أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَوَسۡوَسَ لَهُمَا الشَّيۡطٰنُ لِيُبۡدِىَ لَهُمَا مَا وٗرِىَ عَنۡهُمَا مِنۡ سَوۡاٰتِهِمَا وَقَالَ مَا نَهٰٮكُمَا رَبُّكُمَا عَنۡ هٰذِهِ الشَّجَرَةِ اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَا مَلَـكَيۡنِ اَوۡ تَكُوۡنَا مِنَ الۡخٰلِدِيۡنَ ۞

ترجمہ:

پھر دونوں کے دلوں میں شیطان نے وسوسہ ڈالا، تاکہ (انجامِ کار) ان دونوں کی و شرم گاہیں ان سے چھپائی ہوئی تھیں ان کو ظاہر کردے اور اس نے کہا تمہارے رب نے اس درخت سے تم کو صرف اس لیے روکا ہے کہ کہیں تم فرشتے بن جاؤ، یا ہمیشہ رہنے والوں میں سے ہوجاؤ

تفسیر:

تفسیر آیات 20 تا 25: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ” پھر دونوں کے دلوں میں شیطان نے وسوسہ ڈالا، تاکہ (انجامِ کار) ان دونوں کی و شرم گاہیں ان سے چھپائی ہوئی تھیں ان کو ظاہر کردے اور اس نے کہا تمہارے رب نے اس درخت سے تم کو صرف اس لیے روکا ہے کہ کہیں تم فرشتے بن جاؤ، یا ہمیشہ رہنے والوں میں سے ہوجاؤ۔ اور اس نے ان سے قسم کھا کر کہا بیشک میں تم دونوں کا خیر خواہ ہوں۔ پھر فریب سے انہیں (اپنی طرف) جھکا لیا پس جب انہوں نے اس درخت سے چکھا تو ان کی شرمگاہیں ان کے لیے ظاہر ہوگئیں اور وہ اپنے اوپر جنت کے پتے جوڑنے لگے، اور ان کے رب نے ان سے پکار کر فرمایا : کیا میں نے تم دونوں کو اس درخت سے منع نہیں کیا تھا ؟ اور تم دونوں سے یہ نہ فرمایا تھا کہ بیشک شیطان تمہارا کھلا ہوا دشمن ہے۔ دونوں نے عرض کیا اے ہمارے رب ہم نے اپنی جانوں پر زیادتی کی اور اگر تو ہمیں نہ بخشے اور ہم پر رحم نہ فرمائے تو ہم ضرور نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوجائیں گے۔ فرمایا اترو، تم میں سے بعض، بعض کے دشمن ہیں، اور تمہارے لیے زمین میں ٹھیرنے کی جگہ ہے اور ایک مدت تک فائدہ اٹھانا ہے۔ فرمایا تم اسی زمین میں زندگی گزاروگے، اور اسی زمین میں مروگے اور اسی زمین سے (قیامت کے دن) نکالے جاؤگے (الاعراف : 20 ۔ 25)

