اصطلاحات حدیث کی تنقیح و تحقیق

اب آپ امام احمد رضا کی فن حدیث میں مہارت ، اصول حدیث اور اصطلاحات حدیث کے بیان میں ان کی تحقیق وتنقیح ملاحظہ فرمائیں ۔

امام احمد رضا محدث بریلوی نے ایک رسالہ ’’ منیر العین فی حکم تقبیل الابھامین ‘‘ تصنیف فرمایا جس میں حضور پر نور ، شافع یوم النشور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے نام اقدس کو سنکر انگو ٹھے چومنے کا جواز واستحباب ثابت فرمایا۔، مخالفین نے بعض محدثین کے اقوال کا سہارا لیکر یہ ثابت کرنے کی سعیٔ بے جا اور ناکام کوشش کی تھی کہ اس سلسلہ میں کوئی حدیث صحیح نہیں بلکہ موضوع و بے اصل ہے ۔لہذا یہ عمل شریعت میں کوئی حیثیت نہیں رکھتا ۔

امام احمدرضا قدس سرہ نے اس رسالہ نافعہ میں اصول حدیث کی وہ معرکۃ الآرا بحث فرمائی کہ ہر وہ شخص جو اس علم سے شغف رکھتاہے پڑھ کر جھوم اٹھے اور مخالف حیران و ششدر رہ جائے ۔

مقاصد حسنہ ، موضوعات کبیر اور رد المحتار میں بس اس قدر ہے کہ انگوٹھے چومنے کے سلسلہ میں کوئی مرفوع حدیث درجۂ صحت کو نہیں پہونچی ، بس کیا تھا مخالفین نے بے پر کی اڑادی کہ اس سلسلہ میں تمام روایت موضوع ومن گڑہت ہیں ۔ اس پر امام احمد رضا نے خوب جم کر نہایت نفیس بحث فرمائی جو فتاوی رضویہ میں تقریبا دوسو صفحات پر مشتمل ہے جس کی تلخیص کی بھی یہاں گنجائش نہیں پھر بھی ’’ مشتے نمونہ از خروارے ‘‘ کے طور پر چند اہم ، گوشوں کی نشاندھی قارئین کے ذوق کی تسکین کا باعث ضرور ہوگی ۔

فرماتے ہیں :۔

خادم حدیث پر روشن کہ اصطلاح محدثین میں نفی صحت نفی حسن کو بھی مستلزم نہیں نہ کہ نفی صلاح تماسک وصلوح تمسک، نہ کہ دعوی وضع وکذب ۔ عند التحقیق ان احادیث پر جیسے باصطلاح محدثین حکم صحت نہیں ،یوں ہی حکم وضع وکذب بھی ہر گز مقبول نہیں بلکہ بہ تصریح ائمۂ فن کثرت طرق سے جبر نقصان متصور اور عمل علماء قبول قدماء حدیث کے لئے قوی دیگر، اور نہ سہی تو فضائل اعمال میں حدیث ضعیف بالا جماع مقبول ،اور اس سے بھی گذر یئے تو بلاشبہ یہ فعل اکابر دین سے مروی ومنقول اور سلف صالح میں حفظ صحت بصرو روشنائی چشم کیلئے مجرب ومعمول ، ایسے محل پر بالفرض اگر کچھ نہ ہو تو اسی قدر سند کافی بلکہ اصلا نقل بھی نہ ہو تو تجربہ وافی کہ آخر اس میں کسی حکم شرعی کا ازالہ نہیں ،نہ کسی سنت ثابتہ کا خلاف ،اور نفع حا صل تو منع باطل ، بلکہ انصاف کیجئیے تو محد ثین کا نفی صحت کو احادیث مرفوعہ سے خاص کرنا صاف کہہ رہا ہے کہ وہ احادیث موقوفہ کو غیر صحیح نہیں کہتے ۔پھر یہاں حدیث موقوف کیا کم ہے ولہذا مولانا علی قاری نے عبارت مذکورہ کے بعد فرمایا :۔

قلت واذا ثبت رفعہ الی الصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ فیکفی للعمل بہ لقولہ علیہ الصلوۃ والسلام ’’ علیکم بسنتی وسنۃ الخلفاء الراشدین ۔‘‘

الاسرار المرفوعہ فی الاخبار الموضوعہ ۔ موضوعات کبیر ص۲۱۰

یعنی صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس فعل کا ثبوت عمل کو بس ہے کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں ’’ میں تم پر لازم کرتا ہوں اپنی سنت اور اپنے خلفاء راشدین کی سنت ‘‘ رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین ۔

اس کے بعد افادات کا سلسلہ شروع فرمایا جو تیس کے عدد پہ جاکر رکا ۔

افادئہ اول میں فرمایا :۔

’’محدثین کا کسی حدیث کو فرمانا کہ صحیح نہیںاس کے یہ معنی نہیں ہوتے کہ غلط وباطل ہے ‘‘ پھر اس دعوی پر دلائل قائم فرماتے ہوئے حلیہ شرح منیہ ، صواعق محرقہ ، اذکار امام نووی ، موضوعات کبیر ، جواہرالعقدین ، شرح مواہب ، شرح صراط مستقیم اور مرقات کی تصریحات پیش فرمائیں اور پھر حدیث کے مراتب کی طرف اشارہ کیا ۔

