حوالوں کی کثرت

یہاں تک تو چند نمونے احادیث کی کثرت سے متعلق تھے اب ملاحظہ فرمائیں کہ امام احمد رضا محدث بریلوی جب کوئی حدیث نقل فرماتے ہیں تو ان کی نظر اتنی وسیع وعمیق ہوتی ہے کہ بسا اوقات وہ کسی ایک کتاب پر اکتفاء نہیں کرتے بلکہ پانچ ، دس اور بیس بیس کتابوں کے حوالے دیتے جاتے ہیں ۔ ایسا معلوم ہوتاہے کہ تمام کتابیں اس موضوع پر ان کے سامنے کھلی رکھی ہیں اور سب کے نام لکھتے جارہے ہیں ، ساتھ ہی یہ بھی بتاتے جاتے ہیں کہ کس محدث نے کس صحابی سے روایت کی مثلا ً۔

الامن والعلی میں ص۷۰ پر ایک حدیث تحریر فرمائی۔

اطلبو االخیر والحوائج من حسان الوجوہ۔

یعنی بھلائی اور اپنی حاجتیں خوش رویوں سے مانگو۔

٭ رواہ الطبرانی فی الکبیر والعقیلی والخطیب وتمام الرازی فی فوائد ہ والبیہقی فی شعب الایمان عن ابن عباس ۔

٭ وابن ابی الدنیا فی قضاء الحوائج والعقیلی والدار قطنی فی الافراد والطبرانی فی الاوسط وتمام والخطیب فی رواۃ مالک عن ابی ہریرہ ۔

٭ وابن عساکر والخطیب فی تاریخھا عن انس ابن مالک ۔

٭ والطبرانی فی الاوسط والعقیلی والخرائطی فی اعتلاء القلوب وتمام وابو سہل وعبدالصمد بن عبدالرحمن البزار فی جزء ہ وصاحب المہرانیات فیہا عن جابر ابن عبداللہ ۔

٭ وعبدبن حمید فی مسند وابن حبان فی الضعفاء وابن عدی فی الکامل والسلفی فی الطیوریات عن ابن عمر ۔

٭ وابن النجار فی تاریخہ عن امیر المومنین علی ۔

٭ والطبرانی فی الکبیر عن ابی خصیفہ ۔

٭ وتمام عن ابی بکرہ ۔

٭ والبخاری فی التاریخ وابن ابی الدنیا فی قضاء الحوائج وابو یعلی فی مسندہ والطبرانی فی الکبیروالعقیلی والبیہقی فی شعب الایمان وابن عساکر عن ام المومنین الصدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین ۔

یہ تو صحابہ کرام کی روایت ۳۴؍ کتابوں سے نقل فرمائی۔

اسی کتاب کے ص ۷۳؍ پر ایک حد یث یو ں ہے ۔

اللہم اعز الاسلام باحب ھٰذین الرجلین الیک بعمر بن الخطاب اوبابی جہل بن ہشام۔

الٰہی اسلام کو عزت دے ان دونوں مردوں میں جو تجھے زیادہ پیارا ہو اسکے ذریعہ سے یا عمر ابن خطاب یا ابو جہل بن ہشام ۔

٭ رواہ احمد وعبد بن حمید والترمذی بسند حسن وصحیح عن امیر المومنین عمر بن خطاب وانس ایضاً

٭ وابن سعد وابو یعلی وحسن بن سفیان فی فوائد ہ والبزار وابن مردویہ وخیثمہ بن سلیمان فی فضائل الصحابہ وابو نعیم والبیہقی فی دلائلھما وابن عساکر کلھم عن امیر المومنین عمر ۔

٭ والترمذی عن انس ۔

٭ والنسائی عن ابن عمر ۔

٭ احمد وابن حمید وابن عساکر عن خباب بن الارث ۔

٭ والطبرانی فی الکبیر والحاکم عن عبداللہ ابن مسعود ۔

٭ والترمذی والطبرانی وابن عساکر عن ابن عباس ۔

٭ والبغوی فی الجعد یات عن ربیعۃ السعدی رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین ۔

یہ دس صحابہ کرام کی روایت ۲۳؍ کتب حدیث سے نقل فرمائی ۔

اسی کتاب الامن والعلی میں ۱۲۹؍ پر ایک حدیث نقل فرمائی۔

انا محمدواحمد والمقفی والحاشر ونبی التوبہ ونبی الرحمۃ ۔

میں محمد ہوں اور احمد اور سب نبیوں کے بعد آنے والا اور خلائق کو حشر دینے والا اورتوبہ کا نبی اور رحمت کا نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ۔

