اور اگر ہم فرشتہ اُتارتے (ف۲۱) تو کام تمام ہوگیا ہوتا(ف۲۲) پھر انہیں مہلت نہ دی جاتی (ف۲۳)

(ف19)

مشرکین ۔

(ف20)

یعنی سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم پر ۔

(ف21)

اور پھر بھی یہ ایمان نہ لاتے ۔

(ف22)

یعنی عذاب واجب ہو جاتا اور یہ سُنّتِ الٰہیہ ہے کہ جب کُفّار کوئی نشانی طلب کریں اور اس کے بعد بھی ایمان نہ لائیں تو عذاب واجب ہو جاتا ہے اور وہ ہلاک کر دیئے جاتے ہیں ۔

(ف23)

ایک لمحہ کی بھی اور عذاب مؤخَّر نہ کیا جاتا تو فرشتہ کا اُتارنا جس کو وہ طلب کرتے ہیں انہیں کیا نافع ہوتا ۔

وَ لَوْ جَعَلْنٰهُ مَلَكًا لَّجَعَلْنٰهُ رَجُلًا وَّ لَلَبَسْنَا عَلَیْهِمْ مَّا یَلْبِسُوْنَ(۹)

اور اگرہم نبی کو فرشتہ کرتے (ف۲۴) جب بھی اسے مرد ہی بناتے (ف۲۵) اور ان پر وہی شبہ رکھتے جس میں اب پڑے ہیں

(ف24)

یہ ان کُفّار کا جواب ہے جو نبی علیہ السلام کو کہا کرتے تھے یہ ہماری طرح بشر ہیں اور اسی خَبط میں وہ ایمان سے محروم رہتے تھے ، انہیں انسانوں میں سے رسول مبعوث فرمانے کی حکمت بتائی جاتی ہے کہ ان کے منتفِع ہونے اور تعلیمِ نبی سے فیض اٹھانے کی یہی صورت ہے کہ نبی صورتِ بشری میں جلوہ گر ہو کیونکہ فرشتہ کو اس کی اصلی صورت میں دیکھنے کی تو یہ لوگ تاب نہ لا سکتے ، دیکھتے ہی ہیبت سے بے ہوش ہو جاتے یا مر جاتے اس لئے اگر بالفرض رسول فرشتہ ہی بنایا جاتا ۔

(ف25)

اور صورتِ انسانی ہی میں بھیجتے تاکہ یہ لوگ اس کو دیکھ سکیں ، اس کا کلام سُن سکیں ، اس سے دین کے اَحکام معلوم کر سکیں لیکن اگر فرشتہ صورتِ بشری میں آتا تو انہیں پھر وہی کہنے کا موقع رہتا کہ یہ بشر ہے تو فرشتہ کو نبی بنانے کا کیا فائدہ ہوتا ۔

وَ لَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِیْنَ سَخِرُوْا مِنْهُمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠(۱۰)

اور ضرور اے محبوب تم سے پہلے رسولوں کے ساتھ بھی ٹھٹّا کیا گیا تو وہ جو اُن سے ہنستے تھے ان کی ہنسی انہیں کو لے بیٹھی(ف۲۶)

(ف26)

وہ مبتلائے عذاب ہوئے ۔ اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تسلّی و تسکینِ خاطر ہے کہ آپ رنجِیدہ و مَلُول نہ ہوں ، کُفّار کا پہلے انبیاء کے ساتھ بھی یہی دستور رہا ہے اور اس کا وبال ان کُفّار کو اٹھانا پڑا ہے نیز مشرکین کو تنبیہ ہے کہ پچھلی اُمّتوں کے حال سے عبرت حاصل کریں اور انبیاء کے ساتھ طریقِ ادب ملحوظ رکھیں تاکہ پہلوں کی طرح مبتلائے عذاب نہ ہوں ۔