فرما تے ہیں :۔

صحیح کے بعد صحیح لغیرہ، پھر حسن لذاتہ، پھر حسن لغیرہ، پھر ضعیف بضعف قریب اس

حدتک کہ صلاحیت اعتبار باقی رکھے۔ جیسے اختلاط راوی ، یا سوء حفظ، یاتدلیس وغیرہا ۔اول کی تین بلکہ چاروں قسم کو ایک مذہب پر اسم ثبوت متناول ہے اور وہ سب محتج بہا ہیں اورآخر کی قسم صالح ، متابعات وشواہد میں کام آتی ہے اور جابر سے قوت پاکر حسن لغیرہ بلکہ صحیح لغیرہ ہوجاتی ہے اس وقت وہ صلاحیت احتجاج اور قبول فی الاحکام کا زیور گرانبھاپہننی ہے ،ورنہ دربائہ فضائل تو آپ ہی مقبول وتنہا کافی ہے۔ پھر درجۂ ششم میں ضعف قوی ووہن شدید ہے، جیسے راوی کے فسق وغیرہ قوادح قویہ کے سبب متروک ہونا بشرطیکہ ہنوز سرحد کذب سے جدائی ہو ، یہ حدیث احکام میں احتجاج درکنار اعتبار کے بھی لائق نہیں ،ہاں فضائل میں مذہب راجح پر مطلقا اور بعض کے طور پر بعد انجبار بتعدد مخارج وتنوع طرق منصب قبول وعمل پاتی ہے کما سنبینہ ان شاء اللہ تعالیٰ (ان شاء اللہ عنقریب اس کی تفصیلات آرہی ہیں )۔

پھر درجہ ہفتم میں مرتبۂ مطروح ہے جس کا مدار وضاع، کذاب یا متہم بالکذب ہو ، یہ بدترین اقسام ہے بلکہ بعض محاورات کی روسے مطلقا اور ایک اصطلاح پر اس کی نوع اشد یعنی جسکا مدار کذب پر ہو عین موضوع ،یانظر تدقیق میں یوں کہئے کہ ان اطلاقات پر داخل موضوع حکمی ہے ، ان سب کے بعد درجہ موضوع کا ہے ، یہ بالا جماع نہ قابل انجبار نہ فضائل وغیرہ کسی باب میں لائق اعتبار بلکہ اسے حدیث کہنا ہی توسع وتجوز ہے، حقیقۃً حدیث نہیں ،محض مجہول وافتراء ہے والعیاذ باللہ تبارک وتعالیٰ ۔

طالب تحقیق ان چند حرفوں کو یاد رکھے کہ باوصف وجازت محصل وملخص علم کثیر ہیں اور شاید اس تحریر نفیس کے ساتھ ان سطور کے غیر میں کم ملیں ،وللہ الحمد والمنۃ۔

یہ مختصر جملے بلاشبہ اپنے دامن میں کثیر اوراہم معانی و مفاہیم لئے ہوئے ہیں جسکی شرح و بسط کیلئے دفتر درکار ، یہ ہمارے امام کی خصوصیات سے ہے کہ الفاظ کم سے کم ہوتے ہیں مگر معانی کا سمندر موجزن ہوتاہے ۔

امام احمد محدث بریلوی نے ہر حیثیت سے اصولی بحث فرمائی ہے اور حق تحقیق اداکردیاہے ۔راوی کی جہالت سے حدیث پر کیا اثر پڑتاہے اور مجہول کی کتنی قسمیں ہیں ۔پھر ہر ایک کے جداگانہ احکام اور ہر حکم واثر کی متعلقہ کتب سے تحقیق انیق ، نیز حدیث منقطع کی وضاحت میں علماء اعلام کے اقوال سے تائید ، مضطرب منکر اور مدرج کا مقام وحیثیت ، راوی کے مبھم ہونیکا اثر ، اسباب طعن کی تعداد وشمار اور ان میں سبب غفلت کی حیثیت ، متروک راوی کا مقام ، یہ تمام باتیں نہایت تحقیق سے بیان فرمائیں ، جنکا خلاصہ یہ ہے کہ حدیث ان میں سے کسی وجہ کے سبب موضوع نہیں ہوتی۔ پھر آپ نے ان پندرہ وجوہ کی نشاندھی فرمائی جن کے سبب حدیث موضوع ہو جاتی ہے ، بیان ایسا جامع کہ دوسری کتب میں اس کی نظیر نہ ملے ۔

خود فرماتے ہیں :۔

یہ پندرہ باتیں ہیں کہ اس جمع و تلخیص کے ساتھ ان سطور کے سوانہ ملیں گی۔ غرض کہ ہر افادہ میں نہایت نفیس اور معرکۃ الآراء بحث ہے جس کی سطر سطر امام احمدرضا محدث بریلوی کی فن حدیث میں مہارت تامہ کی روشن دلیل ہے ، پوری کتاب اصول حدیث کا بحر ذخار ہے جس کا ہر افادہ پھوٹتا ہوا آبشار ہے ، من شاء التفصیل فلیرجع الیہ ۔