٭ رواہ احمد ومسلم والطبرانی فی الکبیر عن ابی موسی الاشعری ۔

٭ ونحوہ وابنا سعدوابی شیبہ والبخاری فی التاریخ والترمذی فی الشمائل عن حذیفہ۔

٭ وابن مردویہ فی اتتفسیر وابو نعیم فی الدلائل وابن عدی فی الکامل وابن عساکر فی تاریخ دمشق والدیلمی فی مسند الفردوس عن ابی الطفیل ۔

٭ وابن عدی عن ابی ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم

یہ چار صحابہ کرام کی روایت ۱۴؍ کتابوں سے نقل فرمائی ۔

جزاء اللہ عدوہ میں ۴۶؍پر ایک حدیث نقل فرمائی ۔

اما ترضی ان تکون منی منزلۃ ہارون من موسی غیر انہ لانبی بعدی ۔

اے علی ! کیا تم اس پر راضی نہیں کہ تم یہاں میری نیابت میں ایسے رہو جیسے موسی علیہ الصلوۃ والسلام جب اپنے رب سے کلام کیلئے حاضر ہوئے ہارون علیہ الصلوۃ والسلام کو اپنی نیابت میں چھوڑ گئے تھے ، ہاں فرق یہ ہے کہ ہارون نبی تھے ، میں جب سے مبعوث ہوا دوسرے کیلئے نبوت نہیں ۔

٭ رواہ احمد والبخاری ومسلم والترمذی والنسائی وابن ماجہ وابن ابی شیبہ والسنن لابن جریر عن سعد بن ابی وقاص ۔

٭ وحاکم والطبرانی وابوبکر وابن مردویہ والبزار وابن عساکر عن علی ۔

٭ واحمد والبزار والطبرانی والمطیری عن ابی سعید الخدری ۔

٭ والترمذی عن جابر بن عبداللہ وعن ابی ہریرۃ۔

٭ والطبرانی والخطیب عن عبداللہ بن عمر ۔

٭ وابو نعیم عن سعیدبن زید ۔

٭ والطبرانی عن البراء بن عازب وزید بن ارقم وحبیش بن جنادہ وجابر بن سمرہ ومالک بن حویرث ۔

٭ وام المومنین ام سلمۃواسماء بنت عمیس رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین

یہ چودہ صحابہ کرام کی روایت ۱۸؍ کتابوں سے نقل فرمائی ۔

’راد القحط والوباء ‘‘ میں صفحہ ۱۲؍ پر ایک حدیث نقل فرمائی ۔

الدرجات افشاء السلام واطعام الطعام والصلوۃ باللیل والناس ینام ۔

اللہ عزوجل کے یہاں درجہ بلند کرنے والے ہیں سلام کا پھیلانا ، ہر طرح کے لوگوں کو کھانا کھلانا اور رات کو لوگوں کے سوتے میں نمازیں پڑھنا ۔

٭ رواہ امام الائمہ ابو حنیفہ والامام احمد وعبدالرزاق فی مصنفہ والترمذی والطبرانی عن ابن عباس ۔

٭ واحمد والطبرانی وابن مردویہ عن معاذ بن جبل ۔

٭ وابن خزیمہ والدارمی والبغوی وابن السکن وابو نعیم وابن بسطۃ عن عبد الرحمن بن عائش۔

٭ واحمد والطبرانی عنہ عن صحابی ۔

٭ والبزار عن ابن عمر و ثوبان ۔

٭ والطبرانی عن ابی امامہ ۔

٭ وابن قانع عن ابی عبیدۃابن الجراح ۔

٭ والدارمی وابوبکر النیساپوری فی الزیادات عن انس ۔

٭ وابو الفرح فی العلل تعلیقا عن ابی ہریرۃ ۔

٭ وابن ابی شیبہ مرسلا عن عبدالرحمن بن سابط ، رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین ۔

یہ دس صحابہ کرام اور ایک تابعی کی روایت ۲۳؍ کتابوں سے نقل فرمائی ۔

فتاوی رضویہ نہم رسالہ ’’ عطایا القدیر ‘‘ میں صفحہ ۴۷ حصہ دوم پر ایک حدیث نقل فرمائی ۔

