قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ ثُمَّ انْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِیْنَ(۱۱)

تم فرمادو (ف۲۷) زمین میں سیر کرو پھر دیکھو کہ جھٹلانے والوں کا کیسا انجام ہوا (ف۲۸)

(ف27)

اے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم ان تمسخُر کرنے والوں سے کہ تم ۔

(ف28)

اور انہوں نے کُفر و تکذیب کا کیا ثمرہ پایا ۔

قُلْ لِّمَنْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِؕ-قُلْ لِّلّٰهِؕ-كَتَبَ عَلٰى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَؕ-لَیَجْمَعَنَّكُمْ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ لَا رَیْبَ فِیْهِؕ-اَلَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ(۱۲)

تم فرماؤ کس کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے (ف۲۹) تم فرماؤ اللہ کا ہے (ف۳۰) اس نے اپنے کرم کے ذمہ پر رحمت لکھ لی ہے(ف۳۱) بے شک ضرورتمہیں قیامت کے دن جمع کرے گا (ف۳۲) اس میں کچھ شک نہیں وہ جنہوں نے اپنی جان نقصان میں ڈالی (ف۳۳) ایمان نہیں لاتے

(ف29)

اگر وہ اس کا جواب نہ دیں تو ۔

(ف30)

کیونکہ اس کے سوا اور کوئی جواب ہی نہیں ہے اور وہ اس کے خلاف نہیں کر سکتے کیونکہ بُت جن کو مشرکین پُوجتے ہیں وہ بے جان ہیں ، کسی چیز کے مالک ہونے کی صلاحیت نہیں رکھتے ، خود دوسرے کے مملوک ہیں ، آسمان و زمین کا وہی مالک ہو سکتا ہے جو حَیّ و قَیوم ، ازلی و ابدی ، قادرِ مطلق ہر شئے پر متصرِّف و حکمران ہو ، تمام چیزیں اس کے پیدا کرنے سے وجود میں آئی ہوں ، ایسا سوائے اللہ کے کوئی نہیں اس لئے تمام سَمَاوی و اَرضی کائنات کا مالک اس کے سوا کوئی نہیں ہو سکتا ۔

(ف31)

یعنی اس نے رحمت کا وعدہ کیا اور اس کا وعدہ خلاف نہیں ہو سکتا کیونکہ وعدہ خلافی و کذب اس کے لئے محال ہے اور رحمت عام ہے دینی ہو یا دنیوی اپنی معرفت اور توحید اور علم کی طرف ہدایت فرمانا بھی رحمت میں داخل ہے اور کُفّار کو مہلت دینا اور عقوبت میں تعجیل نہ فرمانا بھی کہ اس سے انہیں توبہ اور انابت کا موقع ملتا ہے ۔ (جمل وغیرہ)

(ف32)

اور اعمال کا بدلہ دے گا ۔

(ف33)

کُفر اختیار کر کے ۔

وَ لَهٗ مَا سَكَنَ فِی الَّیْلِ وَ النَّهَارِؕ-وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ(۱۳)

اور اسی کا ہے جوکچھ بستا ہے رات اور دن میں (ف۳۴)اور وہی ہے سنتا جانتا (ف۳۵)

(ف34)

یعنی تمام موجودات اسی کی مِلک ہے اور وہ سب کا خالِق ، مالک ، ربّ ہے ۔

(ف35)

اس سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں ۔

قُلْ اَغَیْرَ اللّٰهِ اَتَّخِذُ وَلِیًّا فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ هُوَ یُطْعِمُ وَ لَا یُطْعَمُؕ-قُلْ اِنِّیْۤ اُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ اَوَّلَ مَنْ اَسْلَمَ وَ لَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ(۱۴)

تم فرماؤ کیا اللہ کے سوا کسی اور کو والی بناؤں (ف۳۶) وہ اللہ جس نے آسمان و زمین پیدا کیے اور وہ کھلاتا ہے اور کھانے سے پاک ہے (ف۳۷) تم فرماؤ مجھے حکم ہوا ہے کہ سب سے پہلے گردن رکھوں (ف۳۸) اور ہر گز شرک والوں میں نہ ہونا

