*حضرت نبی پاکﷺ کا حضرت امیر المومنین معاویہؓ کو انکی زندگی میں انکے دور حکومت کی خوشخبری دینا*

16933– حدثنا روح، قال: حدثنا أبو أمية عمرو بن يحيى بن سعيد، قال: سمعت جدي، يحدث، أن معاوية، أخذ الإداوة بعد أبي هريرة يتبع رسول الله صلى الله عليه وسلم بها، واشتكى أبو هريرة، فبينا هو يوضئ رسول الله صلى الله عليه وسلم رفع رأسه إليه مرة أو مرتين وهو يتوضأ (2) ، فقال: ” يا معاوية، إن وليت أمرا فاتق الله عز وجل واعدل “، قال: فمازلت أظن أني مبتلى بعمل لقول النبي صلى الله عليه وسلم حتى ابتليت

(مسند احمد )

ابو امیہ عمرو بن یحییٰ بن سعید کہتے ہیں کہ میں نے اپنے دادا سعید بن عمرو بن سعید بن عاص کو بیان کرتے سنا کہ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ پانی کا برتن لے کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ ساتھ جایا کرتے تھے، جب وہ بیمار پڑے تو ان کے بعد سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اس برتن کو اٹھاتے اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ ساتھ جاتے، ایک موقع پر سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو وضو کرا رہے تھے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کی طرف ایک یا دو مرتبہ سر اٹھا کر دیکھا اور فرمایا: معاویہ! اگر تمہیں سر براہ حکومت بنایا جائے تو اللہ تعالیٰ سے ڈرنا اور عدل سے کام لینا۔ سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: یہ ارشاد سننے کے بعد مجھے یہ یقین رہا کہ مجھے حکومت (اقتدار) ضرور ملے گی،(کیونکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جو فرما دیا تھا)۔

اس روایت کی سند شیخین کی شرط پر صحیح ہے اسکے سارے رجال صحیحین کے رجال ہیں

لیکن اسکے باوجود بھی ہم رافضیوں کی تسلی کے لیے ہر راوی کا مختصر تعارف پیش کر دیتے ہیں

۱۔سند کا پہلا راوی: روح بن عبادہ یہ صحیحین کے راوی ہیں

یہ امام احمد بن حنبل کے شیخ اور متفقہ ثقہ راوی ہیں

امام ابن ابی حاتم انکا ترجمہ یوں بیان کرتے ہیں

2255 – روح بن عبادة أبو محمد القيسي بصري روى عن عمران بن حدير وأشعث بن عبد الملك وشعبة روى عنه أحمد [بن محمد] بن حنبل وعلى ابن المديني سمعت أبي يقول ذلك.

حدثنا عبد الرحمن أنا علي ابن أبي طاهر فيما كتب إلى قال نا الأثرم قال قلت لأبي عبد الله أحمد ابن حنبل: روح بن عبادة؟ فقال: حديثه عن سعيد صالح (2) .

حدثنا عبد الرحمن أنا ابن أبي خيثمة فيما كتب إلي قال سئل يحيى بن معين عن روح بن عبادة فقال: صدوق ثقة.

(الجرح والتعدیل)

۲۔دوسرا راوی: عمرو بن سعید

یہ بھی صحیحین کے راویوں میں سے ہیں

2644 – عمرو بن يحيى بن سعيد بن عمرو بن سعيد بن العاص، أبو أمية المكي.

• قال الحاكم: قلتُ للدَّارَقُطْنِيِّ عمرو بن يحيى بن سعيد بن العاص؟ قال مخرج في الصحيح. (420) .

• وقال الحاكم، عن الدَّارَقُطْنِيّ: ثقة.

(تهذيب التهذيب 3 312.)

۳۔تیسرا راوی: انکا جد یعنی دادا ہیں

جنکا نام : سعید بن عمرو بن سعید العاص ہے یہ بھی صحیحین کے راویوں میں سے ہیں

امام بخاری انکا ترجمہ یوں بیان کرتے ہیں :

1662- سَعِيد بْن عَمرو بْن سَعِيد بْن العاص، الأُمَوِيّ، القُرَشِيّ.

سَمِعَ عَائِشَةَ، وَابْنَ عُمر، وعن أَبي هُرَيرةَ.

