أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قَالَ اَنۡظِرۡنِىۡۤ اِلٰى يَوۡمِ يُبۡعَثُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اس نے کہا مجھے اس دن تک کی مہلت دے جس دن سب لوگ اٹھائے جائیں گے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ” اس نے کہا مجھے اس دن تک کی مہلت دے جس دن سب لوگ اٹھائے جائیں گے “

اس بات کی تحقیق کہ ابلیس لعین کو کتنی زندگی کی مہلت دی ہے : 

جس دن سب لوگ اٹھائے جائیں گے وہ حشر کا دن ہے اور اس دن کے بعد کسی کو موت نہیں آئے گی۔ ابلیس لعین نے یہ سوال اس لیے کیا تھا کہ وہ اس عمومی قاعدہ سے بچ جائے کہ ” ہر شخص کو موت آنبی ہے ” اللہ تعالیٰ نے یہاں فرمایا ہے : ” تو مہلت پانے والوں میں سے ہے ” اور سورة الحج میں فرمایا ہے ” تجھے وقت معین تک مہلت دی گئی ہے “۔ ” قال فانک من المنظرین۔ الی یوم الوقت المعلوم : فرمایا بیشک تو مہلت پانے والوں میں سے ہے : اس دن تک جس کا وقت (ہمیں) معلوم ہے ” (الحجر : 37 ۔ 38، ص 80 ۔ 81)

امام رازی، علامہ قرطبی اور دیگر مفسرین نے ایک روایت کی بناء پر یہ کہا ہے کہ الوقت المعلوم سے مراد نفخہ اولیٰ ہے۔ یعنی جب پہلا صور پھونکا جائے گا اور سب لوگوں کو موت آئے گی تو اس کو بھی موت آجائے گی اور ابلیس لعین کو بھی معلوم تھا کہ اس کو نفخہ اولی تک مہلت دی گئی ہے۔ وہ روایت یہ ہے : ” امام ابن جریر طبری متوفی 310 ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں : اللہ تعالیٰ نے ابلیس لعین کو یوم حشر تک مہلت نہیں دی لیکن اس کو وقت معلوم تک مہلت دی ہے اور یہ وہ دن ہے جس دن میں پہلا صور پھونکا جائے گا اور آسمان و زمین کی ہر چیز ہلاک ہوجائے گی۔ سو وہ بھی مرجائے گا ” (جامع البیان، جز 8، ص 175، مطبوعہ دار الفکر، بیروت، 415 ھ)

اگر وقت معلوم سے مراد پہلے صور پھونکنے کا دن ہو تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ابلیس لعین کو معلوم ہوگیا کہ وہ کس دن مرے گا اور یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت اور اس کی سنت کے خلاف ہے۔ وہ کسی مخلوق کو اس بات پر مطلع نہیں فرماتا کہ اس نے کس دن مرنا ہے ورنہ انسان تمام عمر گناہ کرتا رہے اور مرنے سے صرف ایک دن پہلے اپنے گناہوں سے توبہ کرلے تو اس طرح اگر ابلیس لعین کو معلوم ہوجاتا کہ وہ اس دن مرے گا جس دن پہلا صور پھونکا جائے گا تو وہ ساری عمر لوگوں کو گمراہ کرتا رہتا اور مرنے سے ایک پہلے توبہ کرلیتا۔ امام رازی متوفی 606 ھ نے اس اعتراض کا یہ جواب دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو علم تھا کہ وہ اس دن بھی توبہ نہیں کرے گا۔ لہذا صرف موت کے دن کے علم سے اس کا گمراہ کرنے پر دلیر ہونا لازم نہیں آتا۔ جس طرح انبیاء (علیہم السلام) کو اپنے معصوم ہونے کا علمل ہے اور اس کے باوجود وہ کسی گناہ پر دلیر ہونا تو کجا اس کے قریب بھی نہیں جاتے۔ (تفسیر کبیر، ج 5، ص 211، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی، بیروت، 1415 ھ)

میں کہتا ہوں کہ اس اعتراض کا زیادہ واضح جواب یہ ہے کہ اگر ابلیس لعین کو یہ معلوم بھی ہوجائے کہ اس کو پہلے صور پھونکنے کے دن تک مہلت دی گئی ہے تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ اس کو اپنے مرنے کا دن معلوم ہوجائے کیونکہ یہ کسی کو معلوم نہیں کہ صور کب پھونکا جائے گا اور قیامت کب آئے گی دوسرا جواب یہ ہے کہ وقت معلوم سے مراد نفخہ اولی ہے۔ اس سے یہ کب لازم آتا ہے کہ ابلیس لعین کو بھی یہ معلوم ہو کہ وقت معلوم سے مراد نفخہ اولی ہے حتی کہ اسکو اپنے مرنے کے دن کا علم ہوجائے۔ ہوسکتا ہے کہ یہ چیز صرف اللہ تعالیٰ کے علم میں ہو اور تیسرا جواب یہ ہے کہ یہ صرف سدی کا قول ہے کہ وقت معلوم سے مراد نفخہ اولی ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد نہیں ہے اور نہ کسی صحیح سند سے ثابت ہے اور سدی غیر معتبر شخص ہے۔ اس لیے صحیح بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی کو علم ہے کہ اس نے ابلیس لعین کو کو ب تک زندہ رہنے کی مہلت دی ہے۔ ہمیں صرف یہ معلوم ہے کہ اس کو یوم حشر تک کی مہلت نہیں دی گئی۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 7 الأعراف آیت نمبر 14