ابلیس کی وسوسہ اندازی، حضرت آدم کا زمین پر آنا اور توبہ کرنا : اس جگہ یہ سوال ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) جنت میں تھے اور ابلیس لعین کو جنت سے نکال دیا گیا تھا تو اس نے حضرت آدم (علیہ السلام) اور حضرت حوا کے دلوں میں وسوسہ کس طرح ڈالا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ وسہ ڈالنے کے لیے دونوں کا ایک جگہ پر ہونا ضروری نہیں ہے۔ ابلیس زمین پر رہتے ہوئے آسمان اور جنت میں رہنے والوں کے دلوں میں وسوسہ اندازی کرسکتا ہے۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) اور حضرت حوا جنت کے دروازے کے قریب کھڑے تھے اور ابلیس لعین جنت کے دروازہ پر کھڑا تھا اور اس نے وہاں سے وسوسہ ڈالا اور تیسرا جواب ایک ضعیف روایت پر مبنی ہے۔ یہ وہب بن منبہ کی روایت ہے۔ جس کو امام عبدالرزاق نے اپنی سند کے ساتھ ذکر کیا ہے اور امام ابن جریر، علامہ قرطبی اور حافظ ابن کثیر نے اس کو اپنی اپنی تفاسیر میں درج کیا ہے اور دوسرے مفسرین نے بھی اس کا حوالہ دیا ہے : ” امام عبدالرزاق بن ہمام متوفی 211 ھ اپنی سند کے ساتھ وہب بن منبہ سے روایت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) اور ان کی زوجہ کو جنت میں رکھا اور ان کو اس درخت سے منع کیا، اس درخت کی شاخیں بہت گھنی تھیں اور فرشتے اپنے دوام اور خلود کے لیے اس درخت سے کھاتے تھے جب ابلیس لعین نے ان کو ورغلانے کا ارادہ کیا تو سانپ کے پیٹ میں داخل ہوگیا۔ اس وقت اونٹ کی طرح سانپ کی چار ٹانگیں تھیں اور وہ اللہ کی مخلوق میں بہت حسین جانور تھا۔ سانپ جنت میں داخل ہوا تو ابلیس اس کے پیٹ سے نکل آیا اور اس نے اس ممنوع درخت سے پھل توڑا اور اس کو حضرت حوا کے پاس لے کر آیا اور ان سے کہا دیکھو یہ کیسے درخت کا پھل ہے۔ اس کی خوشبو کیسی عمدہ ہے۔ اس کا کتنا لذیذ ذائقہ ہے اور کتنا حسین رنگ ہے۔ حضرت حواء نے اس درخت سے کھالیا۔ پھر اس کو حضرت آدم کے پاس لے کر گئیں اور کہا دیکھیں اس کی کتنی نفیس خوشبو ہے، کتنا لذیذ ذائقہ ہے اور کتنا حسین رنگ ہے۔ حضرت آدم نے بھی اس سے کھالیا۔ پھر ان دونوں کی شرم گاہیں ظاہر ہوگئیں۔ پھر حضرت آدم (شرم سے) درخت (کی گھنی شاخوں) میں داخل ہوگئے تو ان کو ان کے رب نے ندا فرمائی اے آدم ! تم کہاں ہو ؟ انہوں نے کہا : اے رب ! میں یہاں ہوں۔ فرمایا تم اس سے باہر نہیں آتے ؟ عرض کیا : اے رب مجھے تجھ سے حیا آتی ہے ! پھر حوا سے فرمایا : تم نے میرے بندہ کو دھوکا دیا ! تم کو جب بھی حمل ہوگا تو تم کو تکلیف ہوگی، اور جب بھی وضع حمل کا وقت آئے گا تو تمہیں موت کا مزہ آجائے گا ! اور سانپ سے فرمایا تم اس معلون کو اپنے پیٹ میں داخل کرکے لے گئے جس نے مییرے بندہ کو دھوکا دیا، اب تم پیٹ کے بل چلتے رہو گے اور تمہارا رزق صرف مٹی ہوگا، تم بنوآدم کے دشمن رہوگے اور بنو آدم تمہارے دشمن ہوں گے۔ تم ان کو ڈسنے کی کوشش کروگے اور وہ تم کو پتھروں اور لاٹھیوں سے ہلاک کرنے کی کوشش کریں گے۔ وہب سے کسی نے پوچھا کیا فرشتے بھی کھاتے ہیں ؟ انہوں نے کہا اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے کرتا ہے ” (تفسیر عبدالرزاق، ج 1، ص 316، مطبوعہ دار المعرفہ، بیروت، 1411 ھ۔ جامع البیان، ج 1، ص 336 ۔ 337، دار الفکر بیروت، 1415 ھ۔ الجامع لاحکام القرآن، ج 1، ص 1294 ۔ 295 ۔ دار الفکر بیروت، 1415 ھ)