لاتد خل الملئکۃ بیتا فیہ کلب ولا صورۃ ۔

رحمت کے فرشتے اس گھر میں نہیں آتے جس میں کتا یا تصویر ہو ۔

٭ رواہ الائمۃ احمد والسنۃ والطحاوی عن ابی طلحہ ۔

٭ والبخاری والطحاوی عن ابن عمر و عن ابن عباس ۔

٭ ومسلم وابودائود والنسائی والطحاوی عن ام المومنین میمونہ ۔

٭ ومسلم وابن ماجہ والطحاوی عن ام المومنین الصدیقہ ۔

٭ واحمد ومسلم والنسائی والطحاوی وابن حبان عن ابی ہریرہ ۔

٭ والامام احمد والدارمی وسعید بن منصور وابودائود والنسائی وابن ماجہ ابن خزیمہ وابو یعلی والطحاوی وابن حبان والضیاء والشاشی وابونعیم فی الحلیۃ عن امیر المومنین علی ۔

٭ والاما م مالک فی الموطا والترمذی والطحاوی عن ابی سعید الخدری ۔

٭ واحمد والطحاوی والطبرانی فی الکبیر عن اسامہ بن یزید ۔

٭ والطحاوی والحاوی عن ابی ایوب الانصاری ،رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین ۔

یہ دس صحابہ کرام کی روایت ۴۳؍ کتابوں سے نقل فرمائی ۔

 فتاوی رضویہ جلد سوم میں صفحہ ۳۲۶؍ پر ایک حدیث نقل فرماتے ہیں ۔

قل ھو اللہ تعدل ثلث القرآن :

’’ قل ہواللہ احد‘‘پوری سورت مبارکہ کی تلاوت کا ثواب تہائی قرآن کے برابر ہے ۔

٭ رواہ الامام مالک واحمد والبخاری وابودائود والنسائی عن ابی سعید الخدری ۔

٭ والبخاری عن قتادہ بن النعمان ۔

٭ واحمد ومسلم عن ابی الدرداء ۔

٭ ومالک واحمد ومسلم والترمذی والنسائی وابن ماجہ والحاکم عن ابی ہریرہ ۔

٭ واحمد والترمذی والنسائی عن ابی ایوب الانصاری ۔

٭ والترمذی وابن ماجہ عن انس ابن مالک ۔

٭ واحمد وابن ماجہ عن ابی مسعود البدری ۔

٭ والطبرانی فی الکبیر عن عبداللہ بن مسعود ۔

٭ والطبرانی فی الکبیر والحاکم وابو نعیم فی الحلیہ عن عبد اللہ بن عمرو ۔

٭ والطبرانی فی الکبیر عن معاذ بن جبل

٭ والبزار عن جابر بن عبداللہ ۔

٭ وابوعبید عن عبداللہ بن عباس ۔

٭ واحمد عن ام مکتوم بنت عقبہ ۔

٭ والبیہقی فی السنن عن رجاء الغنوی رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین ۔

یہ کل پندرہ صحابۂ کرام کی روایت ۳۴؍ کتابوں سے نقل فرمائی۔

یہ چند اور اس طرح کی سیکڑوں مثالیں امام احمد رضامحد ث بریلوی کی وسعت مطالعہ پر اور عمیق نظری کا جیتا جاگتا ثبوت ہیں ۔

زکوۃ کا مال سادات کرام اورتمام بنی ہاشم کیلئے حرام قطعی ہے جسکی حرمت پر ائمۂ مذاہب کا اجماع ہے، اس مسئلہ سے متعلق امام احمد رضا محدث بریلوی سے سوال ہوا ، آپ نے اسکی حرمت پر تحقیق کے دریا بہائے اور مندرجہ ذیل کتب احادیث اور راوی کا نشان دیا ۔

٭ سیدنا حضرت امام حسن مجتبی رضی اللہ تعالیٰ عنہ

روی عنہ احمد والبخاری ومسلم ۔

٭ سیدنا حضرت امام حسین عالی مقام رضی اللہ تعالیٰ عنہ

روی عنہ احمد وابن حبان برجال ثقات۔

٭ سیدنا حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما

روی عنہ الطحاوی والحاکم وابو نعیم وابن سعد فی الطبقات وابو عبید القاسم بن سلام فی کتاب الاموال وروی عنہ الطحاوی حدیثاآخر وروی عنہ الطبرانی حدیثا ثالثا۔

