أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قَالَ فَاهۡبِطۡ مِنۡهَا فَمَا يَكُوۡنُ لَـكَ اَنۡ تَتَكَبَّرَ فِيۡهَا فَاخۡرُجۡ اِنَّكَ مِنَ الصّٰغِرِيۡنَ ۞

ترجمہ:

فرمایا تو یہاں سے اتر تجھے یہاں گھمنڈ کرنے کا کوئی حق نہیں ہے، سو نکل جا بیشک تو ذلیل ہونے والوں میں سے ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ” فرمایا تو یہاں سے اتر تجھے یہاں گھمنڈ کرنے کا کوئی حق نہیں ہے، سو نکل جا بیشک تو ذلیل ہونے والوں میں سے ہے “

شیطان کے ساتھ طویل مکالمہ اس کی فضیلت کا موجب نہیں : 

یہ اللہ تعالیٰ اور شیطان کے درمیان مکالمہ ہے۔ سورة ص میں یہ مکالمہ بہت تفصیل کے ساتھ آیت 74 سے آیت 84 تک ذکر فرمایا ہے۔ ان آیات کا ترجمہ یہ ہے : ” اے ابلیس تجھ کو اس سجدہ کرنے سے کس نے منع کیا جس کو میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا، کیا تو نے (اب) تکبر کیا یا تو (ابتدء) تکبر کرنے والوں میں سے تھا۔ اس نے کہا میں اس سے بہتر ہوں، تو نے مجھ کو آگ سے پیدا کیا اور اس کو مٹی سے پیدا کیا۔ فرمایا تو اس (جنت) سے نکل جا، کیونکہ بیشک تو مردود ہوگیا اور بیشک قیامت کے دن تک تجھ پر میری لعنت ہے۔ اس نے کہا اے میرے رب ! پھر مجھے اس دن تک مہلت دے جس میں لوگ اٹھائے جائیں گے۔ فرمایا بیشک تو مہلت پانے والوں میں سے ہے۔ اس دن تک جس کی میعاد ہمیں معلوم ہے۔ اس نے کہا پس تیری عزت کی قسم میں ان سب کو ضرور بہکاؤں گا۔ ماسوا ان کے جو تیرے پر خلوص بندے ہیں۔ فرمایا یہ حق ہے اور میں حق ہی فرماتا ہوں۔ میں تجھ سے اور تیرے سب پیروکاروں سے جہنم بھردوں گا “۔ قرآن مجید میں اتنا طویل کلام کسی نبی کے ساتھ مذکور نہیں ہے۔ اس وجہ سے یہ اعتراض ہوتا ہے کہ اگر اللہ کے ساتھ ہم کلام ہونے سے کوئی شرف اور مقام حاصل ہوتا ہے تو ازروئے قرآن زیادہ شرف اور مقام تو ابلیس لعین کو حاصل ہوگیا اس کے دو جواب ہیں۔ پہلا جوا یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے اللہ تعالیٰ نے جو کلام فرمایا تھا وہ براہ راست کلام فرمایا تھا اور ابلیس لعین سے فرشتوں کی وساطت سے کلام فرمایا تھا۔ اور دوسرا جواب یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے بہ طور انعام اور اکرام کلام فرمایا تھا اور ابلیس لعین سے بہ طور اہانت کلام فرمایا۔ 

ابلیس کو جنت سے اترنے کا حکم دیا گیا تھا یا آسمان سے !:

اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ” یہاں سے اتر “۔ امام ابو جعفر محمد بن جریر طبری نے لکھا ہے : اس کا معنی یہ ہے کہ جنت سے اتر جا۔ کیونکہ اللہ کے حکم کے مقابلہ میں تکبر کرنے والا یہاں نہیں رہتا۔ (جامع البیان، جز 8، ص 174، مطبوعہ دار الفکر) 