(ف36)

شانِ نُزول : جب کُفّار نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے باپ دادا کے دین کی دعوت دی تو یہ آیت نازل ہوئی ۔

(ف37)

یعنی خَلق سب اس کی محتاج ہے وہ سب سے بے نیاز ۔

(ف38)

کیونکہ نبی اپنی اُمّت سے دین میں سابق ہوتے ہیں ۔

قُلْ اِنِّیْۤ اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ(۱۵)

تم فرماؤ اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو مجھے بڑے دن (ف۳۹) کے عذاب کا ڈر ہے

(ف39)

یعنی روزِ قیامت ۔

مَنْ یُّصْرَفْ عَنْهُ یَوْمَىٕذٍ فَقَدْ رَحِمَهٗؕ-وَ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْمُبِیْنُ(۱۶)

اس دن جس سے عذاب پھیر دیا جائے (ف۴۰) ضرور اس پر اللہ کی مِہْر(رحمت)ہوئی اور یہی کھلی کامیابی ہے

(ف40)

اور نجات دی جائے ۔

وَ اِنْ یَّمْسَسْكَ اللّٰهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهٗۤ اِلَّا هُوَؕ-وَ اِنْ یَّمْسَسْكَ بِخَیْرٍ فَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ(۱۷)

اور اگر تجھے اللہ کوئی بُرائی (ف۴۱)پہنچائے تو اس کے سوا اس کا کوئی دور کرنے والا نہیں اور اگر تجھےبھلائی پہنچائے (ف۴۲) تو وہ سب کچھ کرسکتا ہے (ف۴۳)

(ف41)

بیماری یا تنگ دستی یا اور کوئی بلا ۔

(ف42)

مثل صحت و دولت وغیرہ کے ۔

(ف43)

قادرِ مطلق ہے ہر شے پر ذاتی قدرت رکھتا ہے ، کوئی اس کی مشیّت کے خلاف کچھ نہیں کر سکتا تو کوئی اس کے سوا مستحقِ عبادت کیسے ہو سکتا ہے ، یہ ردِ شرک کی دل میں اثر کرنے والی دلیل ہے ۔

وَ هُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهٖؕ-وَ هُوَ الْحَكِیْمُ الْخَبِیْرُ(۱۸)

اور وہی غالب ہے اپنے بندوں پر اور وہی ہے حکمت والا خبردار

قُلْ اَیُّ شَیْءٍ اَكْبَرُ شَهَادَةًؕ-قُلِ اللّٰهُ- شَهِیْدٌۢ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ-وَ اُوْحِیَ اِلَیَّ هٰذَا الْقُرْاٰنُ لِاُنْذِرَكُمْ بِهٖ وَ مَنْۢ بَلَغَؕ-اَىٕنَّكُمْ لَتَشْهَدُوْنَ اَنَّ مَعَ اللّٰهِ اٰلِهَةً اُخْرٰىؕ-قُلْ لَّاۤ اَشْهَدُۚ-قُلْ اِنَّمَا هُوَ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ وَّ اِنَّنِیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَۘ(۱۹)

تم فرماؤ سب سے بڑی گواہی کس کی (ف۴۴) تم فرماؤ کہ اللہ گواہ ہے مجھ میں اور تم میں (ف۴۵)اور میری طرف اس قرآن کی وحی ہوئی ہے کہ میں اس سے تمہیں ڈراؤں (ف۴۶) ا ور جن جن کو پہنچے(ف۴۷) تو کیا تم (ف۴۸) یہ گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے ساتھ اور خدا ہیں تم فرماؤ (ف۴۹) کہ میں یہ گواہی نہیں دیتا (ف۵۰) تم فرماؤ کہ وہ تو ایک ہی معبود ہے (ف۵۱) اور میں بیزار ہوں ان سے جن کو تم شریک ٹھہراتے ہو (ف۵۲)