امام ابوجعفر محمد بن جریر طبری متوفی 310 ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں : حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ وہ درخت جس سے اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم اور ان کی زوجہ کو منع فرمایا تھا، گندم کا تھا۔ جب ان دونوں نے اس درخت سے کھایا تو ان کی شرم گاہیں ظاہر ہوگئیں۔ وہ ان کو جنت کے پتوں سے چھپانے لگے۔ وہ انجیر کے درخت کے پتے تھے جو ایک دوسرے سے چمٹے ہوئے تھے۔ حضرت آدم پیٹھ موڑ کر جنت کی طرف چل دیے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ندا فرمائی : اے آدم ! کیا تم مجھ سے بھاگ رہے ہو، انہوں نے کہا : نہیں ! اے رب ! لیکن اے رب تیری عزت کی قسم ! مجھے یہ گمان نہ تھا کہ کوئی شخص تیرے نام کی جھوٹی قس کھا سکتا ہے، فرمایا میں تم کو ضرور زمین کی طرف اتاروں گا اور تم کو روزی مشقت سے حاصل ہوگی۔ پھر حضرت آدم اور حضرت حوا کو زمین کی طرف اتارا گیا اور انہیں لوہے کی صنعت کی تعلیم دی اور نہیں کھیتی باڑی کا حکم دیا۔ انہوں نے فصل اگائی اور اس میں پانی دیا۔ پھر فصل پکنے کے بعد دانہ کو کو ٹا اور اس کو بھوسے سے الگ کیا، پھر اس کو پیسا، پھر آٹا گوندھا، پھر روٹی پکائی۔ (جامع البیان، جز 8، ص 187 ۔ 188، مطبوعہ دار الفکر بیروت، 1415 ھ)

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت آدم نے اس درخت سے کھالیا تو ان سے کہا گیا آپ نے اس درخت سے کیوں کھایا ؟ جس سے میں نے آپ کو منع فرمایا تھا۔ انہوں نے کہا : مجھ سے حوا نے کہا تھا۔ فرمایا : میں نے اس کو یہ سزا دی ہے کہ اس کو حمل بھی مشقت سے ہوگا اور وضع حمل بھی مشقت سے ہوگا۔ اس وقت حوا رونے لگیں۔ ان سے کہا گیا کہ تم اور تمہاری اولاد روتی رہے گی۔ (جامع البیان، جز :8، ص :189، مطبوعہ دار الفکر بیروت، 1415 ھ)

قتادہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت آدم (علیہ السلام) نے عرض کیا : اے میرے رب ! اگر میں تجھ سے توبہ اور استغفار کروں ؟ فرمایا پھر میں تمہیں جنت میں داخل کردوں گا اور رہا ابلیس تو اس نے اللہ تعالیٰ سے توبہ کا سوال نہیں کیا بلکہ مہلت کا سوال کیا تو اللہ تعالیٰ نے ہر ایک کو وہ چیز عطا فرمادی جس کا اس نے سوال کیا تھا۔ 

ضحاک نے بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو جن کلمات کی تلقین کی تھی، وہ یہی تھے ربنا ظلمنا انفسنا وان لم تغفرلنا و ترحمنا لنکونن من الخسرین۔ (جامع البیان، جز :8، ص :190، مطبوعہ دار الفکر بیروت، 1415 ھ)

حضرت آدم کے فرشتہ اور دائمی بننے کی طمع پر اعتراضات اور ان کے جوابات : ایک سوال یہ ہوتا ہے کہ ابلیس لعین نے حضرت آدم (علیہ السلام) کے دل میں فرشتہ بننے کی خواہش کس طرح پیدا کی۔ جبکہ حضرت آدم علیہ السلا دیکھ چکے تھے کہ فرشتوں نے تو حضرت آدم (علیہ السلام) کی فضیلت کا اعتراف کیا تھا اور ان کو سجدہ کیا تھا۔ نیز کیا اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ فرشتے نبی سے افضل ہوتے ہیں ورنہ حضرت آدم فرشتے بننے کی طع میں اس ممنوع درخت سے نہ کھاتے ! 

