حدیث نمبر :619

روایت ہے حضرت عمرسے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مؤذن کہے اﷲ اکبر اﷲ اکبر تم میں سے کوئی کہے اﷲ اکبر اﷲ اکبر پھر مؤذن کہے اشھدان لا الہ الا اﷲ یہ بھی کہے اشہدان لا الہ الا اﷲ پھر مؤذن کہے اشہدان محمد ارسول اﷲ یہ بھی کہے اشہدان محمد ارسول اﷲ پھر مؤذن کہے حی علی الصلوۃ یہ کہے لا حول ولا قوۃ الا باﷲ پھر مؤذن کہے حی علی الفلاح یہ کہے لا حول ولا قوۃ الا باﷲ ۱؎ پھر مؤذن کہے اﷲ اکبر اﷲ اکبر تو یہ بھی کہے اﷲ اکبر اﷲ اکبر پھر مؤذن کہے لا الہ الا اﷲ تو یہ صدق دل سے کہے لا الہ الا اﷲ جنت میں جائے گا۲؎ (مسلم)

شرح

۱؎ ظاہر یہ ہے کہ مؤذن سے مرادنماز کے لیے اذان دینے والاہے کیونکہ دوسری اذانوں کا جواب دینا سنت سے ثابت نہیں۔اَحَدُکُمْ سے مراد ہروہ مسلمان ہے جوجواب اذان دینے پرقادرہو،لہذا ا س سے نماز پڑھنے والا،استنجا کرنے والا وغیرہ علیحدہ ہیں۔بہتریہ ہے کہ جواب دینے والا”حَیَّ عَلَی الصَّلوٰۃ،حَیَّ عَلَی الْفَلَاحْ”بھی کہے اور لاحول بھی پڑھے تاکہ اس حدیث پربھی عمل ہوجائے اورگزشتہ پربھی۔اس وقت لاحول پڑھنا اس لیے ہے تاکہ شیطان دور رہے اورنمازکی حاضری آسان ہو۔

۲؎ ظاہر یہ ہے کہ مِن قلبہٖ کاتعلق سارے جواب سے ہے،یعنی اذان کا پورا جواب سچے دل سے دے کیونکہ بغیراخلاص کوئی عبادت قبول نہیں۔اگر جنت سے وہی جنت مراد ہے جو قیامت کے بعد ملے گی تو دَخَلَ بمعنی مستقبل ہے اوراگر جنت سے مراد دنیا کی جنت ہے،یعنی عبادات کی توفیق،اچھی زندگی تو دَخَلَ ماضی کے معنی میں ہے،رب فرماتا ہے:”وَ لِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ جَنَّتَانِ”یعنی اﷲ سے ڈرنے والے کے لئے دو جنتیں ہیں:ایک دنیا میں،ایک آخرت میں۔(مرقاۃ)