رَوَى عَنه: ابناه إسحاق، وخالد، وابن ابنه عَمرو بن يَحيى بن سعيد.

يُعَدُّ في أهل الحجاز.

هو أخو أُمية، ومُوسى.

(تاریخ الکبیر للبخاری)

انہوں نے اماں عائشہؓ ، حضرت ابن عمرؓ اور حضرت ابی ھریرہؓ سے سماع کیا ہے

ایسے ہی ابن حبان نے بیان کیا ہے

2886 – سعيد بن عمرو بن سعيد بن العاص الأموي القرشي يروي عن أبي هريرة وابن عمر وعائشة وعبد الله بن عامر روى عنه ابناه خالد وإسحاق ابنا سعيد

(الثقات ابن حبان)

ایسے ہی امام ابن ابی حاتم نے ترجمہ بیان کیا ہے

209 – سعيد بن عمرو بن سعيد بن العاص الأموي يعد من أهل

الحجاز وهو أخو موسى بن عمرو وأمية بن عمرو روى عن عائشة وابن عمر وأبي هريرة روى عنه ابناه إسحاق وخالد وروى عنه شعبة والأسود بن قيس وابن ابنه عمرو بن يحيى بن سعيد سمعت أبي يقول ذلك.

حدثنا عبد الرحمن قال سمعت أبي يقول: سعيد بن عمرو [ابن سعيد] بن العاص كان صدوقا

حدثنا عبد الرحمن قال سئل أبو زرعة عن سعيد بن عمرو بن سعيد فقال: كان يكون بالكوفة وهو ثقة.

(الجرح والتعدیل لابن ابی حاتم)

اور امام امام ابن حجر عسقلانیؒ نے تہذیب میں انکے شیوخ کی مکمل تفصیل بیان کی ہے

115- “خ م د س ق – سعيد” بن عمرو بن سعيد بن العاص بن سعيد بن العاص بن أمية أبو عثمان ويقال أبو عنبسة الأموي كان مع أبيه إذ غلب على دمشق ثم سكن الكوفة أرسل عن النبي صلى الله عليه وآله وسلم وعن الحكم وخالد ابني أبي أحيحة سعيد بن العاص وروى عن أبيه وعن معاوية والعبادلة الأربعة وأبي هريرة وعائشة وأم خالد بنت خالد بن سعيد بن العاص رضي الله عنهم وغيرهم وعنه أولاد خالد وإسحاق وعمرو وحفيده عمرو بن يحيى بن سعيد والأسود بن قيس وشعبة وغيرهم قال أبو زرعة والنسائي ثقة وقال أبو حاتم صدوق وقال الزبير كان من علماء قريش بالكوفة وذكره ابن حبان في الثقات قلت وذكره بن عساكر أنه بقي إلى أن وفد على الوليد بن يزيد بن عبد الملك وقال الكناني عن أبي حاتم هو ثقة.

(تہذیب التہذیب برقم: ۱۱۵)

یعنی سیعد بن عمرو یہ نبی پاک سے مسل بھی بیان کرتے تھے، اور انہوں نے الحکم، خاد بن ابی احیہ سے بیان کیا ہے اور اپنے والد سے بھی ، حضرت معاویہ ؓ ، حضرت ابو ھریرہؓ، حضرت عائشہؓ ام خالد بنت خالد بن سعید سے اور انکے علاوہ کئی شیوخ سے روایت کیا ہے

انکو امام ابو زرعہ ،

امام نسائی

امام ابو حاتم

اور ابن حبان وغیرہ نے

ثقہ قرار دیا ہے

نیز یہ قریش کے علماء میں سے ایک تھے کوفہ کے

الغرض اسکی سند بے غبار اور مضبوط ترین ہے اور اس سے معلوم ہوا کہ حضرت نبی پاک ﷺ نے حضرت امیر المومنین معاویہؓ کو ان کے حکومت میں آنے کا اعلان انکی زندگی میں کر دیا تھا اور نبی پاکﷺ کی تاکید کے بعد حضرت امیر معاویہؓ کا دور خلافت اس امت کے بہترین دور میں سے ایک تھا اور مسلمانوں کو فتوحات نصیب ہوئیں

*دعاگو: خادم الحدیث رانا اسد الطحاوی الحنفی البریلوی*