٭ حضرت عبدالمطلب بن ربیعہ بن حارث بن عبدالمطلب رضی اللہ تعالیٰ عنہ

روی عنہ احمد ومسلم والنسائی۔

٭ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ

روی عنہ ابن حبان والطحاوی والحاکم وابونعیم۔

٭ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ

روی عنہ الشیخان ۔

وروی عنہ الطحاوی حدیثین آخر۔

٭ حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ

روی عنہ البخاری ومسلم ۔

وروی عنہ الطحاوی حدیثا آخر۔

٭ حضرت معاویہ بن حیدہ قشیری رضی اللہ تعالیٰ عنہ

روی عنہ الترمذی والنسائی۔

وروی عنہ الطحاوی حدیثا آخر۔

٭ حضرت ابو رافع مولی رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ۔

روی عنہ احمد وابو دائود والترمذی والنسائی والطحاوی وابن حبان وابن خزیمہ والحاکم ۔

٭ حضرت ہرمز یاکیسان مولی رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ۔

روی عنہ احمد والطحاوی۔

٭ حضرت بریدہ اسلمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ

روی عنہ اسحاق بن راہویہ وابو یعلی الموصلی والطحاوی والبزار والطبرانی والحاکم ۔

٭ حضرت ابو یعلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ۔

روی عنہ الطحاوی ۔

٭ حضرت ابو عمیرہ رشید بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ

روی عنہ الطحاوی۔

٭ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما

علق عنہ الترمذی۔

٭ حضرت عبدالرحمن بن علقمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ یقال صحابی

علق عنہ الترمذی۔

٭ حضرت عبدالرحمن بن ابی عقیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ

علق عنہ الترمذی۔

٭ ام المومنین حضرت صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا

روی عنہا الستۃ۔

٭ ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا

روی عنہا الطحاوی۔

٭ ام المومنین حضرت جویریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا

روی عنہا احمد ومسلم۔

٭ حضرت ام عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا

یہ بیس صحابہ کرام اور اور صحابیات سے مروی پچیس احادیث ہیں جنکو پندرہ کتب احادیث سے نقل فرمایا۔

 الامن والعلی ۱۰۹ ؍ پر ایک حدیث ہے جس میں حضرت عبداللہ بن اعور مازنی اعشی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بارگاہ رسالت میں قصیدہ پڑھنا مذکور ہے جس کا پہلا مصرع ہے ۔

یامالک الناس ودیان العرب ۔

اس واقعہ کو نقل فرماکر امام احمد رضا قدس سرہ فرماتے ہیں ۔کہ اس واقعہ اور حدیث کو مندرجہ ذیل سندوں سے کیا گیا ہے۔

الامام احمد حدثنا محمد بن ابی بکرالمقدسی ،ثنا ابو معشر البراء ، ثنی صدقہ بن طینۃ ،ثنی معن بن ثعلبۃ المازنی و الحی بعدہ، ثنی الاعشی المازی

رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال اتیت النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم الحدیث ۔

و رواہ الامام اجل ابو جعفر الطحاوی فی معانی الاثار حدثنا ابن ابی

داؤد ثنا المقدمی ثنا ابو معشر الی آخرہ نحوہ سند ا و متنا ۔

و رواہ ابن عبد اللہ ابن الامام فی زوائد مسندہ من طریق عوف بن کہمس بن الحسن عن صدقۃ بن طیسنۃ حدثنی معن بن ثعلبۃ المازنی و الحی بعدہ قالواحدثنا الاعشی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فذکرہ، قلت و الیہ اعنی عبد اللہ عزاہ حافظ الشان فی الاصابۃ انہ رواہ فی الزوائد ، و العبد الضعیف غفر اللہ تعالیٰ

لہ قدراہ فی المسند نفسہ ایضاًکماسمعت و للہ الحمد ۔

و رواہ البغوی و ابن السکن و ابن ابی عاصم کلہم من اطریق الجنید بن امین بن عروۃ بن نضلۃ بن طریق بن بہصل الحرمازی عن ابیہ عن جدہ نضلۃ ۔

و لفظ اللبغوی عنہ حدثنی ابی امین حدثنی ابی ذروۃ عن ابیہ نضلۃ عن رجل منہم یقال لہ الاعشی و اسمہ عبد اللہ بن الاعور رضی اللہ تعالیٰ عنہ فذکر القصۃ و فیہ فخرج حتی اتی النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فعاذبہ وانشأ یقول : یا مالک الناس و دیان العرب ، الحدیث،

یہ حدیث جلیل اتنے ائمہ کبار نے باسانید متعددہ روایت کی اور طریق اخیر میں یہ لفظ ہیں کہ اعشی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی پناہ لی ، اور عرض کی کہ اے

مالک آدمیاں ، واے جزاو سزادہ عرب صلی اللہ تعالی علیہ وسلم۔

الامن و العلی ص ۱۰۹