أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قَالَ اخۡرُجۡ مِنۡهَا مَذۡءُوۡمًا مَّدۡحُوۡرًا ‌ؕ لَمَنۡ تَبِعَكَ مِنۡهُمۡ لَاَمۡلَــٴَــنَّ جَهَنَّمَ مِنۡكُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ ۞

ترجمہ:

فرمایا یہاں سے ذلیل اور دھتکارا ہوا ہو کر نکل جا، البتہ جو لوگ تیری پیروی کریں گے میں تم سب سے دوزخ کو بھر دوں گا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ” فرمایا یہاں سے ذلیل اور دھتکارا ہوا ہو کر نکل جا، البتہ جو لوگ تیری پیروی کریں گے میں تم سب سے دوزخ کو بھر دوں گا “

کیا تمام اہل بدعت اور گمراہ فرقے دوزخی ہیں ؟ جب ابلیس لعین نے اللہ تعالیٰ کے سامنے یہ چیلنج دیا کہ وہ اصحاب اخلاص کے سوا سب لوگوں کو گمراہ کردے گا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہاں سے مذء وم اور مدحور ہو کر نکل جا۔ علامہ راغب اصفہانی نے لکھا ہے کہ مذء وم کا معنی ہے مذموم، جس کی مذمت کی گئی ہو اور مدحور کا معنی ہے دور کیا ہوا۔ (المفردات، ج 1، ص 243، 221، طبع بیروت) وہ کس چیز سے دور کیا ہوا ہے، مفسرین نے اس کی متقارب تفسیریں کی ہیں، یعنی اللہ کی رحمت سے دور کیا ہوا، یا جنت سے دور کیا ہوا یا توفیق سے دور کیا ہوا۔ 

امام رازی نے اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے کہ یہ آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ تمام اصحاب بدعات اور اصحاب ضلالات جہنم میں داخل ہوں گے کیونکہ وہ سب ابلیس کے تابع ہیں اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : البتہ جو لوگ تیی پیروی کریں گے میں تم سب سے دوزخ کو بھردوں گا۔ (الاعراف : 18) (تفسیر کبیر ج 5، ص 216، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی، بیروت، 1415 ھ) 

یہ درست ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ وہ ابلیس کے پیروکاروں سے جہنم کو بھردے گا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ وہ ہر ہر پیروکار کو جہنم میں ڈال دے گا۔ اس لیے جو اہل بدعت اور اصحاب ضلالت اپنی بدعت اور ضلالت سے کفر تک پہنچ گئے ہوں گے وہ دوام اور خلود کے ساتھ جہنم میں داخل ہوں گے اور جن کی بدعت اور ضلالت کفر سے کم درجہ کی ہوگی، وہ اللہ تعالیٰ کی مشیت پر موقوف ہیں، وہ چاہے تو انہیں کچھ سزا دینے کے بعد دوزخ سے نکال کر جنت میں داخل فرما دے گا اور اگر وہ چاہے تو انہیں ابتداء جنت میں داخل کردے گا۔ جس طرح فاسق اور گناہ کبیرہ کے متکبین بھی ابلیس کے پیروکار ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ تمام فساق کو دوزخ میں نہیں ڈالے گا۔ جس طرح فاسق اور گناہ کبیرہ کے مرتکبین بھی ابلیس کے پیروکار ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ تمام فساق کو دوزخ میں نہیں ڈالے گا۔ بعض فساق کو کچھ عرصہ کے عذاب کے بعد دوزخ سے نکال کر جنت میں داخل فرما دے گا اور اگر وہ چاہے تو انہیں ابتداء جنت میں داخل کردے گا۔ جس طرح فاسق اور گناہ کبیرہ کے مرتکبین بھی ابلیس کے پیروکار ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ تمام فساق کو دوزخ میں نہیں ڈالے گا۔ بعض فساق کو کچھ عرصہ کے عذاب کے بعد دوزخ سے نکال کر جنت میں داخل کردے گا اور بعض فساق کو اپنے فضل سے معاف فرما دے گا اور بعض کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شفاعت سے معاف فرمائے گا اور ان کو دوزخ میں نہیں ڈالے گا اور ابتداء جنت میں داخل فرما دے گا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 7 الأعراف آیت نمبر 18