أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قَالَ فَبِمَاۤ اَغۡوَيۡتَنِىۡ لَاَقۡعُدَنَّ لَهُمۡ صِرَاطَكَ الۡمُسۡتَقِيۡمَۙ‏ ۞

ترجمہ:

اس نے کہا قسم اس بات کی کہ تو نے مجھے گمراہ کیا ہے تو میں بھی تیری صراط مستقیم پر ضرور لوگوں کی گھات میں بیٹھا رہوں گا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ” اس نے کہا قسم اس بات کی کہ تو نے مجھے گمراہ کیا ہے تو میں بھی تیری صراط مستقیم پر ضرور لوگوں کی گھات میں بیٹھا رہوں گا “

اغوا کا معنی : اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ابلیس لعین کا یہ قول نقل فرمایا کہ اے رب تو نے مجھے اغواء کیا یعنی گمراہ کیا۔ اس لیے ہم اغواء کا معنی بیان کررہے ہیں۔ علامہ حسین بن محمد راغب اصفہانی متوفی 502 ھ لکھتے ہیں : (اغواء غوی سے بنا ہے اور) جہالت کی وجہ سے کبھی تو انسان کا کوئی عقیدہ ہی نہیں ہوتا، صحیح نہ فاسد اور کبھی جہالت کی وجہ سے انسان کا فاسد عقیدہ ہوتا ہے اس کو غی اور غوایت کہتے ہیں۔ قران مجید میں ہے : ” ما ضل صاحبکم وما غوای : تمہارے پیغمبر نہ گمراہ ہوئے اور نہ ان کا فاسد عقیدہ تھا ” (النجم :2) “

اس کا معنی عذاب بھی ہے کیونکہ عذاب غوایت کے سبب سے ہوتا ہے۔ قرآن مجید میں ہے : ” فسوف یلقون غیا : وہ عنقریب عذاب میں ڈال دیے جائیں گے ” (مریم :59)

اس کا معنی ناکامی، نامرادی اور محرومی بھی آتا ہے : ” وعسی آدم ربہ فغوی : آدم نے اپنے رب کی (بہ ظاہر) نافرمانی کی تو وہ (جنت سے محروم ہوگئے) (ہ :121) اور جب اللہ تعالیٰ کی طرف اغوا کی نسبت ہو تو اس کا معنی گمراہی کی سزا دینا ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا : ” ولا ینفعکم نصحی ان اردت ان انصح لکم ان کان اللہ یرید ان یغویکم ھو ربکم و الیہ ترجعون : اور اگر میں تمہاری خیر خواہی چاہوں تو میری خیر خواہی تمہیں فائدہ نہیں پہنچا سکتی اگر اللہ نے تمہیں تہاری گمراہی پر عزاب پہنچانے کا ارادہ فرما لیا ہو حالانکہ وہ تمہارا رب ہے اور تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤگے ” (ھود :34) (الفردات، ج 2، ص 478، مطبوعہ مکتبہ نزار مصطفیٰ الباز، مکہ مکرمہ، 1418 ھ)

قرآن مجید اور احادیث میں اغواء کا لفظ زیادہ تر گمراہ کرنے کے معنی میں وارد ہے۔ احادیث میں یہ مثالیں ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” من یطع اللہ و رسولہ فقد رشد و من یعصہما فقد غوی : جس نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی اس نے ہدایت پا لی اور جس نے ان کی نافرمانی کی وہ گمراہ ہوگیا ” (صحیح مسلم، المعہ، رقم الحدیث :48 ۔ مسند احمد، ج 4، ص 256، دار الفکر، طبع قدیم) ۔ 

حدیث معراج میں ہے حضرت جبرئیل نے آپ سے کہا : ” لو اخذت الخمر غوت امتک : اگر آپ خمر (انگور کی شراب) لے لیتے تو آپ کی امت گمراہ ہوجاتی ” (صحیح البخای، ج 2 رقم الحدیث : 3394، صحیح مسلم، الایمان، 272، مسند احمد، ج 2، ص 282)

ابلیس لعین کا جبر اور قدر میں حیران ہونا اور جبر و قدر میں صحیح مذہب : اللہ تعالیٰ نے شیطان کے اس قول کا ذکر سورة الحجر اور سورة ص میں بھی فرمایا ہے : ” قال رب بما اغویتنی لازینن لہم فی الارض ولا غوینہم امعین۔ الا عبادک منہم المخلصین : اس نے کہا اے میرے رب چونکہ تو نے مجھے گمراہ کردیا تو میں ضرور ان کے لیے زمین میں (برے کاموں کو) خوش نما بنا دوں گا، اور میں ضرور ان سب کو گمراہ کردوں گا۔ ماسوا تیرے ان بندوں کے جو صاحب اخلاص ہیں ” (الحجر : 39 ۔ 40) ۔ ” قال فبعزتک لاغوینہم اجمعین۔ الا عبادک منہم المخلصین : اس نے کہا تیری عزت کی قسم میں ضرور ان سب کو گمراہ کردوں گا۔ ماسوا تیرے ان بندوں کے جو صاحب اخلاص ہیں ” (ص :82 ۔ 83) ۔ 

ابلیس لعین نے اپنے کلام میں اللہ تعالیٰ کی طرف بھی گمراہ کرنے کی نسبت کی ہے اور اپنی طرف بھی گمراہ کرنے کی نسبت کی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف گمراہ کرنے کی نسبت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ جبر کا عقیدہ رکھتا تھا۔ یعنی ہر کام اللہ کرتا ہے اور مخلوق مجبور محض ہے۔ اور اپنی طرف گمراہ کرنے کی نسبت سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ قدر کا عقیدہ رکھتا تھا یعنی انسان اور جن ہر فعل کے خالق ہیں اور ان کے افعال میں اللہ تعالیٰ کا کوئی دخل نہیں ہے، سو وہ جبر اور قدر میں متردد تھا اور اس وادی میں حیران اور سرگشتہ تھا۔ 

اہل سنت کا مسلک یہ ہے کہ کسی بھی فعل کا کسب اور ارادہ انسان کرتا ہے اور اس ارادہ کے مطابق اللہ تعالیٰ اس فعل کو پیدا فرماتا ہے۔ سو اللہ عز وجل خالق ہے اور انسان کا سب اور صاحب اختیار ہے اور ادب کا تقاضا یہ ہے کہ انسان نیک اور اچھے افعال کی نسبت اللہ عزوجل کی طرف کرے اور برے افعال کی نسبت اپنے نفس کی طرف کرے جیسے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا : ” واذا مرضت فھو یشفین : اور جب میں بیمار ہوں تو وہی شفا عطا فرماتا ہے ” (الشعراء :80) ۔ 

ابلیس لعین نے عمداً نافرمانی کی اور تکبر کیا اور پھر کہا بما اغویتنی تو نے مجھے گمراہ کیا اور حضرت آدم (علیہ السلام) سے بھولے سے خطا ہوگئی پھر بھی عرض کیا ربنا ظلمنا انفسنا اے ہمارے رب ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا۔ ابلیس لعین کی اکڑ اور بےادبی کی وجہ سے اس کو راندہ درگاہ کیا اور قیامت تک کے لیے اس کے گلے میں لعنت کا طوق ڈالا اور حضرت آدم (علیہ السلام) کے ادب اور ان کی تواضع کی وجہ سے ان کے سر پر تاج کرامت رکھا اور زمین پر ان کو اپنا نائب اور خلیفہ بنایا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 7 الأعراف آیت نمبر 16