امام احمد رضا کا نعتیہ کلام اور عظمت ِمصطفی ﷺ

امام احمد رضا کا نعتیہ کلام شاعرانہ تخیل نہیں‘ بلکہ آیاتِ قرآنی اور احادیث نبویہ کی ترجمانی ہے‘مقدّساتِ دین کی محبت کا درس ہے‘ واقعات اور احادیثِ مبارکہ کوآپ نے کمالِ اختصار کے ساتھ بیان کیا کہ گویا دریا کو کوزے میں بند کردیا ہے ‘اس سے اُن اشعار کے سننے اور پڑھنے کا لطف دوبالا ہوجاتا ہے۔ حدیث میں ہے: ”بیشک میری اور تمہاری مثال اُس شخص کی سی ہے ‘جس نے آگ جلائی ‘ جب اس کاماحول روشن ہوگیا تو پروانے اورکیڑے مکوڑے اس میں گرنے لگے اور وہ انہیں نکالنے لگا ‘ مگر وہ اس پرغالب آگئے اور آگ میں گھستے چلے گئے ‘ سو میں بھی تمہیں کمر سے پکڑ کر آگ میں گرنے سے بچا رہا ہوں اور وہ اس آگ میں گرے جارہے ہیں‘ ‘(صحیح البخاری: 6483)۔قرآنِ کریم میں بھی یہی آیا ہے : ”اور اپنے اوپر اللہ کی اُس نعمت کو یاد کرو کہ جب تم آپس میں دشمن تھے ‘تو اس نے تمہارے دلوں کو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑ دیا تو اس کے فضل سے تم آپس میں بھائی بھائی بن گئے اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے تھے (اور اس میں گرا ہی چاہتے تھے )کہ اُس نے تمہیں بچالیا‘‘ (آل عمران:103)۔ امام احمد رضا نے اسی کیفیت کواشعار میں بیان کیا :؎

آستینِ رحمتِ عالَم اُلٹے کمرِ پاک پہ دامن باندھے

گرنے والوں کو چہِ دوزخ سے صاف الگ کھینچ لیا کرتے ہیں

”چَہ‘‘چاہ کا مخفف ہے ‘اس کا معنی کنواں یا گڑھا ہے۔ حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں:میں نے رسول کریم ﷺ کو دیکھا : عصر کی نماز کا وقت آگیا ‘ لوگ وضو کے لیے پانی تلاش کرنے لگے ‘لیکن نہ پایا‘ پھر وہ ‘آپ ﷺ کے پاس کچھ پانی لے کر آئے‘ تو آپ ﷺ نے اپنا دستِ مبارک اس برتن میں رکھا اور لوگوں کو حکم دیاکہ وضو کرو‘‘( انس بیان کرتے ہیں:)پھر میں نے دیکھا کہ آپ کی انگلیوں کے نیچے سے پانی ابل رہا ہے ‘یہاں تک کہ تمام لوگوں نے وضو کرلیا‘‘ (صحیح البخاری:169)۔ امام احمد رضا نے اس معجزے کو ان الفاظ میں بیان کیا :؎

انگلیاں پائیں وہ پیاری ‘ جن سے دریائے کرم ہیں جاری

جوش پر آتی ہے غمخواری‘ تشنے سیراب ہوا کرتے ہیں

حضرت معاویہؓ نے بیان کیا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: جس شخص کے ساتھ اللہ تعالیٰ خیر کا ارادہ فرماتا ہے‘ اسے دین میں فقاہت(سمجھ) عطا فرماتا ہے‘ میں توصرف تقسیم کرنے والا ہوں ‘نعمتیں عطا کرنے والا اللہ تعالیٰ ہے‘ (صحیح البخاری:71)‘‘۔ امام احمد رضااس حدیث کو ان کلمات میں منظوم فرماتے ہیں:؎

رب ہے مُعطی‘ یہ ہیں قاسم

رزق اُس کا ہے‘ کِھلاتے یہ ہیں

یعنی درحقیقت نعمتیں عطا کرنے والااللہ تعالیٰ ہے اور رسول ﷺ اس کے دیے ہوئے اختیار سے اُن نعمتوں کو تقسیم فرماتے ہیں ۔ (1)حضرت جابر بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میرے اصحاب (آسمانِ ہدایت کے )ستاروں کی مانند ہیں‘ تم اُن میں سے جس کی پیروی کرو گے ‘ہدایت کو پالو گے‘‘ (جامع بیان العلم وفضلہ:1760)۔(2)حضرت ابوذر بیان کرتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ” میرے اہلِ بیت کی مثال ایسی ہے ‘جیسے نوح علیہ السلام کی کشتی کی مثال اُن کی قوم میں تھی‘ سو جو اُس میں داخل ہوا ‘وہ نجات پاگیا اور جو پیچھے رہ گیا وہ ہلاک ہوگیا‘‘ (المعجم الاوسط:5390)۔ انہی دونوں احادیث کے مفہوم کو یکجا کر کے امام احمد رضا لکھتے ہیں:؎