امام فخر الدین محمد بن عمر رازی نے حضرت ابن عباس (رض) سے نقل کیا ہے کہ ابلیس جنت عدن میں رہتا تھا۔ حضرت آدم (علیہ السلام) کو اسی جنت میں پیدا کیا گیا تھا اور ابلیس کو اسی جنت سے نکلنے کا حکم دیا گیا تھا۔ (تفسیر کبیر، ج 5، ص 210، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی، بیروت) 

اور علامہ ابوعبداللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی (668 ھ) لکھتے ہیں : ایک تفسیہ ہے کہ تو آسمان سے اتر جا کیونکہ آسمان رہنے والے وہ فرشتے ہیں جو متواضع ہیں۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ تو اپنی موجودہ صورت سے دوسری صورت میں منتقل ہو کیونکہ تو نے آگ کی صورت پر فخر اور تکبر کیا سو اس کی صورت تاریک اور سیاہ بنادی گئی اور اس کی روشنی اور چمک زائل ہوگئی۔ تیسری تفسیر یہ ہے کہ زمین سے سمندروں کے جزیروں کی طرف منتقل ہوجا اور اب وہ زمین میں صرف اس طرح داخل ہوسکے گا جس طرح چور داخل ہوتے ہیں۔ تاہم ہپلی تفسیر راجح ہے۔ (الجامع لاحکام القرآن، جز 7، ص 156، مطبوعہ دار الفکر، 1415 ھ) 

شیخ اشرف علی تھانوی متوفی 1364 ھ اور مفتی محمد شفیع دیوبندی متوفی 1396 ھ نے اسی تفسیر کو اختیار کیا ہے۔ چناچہ شیخ تھانوی نے لکھا ہے تو آسمان سے نیچے اتر، تجھ کو کوئی حق حاصل نہیں کہ تو تکبر کرے (خاص کر) آسمان میں رہ کر۔ (بیان القرآن، ج 1، ص 315، مطبوعہ تاج کمپنی لاہور، معارف القرآن، ج 3، ص 526، مطبوعہ ادارۃ المعارف، کراچی، 1993 ء) 

علامہ قرطبی، شیخ تھانوی اور مفتی محمد شفیع نے جس تفسیر پر اعتماد کیا ہے کہ شیطان کو اللہ تعالیٰ نے آسمان سے اترنے کا حکم دیا تھا یہ معتزلہ کے مذہب کے مطابق ہے۔ کیونکہ معتزلہ اس کے قائل نہیں ہیں کہ جنت بنی ہوئی ہے اور حضرت آدم کا پتلا جنت میں تیار کیا گیا اور ابلیس جنت میں رہتا تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ جنت کا ابھی بنانا عبث ہے۔ جنت کو قیامت کے بعد بنایا جائے گا۔ اس لیے امام رازی نے لکھا ہے کہ بعض معتزلہ نے کہا کہ ابلیس کو آسمان سے اترنے کا حکم دیا گیا تھا۔ (تفسیر کبیر، ج 5، ص 210، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی، بیروت، 1415 ھ) 

امام رازی نے بعض معتزلہ فرمایا ہے، کیونکہ اکثر معتزلہ بھی اس کے قائل ہیں کہ جنت بنائی جا چکی ہے اور ابلیس کو جنت سے نکالا گیا تھا۔ مشہور معتزلی مفسر جار اللہ زمخشری متوفی 528 ھ نے اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ابلیس کو آسمان سے اترنے کا حکم دیا (کشاف، ج 2 ص 90) اور ایک دوسرے معتزلی مفسر قاضی ابو محمد عبدالحق بن غالب بن عطیہ اندلسی متوفی 546 ھ نے لکھا ہے اس کو جنت سے اترنے کا حکم دیا گیا تھا۔ (المحرر الوجیز، ج 7، ص 19، مطبوعہ مکتبہ تجاریہ، مکہ مکرمہ) 

