✍🏼 فکر

🌹 كُلُوا وَتَمَتَّعُوا قَلِيلًا إِنَّكُم مُّجْرِمُونَ

( سورة المرسلات 46)

تم کھاؤ اور لطف اٹھا لو تھوڑا عرصہ ۔ بے شک تم مجرم ہو ۔

🔎فقیر خالد محمود عرض گذار ہے کہ

اس آیت میں مجرمین سے مراد مکذبین ( جھٹلانے والے ) ، کافرین اور مشرکین ہیں اور یہ آیت ان کے لیئے وعید ، تھدید اور ان کے برے انجام کے احوال کا بیان ہے ۔

ان کو سرزنش کی جا رہی ہے کہ دنیا کے ایام تھوڑے ہیں ۔ اس ختم ہونے والے مختصر عرصہ میں چند روز مزے کر لو ، ہو تو مجرم سو جب ہمارے پاس آؤ گے تو پھر سارےحساب ہو جائیں گے ۔

☆ لیکن اس فقیر کے ذھن میں اپنے

ارد گرد کے کچھ مناظر دیکھ کر ایک اور بات بھی آئی ہے کہ

اللہ تعالی نے آخر خود کافرین ، مشرکین کیوں نہیں فرمایا بلکہ مجرمین فرمایا تو کہیں ایسا تو نہیں کہ اس عموم کی وجہ سے وہ مسلمان بھی اس وعید و زجر و توبیخ میں داخل ہوں جو خود تو طرح طرح کے اشتہاء انگیز کھانے کھا رہے ہوتے ہیں اور ان کے ملازمین یا دیگر محرومین ، بیوگان، یتامی، غرباء ، فقرآء، مساکین اور مسافرین ان کو امیدوں بھری نظروں سے ٹک ٹک دیکھ رہے ہوتے ہیں ۔

👈 فقیر کی اس رائے کی کسی حد تک تائید سورة المدثر کی آیات میں بھی ہے

عَنِ الْمُجْرِمِينَ(41) مَا سَلَكَكُمْ فِي سَقَرَ (42) قَالُوا لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّينَ (43) وَلَمْ نَكُ نُطْعِمُ الْمِسْكِينَ (44)

ان آیات میں ہے کہ مجرمین سے جہنم میں جانے کی وجہ پوچھی جائے گی تو وہ بتائیں گے

•نمازیوں میں سے نہ تھے ( اس جملہ میں فقیر کی رائے کی طرف اشارہ ہے )

• مسکین کو کھانا نہیں کھلاتے تھے

• فضول گو لوگوں کے ساتھ مل کر بیہودہ گوئی میں لگے رہتے

• بدلے کے دن( قیامت ) کی تکذیب کرتے تھے

○ اور موت تک انھی 4 بد اعمال میں ہی رہے ۔