اس کا جواب یہ ہے کہ بعض اوقات مفضول میں وہ وصف ہوتا ہے جو افضل میں نہیں ہوتا۔ ہوسکتا ہے کہ حضرت آدم فرشتہ اس لیے بننا چاہتے ہوں کہ ان کو بھی فرشتوں کی طرح قدرت اور قوت حاصل ہوجائے یا وہ بھی فرشتوں کی طرح اپنی خلقت میں جوہر نورانی ہوجائیں یا وہ بھی فرشتوں کی طرح عرش اور کرسی کے ساکنین میں سے ہوجائیں !

دوسرا سوال یہ ہے کہ ابلیس لعین نے یہ کہا تھا کہ آپ اس درخت سے کھا کر ہمیشہ رہنے والوں میں سے ہوجائیں گے اور حضرت آدم نے اس کی طمع میں اس درخت سے کھایا۔ اس کا معنی یہ ہے کہ انہوں نے یہ یقیین کرلیا کہ کچھ لوگ ہمیشہ رہنے والے ہیں اور ان پر موت نہیں آئے گی اور اس سے موت اور قیامت کا انکار لازم آتا ہے اور یہ کہ دوام اور خلود تو حشر کے بعد ہوگا۔ حشر سے پہلو خلود کا عقیدہ رکھنا کفر ہے سو موت سے اور قیامت سے پہلے خلود کی طمع کرنا کفر ہے اور اس سے العیاذ باللہ حضرت آدم (علیہ السلام) کا کفر لازم آتا ہے۔ 

اس کا جواب یہ ہے کہ چند لوگوں کے خلود سے قیامت کا انکار لازم نہیں آتا۔ اللہ تعالیٰ خود فرماتا ہے : ” ونفخ فی الصور فصعق من فی السموات ومن فی الارض الا من شاء اللہ : اور صور پھونکا جائے گا تو سب آسمانوں والے اور زمینوں والے بےہوش ہوجائیں گے مگر جنہیں اللہ چاہے گا ” (الزمر :68) ۔

اس اعتراض کا دوسرا جواب یہ ہے کہ خلود کا معنی طویل زمانہ بھی ہوسکتا ہے حضرت آدم (علیہ السلام) نے یہی معنی مراد لیا ہو۔ اور اس کا تیسرا جواب یہ ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) اور حضرت حوا نے یہ یقین نہیں کیا تھا کہ کچھ لوگ ہمیشہ رہنے والے ہیں اور ان پر موت نہیں آئے گی اور نہ یہ ان کا گمان تھا انہوں نے محض وفور شوق سے اس شجر ممنوع سے کھالیا۔ 

آیا شجر ممنوع سے کھانا گناہ تھا ؟ اگر گناہ نہیں تھا تو سزا کیوں ملی ؟ اور آدم و ابلیس کے معرکہ میں کون کامیاب رہا ؟ 

ایک سوال یہ ہے کہ اس درخت سے کھانے کی ممانعت تنزیہاً نہیں تھی، تحریماً تھی۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ تم دونوں نے (قصداً ) اس درخت سے کھایا تو تم ظالموں میں سے ہوجاؤگے اور جس کام کا ارتکاب ظلم ہو وہ گناہ کبیرہ ہوتا ہے۔ اور گناہ کبیرہ عصمت نبوت کے منافی ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ جب ابلیس لعین سے حضرت آدم (علیہ السلام) کا مکالمہ ہوا اور ان کے دل میں اس کو کھانے کا شوق پیدا ہوا تو وفور شوق میں وہ یہ بھول گئے کہ اس سے کھانے کی ممانعت تحریماً تھی اور انہوں نے اپنے اجتہاد سے یہ سمجھا کہ یہ ممانعت تنزیہاً تھی۔ اس لیے آپ کا اس درخت سے کھانا اجتہادی خطا اور نسیان پر مبنی تھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ” ولقد عہدنا الی آدم من قبل فنسی ولم نجد لہ عزما : اور بیشک ہم نے اس سے پہلے آدم سے (اس درخت کے قریب نہ جانے کا) عہد لیا تھا، سو وہ بھول گئے اور ہم نے ان کا (نافرمانی کا) قصد نہ پایا ” (طہ :115) ۔