(ف44)

شانِ نُزول : اہلِ مکّہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہنے لگے کہ اے محمّد (صلی اللہ علیہ وسلم) ہمیں کوئی ایسا دکھائیے جو آپ کی رسالت کی گواہی دیتا ہو ۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی ۔

(ف45)

اور اتنی بڑی اور قابلِ قبول گواہی اور کس کی ہو سکتی ہے ۔

(ف46)

یعنی اللہ تعالٰی میری نبوّت کی شہادت دیتا ہے اس لئے کہ اس نے میری طرف اس قرآن کی وحی فرمائی اور یہ ایسا معجِزہ ہے کہ تم باوجود فصیح بلیغ صاحبِ زبان ہونے کے اس کے مقابلہ سے عاجز رہے تو اس کتاب کا مجھ پر نازل ہونا اللہ کی طرف سے میرے رسول ہونے کی شہادت ہے ، جب یہ قرآن اللہ تعالٰی کی طرف سے یقینی شہادت ہے اور میری طرف وحی فرمایا گیا تاکہ میں تمہیں ڈراؤں کہ تم حکمِ الٰہی کی مخالفت نہ کرو ۔

(ف47)

یعنی میرے بعد قیامت تک آنے والے جنہیں یہ قرآن پاک پہنچے خواہ وہ انسان ہوں یا جن ان سب کو میں حکمِ الٰہی کی مخالفت سے ڈراؤں ۔ حدیث شریف میں ہے کہ جس شخص کو قرآنِ پاک پہنچا گویا کہ اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اور آپ کا کلام مبارک سنا ۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کِسرٰی اور قیصر وغیرہ سلاطین کو دعوتِ اسلام کے مکتوب بھیجے (مدارک و خازن) اس کی تفسیر میں ایک قول یہ بھی ہے کہ کہ ”مَنْ بَلَغَ ”میں مَنْ مرفوعُ المحل ہے اور معنٰی یہ ہیں کہ اس قرآن سے میں تم کو ڈراؤں اور وہ ڈرائیں جنہیں یہ قرآن پہنچے ۔ ترمذی کی حدیث میں ہے کہ اللہ تر و تازہ کرے اس کو جس نے ہمارا کلام سنا اور جیسا سنا ویسا پہنچایا بہت سے پہنچائے ہوئے سننے والے سے زیادہ اہل ہوتے ہیں اور ایک روایت میں ہے سننے والے سے زیادہ اَفۡقَہ ہوتے ہیں اس سے فقہا کی منزلت معلوم ہوتی ہے ۔

(ف48)

اے مشرکین ۔

(ف49)

اے حبیبِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ۔

(ف50)

جو گواہی تم دیتے ہو اور اللہ کے ساتھ دوسرے معبود ٹھہراتے ہو ۔

(ف51)

اس کا کوئی شریک نہیں ۔

(ف52)

مسئلہ : اس آیت سے ثابت ہوا کہ جو شخص اسلام لائے اس کو چاہئے کہ توحید و رسالت کی شہادت کے ساتھ اسلام کے ہر مخالف عقیدہ و دین سے بیزاری کا اظہار کرے ۔

اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَعْرِفُوْنَهٗ كَمَا یَعْرِفُوْنَ اَبْنَآءَهُمْۘ-اَلَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ۠(۲۰)

جن کو ہم نے کتاب دی (ف۵۳) اس نبی کو پہچانتے ہیں (ف۵۴) جیسا اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں (ف۵۵) جنہوں نے اپنی جان نقصان میں ڈالی وہ ایمان نہیں لاتے

(ف53)

یعنی عُلَمائے یہود و نصارٰی جنہوں نے توریت و انجیل پائی ۔

(ف54)

آپ کے حُلیہ شریف اور آپ کے نعت و صفت سے جو ان کتابوں میں مذکور ہے ۔

(ف55)

یعنی بغیر کسی شک و شبہ کے ۔