أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَيٰۤاٰدَمُ اسۡكُنۡ اَنۡتَ وَزَوۡجُكَ الۡجَـنَّةَ فَـكُلَا مِنۡ حَيۡثُ شِئۡتُمَا وَلَا تَقۡرَبَا هٰذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُوۡنَا مِنَ الظّٰلِمِيۡنَ ۞

ترجمہ:

اور اے آدم ! تم اور تمہاری زوجہ (دونوں) جنت میں رہو، سو جہاں سے چاہو تم دونوں کھاو، اور (قصداً ) اس درخت کے قریب نہ جانا ورنہ تم ظالموں میں سے ہوجاؤگے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ” اور اے آدم ! تم اور تمہاری زوجہ (دونوں) جنت میں رہو، سو جہاں سے چاہو تم دونوں کھاو، اور (قصداً ) اس درخت کے قریب نہ جانا ورنہ تم ظالموں میں سے ہوجاؤگے “

ابلیس لعین کو جنت سے نکالنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) اور ان کی زوجہ حضرت حوا کو جنت میں سکونت عطا فرمائی اور ایک معین درخت سے ان کو کھانے سے منع فرمایا اور اس ممانعت کا معنی یہ تھا کہ وہ قصد اور ارادہ سے اس درخت سے نہ کھائیں، اگر وہ بالغرض قصد اور ارادہ سے اس درخت سے کھاتے تو وہ معاذ اللہ ظالموں میں سے ہوجاتے لیکن انہوں نے نسیان اور اجتہادی خطا سے اس درخت سے کھایا اس لیے ظالموں سے نہیں تھے اور نہ ان کا یہ فعل گناہ تھا اور ان کا اس پر توبہ اور استغفار کرنا محض ان کی تواضع اور انکسار تھا۔ اور یہ حضرت آدم (علیہ السلام) کا مقام بلند تھا اور ان کے دل میں خوف خدا کا غلبہ تھا کہ بھولے سے ممنوع کام کیا پھر بھی توبہ اور استغفار کرتے رہے۔ اس کی پوری تفصیل اور تحقیق کے لیے البقرہ : 35 کا مطالعہ فرمائیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 7 الأعراف آیت نمبر 19