تواضع کرنے والے کے لیے سربلندی اور تکبر کرنے والے کے لیے ذلت اور پستی : اس آیت میں مذکور ہے کہ ابلیس نے تکبر کیا اور اپنے آپ کو حضرت آدم سے بڑا اور اچھا سمجھا تو اللہ تعالیٰ نے اس کو جنت سے نکال دیا اور فرمایا تو ذلیل ہونے والوں میں سے ہے اور اس کے بعد کی آیت میں مذکور ہے کہ حضرت آدم نے (باوجود بھولے سے شجر ممنوع سے کھانے کے فعل پر) توبہ اور استغفار سے کام لیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کے سر پر تاج کرامت رکھا اور زمین کی خلافت انہیں سونپ دی اور ان کو اپنا نائب بنایا۔ اس سے معلوم ہوا کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کے سامنے تواضع کرے، اللہ تعالیٰ اس کو بلند کرتا ہے اور جو تکبر کرے اور بڑا بنے تو اللہ تعالیٰ اس کو رسوا اور ذلیل کرتا ہے۔ 

حضرت عیاض بن حمار رضٰ اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے میری طرف وحی فرمائی ہے کہ ایک دوسرے کے ساتھ تواضع کرو۔ حتی کہ کوئی شخص دوسرے پر فخر نہ کرے۔ اور کوئی شخص کسی کے خلاف بغاوت نہ کرے۔ (صحیح مسلم، صفۃ الجنہ : 64، (2865) 7074 ۔ سنن ابو داود، ج 4، رقم الحدیث 4895، سنن ابن ماجہ، ج 2 رقم الحدیث : 4214) ۔

حضرت ابوسعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص اللہ سبحانہ کے لیے ایک درجہ تواضع کرتا ہے، اللہ اس کا ایک درجہ بلند فرماتا ہے، اور جو شخص اللہ کے سامنے ایک درجہ تکبر کرتا ہے اللہ اس کو ایک درجہ پست کردیتا ہے حتی کہ اللہ تعالیٰ اس کو سب سے نچلے طبقہ میں کردیتا ہے۔ (سنن ابن ماجہ، ج 2، رقم الحدیث : 4176، تہذیب تاریخ دمشق، ج 4، دار احیاء التراث العربی، بیروت، 1407 ھ) 

عایش بن ربیعہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن الخطاب (رض) نے منبر پر فرمایا : اے لوگو ! تواضع کرو، کیونکہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو اللہ کے لیے تواضع کرتا ہے، اللہ اس کو سربلند کرتا ہے، اور فرماتا ہے سربلند ہو اللہ تجھے سربلند کرے۔ وہ خود اپنے آپ کو حقیر سمجھتا ہے، اور لوگوں کے نزدیک بہت عظیم ہوتا ہے۔ اور جو شخص تکبر کرتا ہے، اللہ اس کو ہلاک کردیتا ہے اور فرماتا ہے : دفع ہو، وہ خود اپنے آپ کو بڑا سمجھتا ہے اور لوگوں کی نگاہوں میں بہت چھوٹا ہوتا ہے۔ (المجعم الاوسط، ج 9 ۔ رق، ا ؛ ضدہث ” 8303، مطبوعہ مکتبہ المعارف، الریاض، 1415 ھ)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے اپنے مسلمان بھائی کے لیے تواضع کی، اللہ اس کو سربلند کرتا ہے اور جس نے اس پر بڑائی ظاہر کی، اللہ اس کو پست کردیتا ہے۔ (المعجم الاوسط، ج 8، رقم الحدیث : 7707 ۔ الترغیب والترھیب، ج 3، ص 535 ۔ مجمع الزوائد، ج 8، ص 83)

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : (اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے) جس نے میرے لیے اس طرح تواضع کی یہ فرما کر آپ نے اپنی ہتھیلی سے زمین کی طرف اشارہ کیا، میں اس کو اس طرح بلند کرتا ہوں۔ یہ فرما کر آپ نے اپنی ہتھیلی سے آسمان کی طرف اشارہ کیا۔ (المجعم الصگیر، رقم الحدیث : 645 ۔ مجمع الزوائد، ج 8، ص 82، طبع قدیم، مجمع الزوائد، ج 8، ص 157، 156، طبع جدید)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 7 الأعراف آیت نمبر 13