اور اجتہادی خطا اور نسیان گناہ نہیں ہے۔ لہذا حضرت آدم (علیہ السلام) کی عصمت پر کوئی حرف نہیں آیا، اور ان کا توبہ اور استغفار کرنا ان کی تواضع اور انکسار ہے، اور ان کی ندامت اور شرمندگی اس وجہ سے ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی اس ممانعت کو کیوں بھول گئے، اس کو یاد کیوں نہیں رکھا۔ ہرچند کہ بھول چوک سے بچے رہنا انسان کی قدرت اور اختیار میں نہیں ہے۔ لیکن ان کے بلند مقام کے اعتبار سے وہ یہ سمجھے تھے کہ ایک آن کے لیے بھی اللہ تعالیٰ کے حکم کو یاد نہ رکھنا یا کسی چیز کے شوق سے اس قدر مغلوب ہونا کہ اللہ تعالیٰ کا حکم یاد نہ رہے۔ یہ بھی تقصیر ہے اور وہ اسی بنا پر ندامت اور شرمندگی سے روتے رہے اور اللہ تعالیٰ سے توبہ اور استغفار کرتے رہے۔ تاہم آپ کا یہ فعل گناہ نہیں تھا۔ باقی رہا یہ اعتراض کہ پھر آپ کو سزا کیوں ملی اور کپرے کیوں اتر گئے اور جنت سے کیوں اتارے گئے سو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ اس درخت سے کھانے کا لازمی اثر اور نتیجہ تھا۔ اس کی مثال یہ ہے کہ اگر کوئی شخص بھولے سے زہر کھالے تو ہرچند کہ اس کا یہ فعل گناہ نہیں ہے لیکن زہر کھانے کے بعد لازماً اس کی موت واقع ہوجائے گی کیونکہ زہر کھانے کا لازمی اثر اور نتیجہ موت ہے۔ سو اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اس شجر کو بےلباس ہونے کا سبب بنایا تھا تو خواہ آپ نے بھولے سے اس شجر کو کھایا، لیکن بےلباس ہونے کا لازمی اثر اور انتیجہ اس پر مرتب ہوگیا۔ یہ کوئی سزا نہیں تھی۔ اور رہا جنت سے اتر کر زمین پر آنا تو وہ آپ نے بہرحال زمین پر آنا تھا۔ کیونکہ آپ کو پیدا ہی اس لیے کیا گیا تھا کہ آپ زمین پر اللہ کے خلیفہ اور نائب بنیں، اور یہ نہ کہا جائے کہ اس معرکہ میں ابلیس کامیاب ہوگیا اور آپ ناکام ہوگئے۔ کیونکہ ابلیس تو جنت میں صرف آپ کا عارضی قیام برداشت نہیں کررہا تھا اور آپ زمین پر اس لیے آئے کہ زمین پر اپنی اولاد میں سے اپنے پیروکاروں کو قیامت کے دن دائمی طور پر اپنے ساتھ لے کر جنت میں جائیں۔ سو آپ اپنی بیشمار اولاد کے ساتھ دوام اور ہمیشگی کے لیے جنت میں جائیں گے اور ابلیس اپنے پیروکاروں کے ساتھ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے دوزخ میں جائے گا۔ سو اس معرکہ کے نتیجہ میں کامیاب حضرت آدم (علیہ السلام) ہیں اور ناکام ابلیس لعین ہے

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 7 الأعراف آیت نمبر 20