حدیث نمبر :618

روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن عمروبن عاص سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب تم مؤذن کوسنو تو تم بھی اسی طرح کہوجو وہ کہہ رہا ہے ۱؎ پھرمجھ پر درودبھیجوکیونکہ جومجھ پرایک درودبھیجتاہے اﷲ اس پر دس رحمتیں بھیجتا ہے۲؎ پھر اﷲ سے میرے لئے وسیلہ مانگو وہ جنت میں ایک جگہ ہے جو اﷲ کے بندوں میں سے ایک ہی کے لائق ہے مجھے امید ہے کہ وہ میں ہی ہوں ۳؎ تو جو میرے لئے وسیلہ مانگے اس پرمیری شفاعت لازم ہے۴؎(مسلم)

شرح

۱؎ اس سے معلوم ہوا کہ کلمات اذان سارے دہرائے “حَیَّ عَلَی الصَّلوٰۃ”بھی”حَیَّ عَلَی الْفَلَاحْ”بھی اور “اَلصَّلوٰۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْم”بھی۔اگلی حدیث میں آرہا ہے کہ “حَیَّ عَلَی الصَّلوٰۃ” اور”حَیَّ عَلَی الْفَلَاحْ” پر لَاحَوْلَ پڑھے۔چاہیئے کہ دونوں ہی کہہ لیا کرے تاکہ دونوں حدیثوں پرعمل ہوجائے۔

۲؎ اس سے معلوم ہوا کہ اذان کے بعددرودشریف پڑھناسنت ہے،بعض مؤذن اذان سے پہلے ہی درود شریف پڑھ لیتے ہیں اس میں بھی حرج نہیں،ان کا ماخذ یہ ہی حدیث ہے۔شامی نے فرمایا کہ اقامت کے وقت درود شریف پڑھناسنت ہے۔خیال رہے کہ اذان سے پہلے یا بعد بلند آواز سے درود پڑھنا بھی جائز بلکہ ثواب ہے،بلاوجہ اسے منع نہیں کہہ سکتے۔

۳؎ خیال رہے کہ وسیلہ سبب اورتوسل کو کہتے ہیں،چونکہ اس جگہ پہنچنا رب سے قرب خصوصی کا سبب ہے،اس لیے وسیلہ فرمایا گیا۔حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانا کہ “امیدکرتا ہوں”تواضع اورانکساری کے لئے ہے ورنہ وہ جگہ حضور کے لئے نامزدہوچکی ہے۔(مرقاۃ و اشعہ)ہمارا حضور کے لیے وسیلہ کی دعاکرنا ایسا ہی ہے جیسے فقیرامیرکے دروازے پرصدا لگاتے وقت اس کی جان ومال کی دعائیں دیتاہے تاکہ بھیک ملے،ہم بھکاری ہیں،حضورداتا،انہیں دعائیں دینا،مانگنے،کھانے کا ڈھنگ ہے۔

۴؎ یعنی میں وعدہ کرتا ہوں کہ اس کی شفاعت ضرورکروں گا۔یہاں شفاعت سے خاص شفاعت مراد ہے،ورنہ حضورہر مؤمن کے شفیع ہیں۔حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت بہت قسم کی ہے۔شفاعت کی پوری بحث اور اس کی قسمیں ہماری کتاب “تفسیرنعیمی” جلدسوم میں دیکھو۔