اہلِ سنت کا ہے بیڑا پار‘ اصحابِ حضور

نجم ہیں ‘اور نائو ہے عترت رسول اللہ کی 

یعنی ہمیں بحرِ ظلمات سے نجات کے لیے دونوں کی رہنمائی اور دونوں کا سہارا چاہیے ‘ ہم صحابۂ کرام سے بھی جڑے رہیں اور اہلِ بیتِ اطہار رضوان اللہ علیہم اجمعین کی ذواتِ مقدسہ سے بھی اپنے رشتۂ عقیدت ومحبت کو قائم ودائم رکھیں ۔ہمیں یہ شعار تو قرآن نے سکھایا ہے کہ عظیم شخصیات میں تفاضُل ہوسکتا ہے ‘یعنی ہمارے لیے سب عظیم المرتبت ہیں ‘لیکن اُن کے درمیان آپس میں درجہ بندی موجود ہے ‘ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ”یہ رسولوں کی جماعت ‘ان میں سے ہم نے بعض کو بعض پر فضیلت عطا کی ہے ‘‘ (البقرہ: 253) لیکن ہمیں کسی کی تنقیص یا توہین کی اجازت نہیں ‘ یہ بدنصیب لوگوں کا شِعار ہے ۔ حضرت جابر بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ سے جب بھی کسی چیز کا سوال کیا گیا توآپ نے جواب میں ”نہ‘‘ نہیں کہا‘‘(صحیح مسلم:2311) یعنی آپ ﷺ ہر سائل کی مراد پورا فرماتے تھے۔ امام احمد رضا لکھتے ہیں:؎

واہ کیا جود و کرم ہے شہِ بطحا تیرا

نہیں ‘سنتا ہی نہیں‘ مانگنے والا تیرا 

دھارے چلتے ہیں عطا کے‘ وہ ہے قطرہ تیرا

تارے کھلتے ہیں سخا کے‘ وہ ہے ذرہ تیرا

مانگیں گے‘ مانگے جائیں گے‘ منہ مانگی پائیں گے

سرکار میں نہ ”لا‘‘ ہے‘ نا حاجت ”اگر‘‘ کی ہے 

یعنی آپ ﷺ ہر ایک کی یاوری فرمائیں گے ‘ٹال مٹول یا گریز آپ کا شِعار نہیں ‘پس نہ کوئی آپ سے جواب میں ”لَا‘‘ سنے گا اور نہ اگر مگر کے حیلے بہانے سننے کو ملیں گے ‘ آپ کا بحرِ عطا اور آپ کی شفاعت کا در سب کے لیے کھلا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ”اور اگریہ لوگ (اپنے کرتوتوںکے سبب )اپنی جانوں پر ظلم کر بیٹھیں ‘تو(توبہ کے لیے)آپ کے حضورحاضر ہوں اور اللہ سے اپنے گناہوں کی بخشش مانگیں اوررسول بھی اُن کے لیے بخشش کی دعا کریں ‘تو وہ یقینا اللہ کو توبہ قبول کرنے والا‘ رحم فرمانے والا پائیں گے‘‘ (النساء:64)۔ امام احمد رضانے اسی مفہوم کو منظوم کیا ہے:؎

مجرم بلائے‘ آئے ہیں‘ جآئُ وْکَ ‘ہے گواہ

پھر رد ہو کب‘ یہ شان کریموں کے در کی ہے

اللہ تعالیٰ نے فرمایا(1):” محمد(ﷺ) تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں‘ لیکن وہ اللہ کے رسول اور آخری نبی ہیں ‘‘ (الاحزاب:40)۔(2): ”آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کردیا اور تم پر اپنی نعمت کو پورا کردیا اور تمہارے لیے اسلام کو (بہ طور) دین پسند فرمالیا‘ ‘(المائدہ:3)۔ امام احمد رضا ان آیات کے مفہوم کو اس طرح بیان کرتے ہیں:؎

آتے رہے انبیاء‘”کَمَا قِیْلَ لَھُمْ‘‘

”وَالْخَاتَمُ حَقُّکُمْ‘‘کہ خاتَم ہوئے تم

یعنی جو ہوا دفترِ تنزیل تمام

آخر میں ہوئی مہر کہ: اَکْمَلْتُ لَکُمْ

سورۂ بنی اسرائیل اور سورۂ النجم میں واقعۂ معراج کا ذکر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نہایت رفعتِ شان اور اہتمام کے ساتھ آپ کو اپنے حضور بلایا اور اپنی ذاتِ اقدس کا بلاواسطہ دیدار کرایا ‘جبکہ ایک موقع پر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے التجا کی :”اے میرے پروردگار! مجھے اپنادیدارعطافرماکہ میں تجھے دیکھوں ‘ فرمایا: تم مجھے ہرگز نہیں دیکھ پائو گے‘‘ (الاعراف:143)۔آپ کے لیے فرمایا: ”پھر اس کا جلوہ (اپنے حبیب کے )قریب ہواتوبہت ہی قریب ہوا ‘‘(النجم:8)۔ ان مقاماتِ رفیعہ کو امام احمد رضا نے منظوم کیا ہے: ؎

بڑھ اے محمد‘ قریں ہو احمد‘ قریب آ سرورِ مُمَجَّدْ

نثار جاؤں‘ یہ کیا ندا تھی‘ یہ کیا سماں تھا‘ یہ کیا مزے تھے

تبارک اللہ! شان تیری‘ تجھی کو زیبا ہے بے نیازی

کہیں تو وہ جوشِ لَنْ تَرَانِیْ‘ کہیں تقاضے وصال کے تھے

قرآن کریم میں قیامت کی ہولناکی کو بیان کیا: ”پس جب آئے گی وہ کان پھاڑنے والی چنگھاڑ ‘اُس دن ہر شخص اپنے بھائی سے بھاگے گا اور اپنی ماں اور باپ سے اور اپنی بیوی اور بیٹوں سے ‘ اُن میں سے ہر ایک کو اُس دن اپنی فکر لاحق ہوگی‘ جو اُسے دوسروں سے بے پروا کردے گی ‘‘(عبس:33-36)۔ امام احمد رضا لکھتے ہیں: ایسے مشکل وقت میں شفاعتِ مصطفی ﷺکام آئے گی: ؎

باپ جہاں بیٹے سے بھاگے

لُطف وہاں فرماتے یہ ہیں

ماں جب اکلوتے کو چھوڑے

آ آ کہہ کے بلاتے یہ ہیں

حضرت ابوہریرہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے جبریلِ امین ؑسے پوچھا: اے جبریل! آپ کی عمر کتنی ہے‘ انہوں نے عرض کیا: یارسول اللہ! میں اس کے سوا کچھ نہیں جانتا کہ” حجابِ رابع ‘‘میں ایک ستارہ ستّر ہزار برس میں ایک بار طلوع ہوتا ہے اور میں اُسے بہتّر ہزار مرتبہ دیکھ چکا ہوں‘ رسول اللہﷺ نے فرمایا: جبریل! میرے رب کی عزت وجلال کی قسم! وہ ستارہ میں ہی ہوں‘‘ (سیرتِ حلبیہ‘ جلد اول ‘ص: ۴۹)؛چنانچہ امام احمد رضا نے حسنِ مصطفی کو اس طرح منظوم کیا:؎ 

وہ کمالِ حسنِ حضور ہے کہ گمانِ نقص‘ جہاں نہیں

یہی پھول خار سے دور ہے‘ یہی شمع ہے ‘کہ دھواں نہیں

ترجمہ:”رسول اللہ ﷺ کے حسن کا کمال یہ ہے کہ اس میں کسی قسم کا نقص پایا جانا تو ہے ہی ناقابلِ تصور‘ اس کا گمان بھی نہیں کیا جاسکتا‘ یہی ایسا پھول ہے جس کے ساتھ کانٹے نہیں ہوتے اور یہی ایسی شمع ہے کہ دھوئیں کی میل سے پاک ہے‘‘۔

امام احمد رضا قادری نے مقامِ مصطفی ﷺ کی رفعتوں کو بیان کیا اور ہررفعت کو بیان کرنے کے بعد شانِ مصطفی ﷺ کے لیے اُسے ناتمام جانااور آخر میں خلاصہ بیان کردیا:؎

لیکن رضاؔ نے ختم سخن اس پر کر دیا

خالق کا بندہ‘ خلق کا آقا کہوں تجھے

نوٹ: پرسوں کے کالم میں عربی محاورہ غلط درج ہوگیا‘ اصل محاورہ یہ ہے:”اَلنُّکْتَۃُ لِلْفَارّلَا لِلْقَارّ‘‘یعنی جو چیز اپنے مقام پر قائم ہے‘ اس کے لیے کوئی وجہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں؛البتہ جو چیز اپنے مقام سے جدا کردی جائے‘ اس کیلئے معقول وجہ کا ہونا ضروری ہے۔

از مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمان قبلہ

بشکریہ روزنامہ دنیا پاکستان